معاشی اصلاحات نہ لانے کی وجہ سے معشیت پر بوجھ بڑھ رہا ہے ،اقتصادی ماہرین

معاشی اصلاحات نہ لانے کی وجہ سے معشیت پر بوجھ بڑھ رہا ہے ،اقتصادی ماہرین

  

                                    لاہور(انوسٹی گیشن سیل)قرضوں میں خاطر خواہ اضافہ اور معاشی اصلاحات نہ لانے کی وجہ سے معیشت پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔انرجی سیکٹر میں بہتری نہ لانا،قرضوں کا غیر تعمیری کاموں پر مصرف،سرکلر ڈیٹ میں اضافہ،اداروں میں تصادم،لاءاینڈ آرڈر کی بری حالت کے باعث ملک کے اقتصادی ماہرین نے حکومت کی معاشی بحالی کی پالیسیوں پر تحفظا ت کا اظہار کر دیا۔سابق وزیر خزانہ اور اقتصادی امور کے ماہر ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہاکہ حکومت کا زور قرضوں پر ہے لیکن اصلاحات نظر نہیں آرہیں۔انرجی سیکٹر بری طرح متاثر ہے ،سرکلر ڈیٹ دوبارہ بڑھ جاتا ہے،بجلی چوری اور ٹیکس ریکوری کا نظام بہتر نہیں کیا گیا۔حکومت آئی ایم ایف کی 6.7بلین ڈالر کی مقروض ہے،دو ارب کے یوروبانڈ اور ایک ارب تھر ی جی لائسنس کی نیلامی سے آیا جبکہ تقریباًایک ارب سے زائد ڈولپمنٹ انسٹی ٹیوشن سے قوم خزانے میں آیا ہے لیکن معاشی استحکام او ر اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے حکومتی کاوشیں تسلی بخش نہیں ہیں۔ماہر معاشیات ڈاکٹر قیس اسلم نے کہاکہ عا لمی مما لک خاص مقاصد کےلئے قرضے دیتے ہےں ، پاکستان میں تعلیم اوربجلی سر فہرست ہے جبکہ آئی ایم ایف کا شرح سود کم ہے لیکن سخت شرائط کی وجہ سے قرض لینے والے کو فائدہ کم ہوتا ہے۔حکومت کو معاشی بدحالی کےلئے مینڈیٹ دیا گیا ہے اگرذاتیات کی بجائے ملکی مفادات پر خرچ کیا گیا تو معیشت میں بہتری آسکتی ہے۔لیکن حکومت کی معاشی پالیسیاں چند لوگوں کے مفادات پر مبنی نظر آرہی ہیں جس سے پاکستان کو فائدہ نہیں ہو گا اور سول اور بیوروکریسی میں پرانے اور کرپٹ چہروں سے بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی ،ماہر معاشیات ڈاکٹر عمران علی نے کہاکہ قرضوں میں اضافے کے ساتھ ذرائع آمدن میں بہتری نہیں لائی جا رہی جو حکومت اور ملک کےلئے مشکلات کا باعث بنیں گے۔یورو بانڈ اور جی تھری سے آنے والی آمدنی موٹر وے اور میٹروبس جیسے غیر تعمیری منصوبوں پر لگانے سے بہتری نہیں آسکتی۔گڈ گورننس کا فقدان،اداروں میں تصادم جیسے حالات کی صورت میں بیرونی انوسٹمنٹ محض بیانات اور دوروں تک محدود ہے پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہوتا نظر نہیں آرہا۔

 اقتصادی ماہرین

مزید :

صفحہ آخر -