افغانستان ؛تودے گرنے سے مرنیوالوں کی تعداد2700ہو گئی،4ہزار لاپتہ

افغانستان ؛تودے گرنے سے مرنیوالوں کی تعداد2700ہو گئی،4ہزار لاپتہ

  

                                                    کابل(مانٹیرنگ ڈیسک+آن لائن+ اے این این) افغانستان میں پہاڑی تودے کی زد میں آ کردب جانے والے 27سو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں،پہاڑ سرکنے سے دو گاﺅں ملیا میٹہوگئے جبکہ ایک ہزار گھر تباہ ہوئے،علاقے سے لوگوں کو محفوظ مقام پرمنتقلی شروع کردی ہے۔افغانستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گورنر بدخشاں نے اعلان کیا ہے کہ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 2700 سے زائد ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیاہے اور اتوار کو سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔امریکی صدر باراک اوباما نے واقعے ّپر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کاموں میں تعاون کی پیش کش کی ہے۔ واقعہ جمعہ کی شام صوبہ بدخشان میں پیش آیا تھا جہاں ایک پہاڑ سرک کر دو دیہات ہارگو اور آب بارک پر جا گرا تھا۔علاقے میں امدادی سرگرمیاں جارہی ہیں جن میں افغانستان کے امدادی اداروں کے علاوہ امریکہ اور نیٹو فورسز کے اہلکار اور بڑی تعداد میں رضا کار اور بھاری مشینری حصہ لے رہی ہے،لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور خوراک ودیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور اس مقصد کے لئے فوجی ہیلی کاپٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق بارشوں کے باعث مزیدتودے کرنے کا خطرہ ہے اور ہزاروں افراد نے قریبی ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ پولیس کی گاڑیاں شدید سردی میں کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے والوں کے لیے خوراک اور پانی لے کرپہنچتی ہیں۔مرنے والوں میں بیشتر افراد وہ ہیں جو پہلے گرنے والے تودے میں دبنے والوں کی مدد کے لیے وہاں گئے تھے کہ ایک بڑا تودہ گر گیا۔مقامی لوگ بیلچوں کی مدد سے ملبہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔شمال مشرقی صوبے بدخشاں کے گورنر کا کہنا ہے کہ بارشوں کے باعث سینکڑوں گھر پہاڑوں سے بہہ کر آنے والی چٹانوں اور کیچڑ میں دب گئے۔ جمعہ کو افغانستان میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں پر رہتی ہے۔بدخشاں کے پولیس کمانڈر فضل الدین کے مطابق 215 خاندانوں کا ہارگو نامی گاو¿ں تما م خاندانوں سمیت مٹی کے تودے تلے دب گیا ہے۔ اس بات کے امکانات بہت ہی کم ہیں کہ کیچڑ اور تودوں کے اس انبار کے نیچے سے کسی کو بچایا جا سکے گا۔ اس کی ایک بڑی وجہ علاقے کا دور دراز ہونا اور امدادی مشینری کا دستیاب نہ ہونا ہے۔افغان نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ نے تقریبا ایک ہزار خاندانوں کو متاثر کیا جبکہ 300 خاندان اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی تعداد 2 ہزار کے قریب ہوسکتی ہے۔ متاثرہ علاقے میں آباد 700 خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -