فوج اور حکومت میں اختلافات نہیں، آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ بھی ایک پیج پر ہیں ۔ایاز صادق

فوج اور حکومت میں اختلافات نہیں، آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ بھی ایک پیج پر ...

  

                                       لاہور(آئی این پی )سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ فوج اور حکومت میں کوئی اختلاف نہیں ‘آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ بھی ایک پیج پر ہیں‘کچھ لوگ جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی سازش کر رہے ہیں‘عمران خان کو ذاتیات اور سیاست کے بجائے پاکستان کا سوچنا چاہیے ‘عمران خان یوم سیاہ ضرور منائیں لیکن اگر ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہین تو سپریم کورٹ جانے سے پہلے الیکشن ٹربیونل جائیں ‘ عمران خان کے بارے میں بولنے کےلئے میرے پاس بہت ہے لیکن میں ان کی باتوں کا جواب نہیں دینا چاہتا ‘ جب تک تحقیقات نہیں ہوتیں ایم کیو ایم کے الزامات کو جائز یا ناجائز نہیں کہا جا سکتا ‘تحفظ پاکستان بل ترمیم کے ساتھ دوبارہ اسمبلی میں آ سکتا ہے اور حکومت کے پاس پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا آپشن بھی موجود ہے ‘ احتجاج کرنا سب کا جمہوری حق ہے مگر جمہوریت کی مضبوطی کےلئے سب کو کردار ادا کرنا چاہیے ۔ وہ ہفتہ کو یہاں جامعہ اشرفیہ میں مولانا فضل رحیم سے ان کے بھائی ولی اللہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کےلئے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ سردار ایاز صادق نے کہاکہ عمران خان پہلے دن سے ہی دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں اور ان کو چاہیے کہ وہ دھاندلی کے خلاف یوم سیاہ منانے یا احتجاج کے بجائے دھاندلی کے متعلق ثبوت الیکشن ٹربیونل میں جائیں وہ میرے خلاف بھی دھاندلی کے الزامات لگاتے ہیں اور میں ان کی باتوں کا جواب دے سکتا ہوں لیکن میں نہیں دوں گا ۔انہوں نے کہاکہ تحفظ پاکستان بل قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے اور یہ بل دوبارہ ترمیم کے ساتھ قومی اسمبلی میں آ سکتا ہے لیکن پہلے اس بل پر سینٹ سے پہلے تجاویز آئیں گی اس کے بعد ہی وہ دوبارہ اسمبلی میں آئے گا اور کچھ جماعتیں اب بھی اس بل کا حصہ نہیں بننا چاہتیں اور حکومت کے پاس بھی اس بل کو منظور کروانے کےلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا آپشن بھی موجود ہے جسے ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جا سکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ فوج اور حکومت کے درمیان کوئی تناﺅ نہیں اور آئی ایس آئی اور وزیر داخلہ بھی ایک پیج پر ہیں مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ سازش کے تحت اداروں میں ٹکراﺅ اور محاذآرائی کی سازشیں کر رہے ہیں جنہیں ہم سب نے مل کر ناکام بنانا ہے ۔

 ایاز صادق

مزید :

صفحہ آخر -