کیا عمران خان احتجاج کو تحریک کی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

کیا عمران خان احتجاج کو تحریک کی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ ...
کیا عمران خان احتجاج کو تحریک کی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
کیپشن: qudrat ullah ch

  

تجزیہ:- قدرت اللہ چودھری

           عمران خان 11مئی کو گزشتہ برس کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ 11مئی کا انتخاب انہوں نے انتخاب کی ”سالگرہ“ کے حوالے سے کیا ہے اگرچہ ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن ہمارے خیال میں انہوں نے ایک سال کے بعد احتجاج کا سلسلہ شروع کر کے کسی اچھی سیاسی حکمت عملی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اگر ہارنے والوں کے مﺅقف کو پیش نظر رکھا جائے تو پاکستان میں ہونے والا کوئی بھی الیکشن کبھی دھاندلی سے مبرا نہیں ہوا۔ ہر الیکشن پر ہارنے والوں نے دھاندلی کا الزام لگایا، البتہ ایک الیکشن ایسا تھا جس پر دھاندلی کا الزام لگتے ہی الزام لگانے والوں نے اگلی حکمت عملی بھی طے کر لی ،77ءکے الیکشن 7مارچ کو ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں ہوئے تھے، قومی اسمبلی کے ان انتخابات پر اپوزیشن جماعتوں کے قومی اتحاد نے دھاندلی کا الزام لگا دیا اور کوئی وقت ضائع کئے بغیر صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا جو تین دن بعد 10مارچ کو ہونے والے تھے۔صوبائی انتخابات کے بائیکاٹ سے اندازہ ہو گیا کہ اپوزیشن کے الزام میں وزن ہے، بائیکاٹ کے اگلے ہی روز قومی اتحاد نے انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک شروع کر دی، اس دوران دھاندلی زدہ الیکشن میں بننے والی قومی اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں آ گئیں، ارکان نے حلف اٹھا لئے، نئی حکومتیں بن گئیں لیکن اپوزیشن نے اپنی تحریک جاری رکھی، اس تحریک میں جلسوں جلوسوں پر تشدد کے نئے نئے انداز اپنائے گئے، خواتین کی ایک ”نتھ فورس“ وجود میں آئی جس نے خواتین کے جلوسوں میں ناشائستہ حرکات کیں لیکن احتجاج کا یہ سلسلہ رک نہ سکا، ملک کے تین شہروں میں جزوی مارشل لاءلگا دیا گیا لیکن یہ سلسلہ پھر بھی جاری رہا، مظاہرین پر گولی چلانے کے مسئلے پر ایک ہی دن تین بریگیڈیئروں نے استعفا دیدیا، یہ سلسلہ چلتا رہا اور صرف اسی وقت رک سکا جب جنرل ضیاءالحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاءلگا دیا۔

چیزیں موازنے سے سمجھ میں آتی ہیں پاکستان میں انتخابی دھاندلیوں کا الزام تو ہر الیکشن پر لگا لیکن تحریک صرف ایک ہی الیکشن کے خلاف چلی اور اس وقت تک بلا روک ٹوک چلتی رہی جب تک وہ حکومت ختم نہیں ہو گئی جس کے خلاف یہ تحریک چل رہی تھی۔

عمران خان الیکشن میں دھاندلی کا الزام تو شروع سے لگا رہے ہیں شروع شروع میں انہوں نے احتجاج بھی کیا لیکن وہ نتائج تسلیم کر کے اسمبلیوں میں بیٹھ گئے اور خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت بھی بنالی اس دوران وہ وقتاً فوقتاً انتخابی دھاندلی کا تذکرہ کر کے یادیں تازہ کرتے رہے۔ چند دن تک جلوس بھی نکالے اور دھرنے بھی دیئے لیکن پھر یہ سلسلہ ختم ہو گیا، اب الیکشن کی سالگرہ پر انہوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے تو لامحالہ طور پر یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا یہ احتجاج ایک روزہ ہو گایا پھر وہ اس سلسلے کو تحریک بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ویسے اگر وہ تحریک چلانا چاہتے تھے تو اس کے لئے بہترین تاریخ 12مئی 2013ءتھی لیکن انہوں نے اس تاریخ کو گزرنے دیا حتیٰ کہ ایک سال بیت گیا، اب اگر وہ تحریک شروع بھی کرنا چاہیں تو شاید یہ ٹیک آف نہ کر سکے، اس کی وجوہ یہ ہیں۔

-1ان کی جماعت نے صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنائی، لیکن اتحادی زیادہ عرصے تک ان کے ساتھ نہیں چل سکے۔-2اب ان کی جماعت کے اندر انتشار کی کیفیت ہے، فارورڈ بلاک کا معاملہ دب ضرور گیا ہے لیکن ختم نہیں ہوا۔-3ابھی دو روز پہلے انہوں نے اپنے ایک وزیر اور ایک مشیر کو برطرف کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارٹی کے اندر سب اچھا نہیں ہے۔ -4الیکشن کے وقت پارٹی کے حامی بہت پرجوش تھے۔ بیرون ملک سے عطیات بھی دل کھول کر دئے جا رہے تھے لیکن چند ہی ماہ میں یہ مطالبے ہونے لگے کہ عطیات کا حساب دیا جائے۔ خوردبرد کے الزامات بھی لگے۔-5عمران خان کے چچا زاد بھائیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور ان پر ایسے الزامات لگائے جس سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ گھر کے بھیدی لنکا ڈھا رہے ہیں۔-6یہ بات تسلیم کی جانی چاہئے کہ اس وقت عمران خان کی حمایت کی سطح وہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے تھی، یا نتائج آنے کے فوراً بعد تک تھی۔ اس کے بعد ان کی مقبولیت کا گراف گرا ہے، بلند نہیں ہوا ، حتیٰ کہ ان کے حق میں ہر وقت رطب اللسان رہنے والے لوگ بھی مایوسی کا اظہار کرتے پائے گئے۔ -7عمران خان وفاقی حکومت کی کارکردگی کوہدف تنقید بناتے رہے لیکن ان کی اپنی صوبائی حکومت کی کارکردگی بھی کوئی ایسی مثالی نہیں رہی، بہت سے وزیروں پر الزام لگے اور برطرفیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ الزام غلط نہیں تھے۔-8ایک سال کے اندر پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا ہے کہ اب کوئی تحریک نہیں اٹھائی جا سکتی۔-9تحریک کا موسم کب کا گزر چکا اور ایسے موسم بار بار نہیں آتے اور نہ باقاعدگی سے آتے ہیں دیکھیں اگلا موسم کب آتا ہے؟

مزید :

تجزیہ -