وزیر داخلہ اور عمران خان کے بیانات، کنفیوژن پر کنفیوژن

وزیر داخلہ اور عمران خان کے بیانات، کنفیوژن پر کنفیوژن
وزیر داخلہ اور عمران خان کے بیانات، کنفیوژن پر کنفیوژن
کیپشن: ch khadim husaain

  

تجزیہ، چودھری خادم حسین

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی تازہ ترین گفتگو بھی گتھیوں کو سلجھانے کی بجائے کنفیوژن میں اضافہ کر رہی ہے۔ چودھری نثار علی خان کابینہ کے انتہائی بااثر اور سینئر رکن ہیں جن کو مذاکرات کے فرائض سونپے گئے تھے وہ چاروں طرف سے مایوسی کی فضا اور گفتگو کے باوجود ہمیشہ مثبت تاثر دیتے رہے، بعض وزراءکی طرف سے دیئے جانے والے بیانات کی وجہ سے جو صورت حال بنی اس میں بھی وہ الگ تھلگ رہ کر مفاہمت اور مصالحت کی کوشش کرتے رہے۔ مذاکرات کے حوالے سے بھی امید دلاتے تھے اور زبردست دباﺅ کے باوجود بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی بات کرتے رہے۔ حتیٰ کہ پارلیمنٹ میں بھی اپنے زور خطابت سے اسی موقف کے حق میں دلائل دیئے۔ اب وہی وزیر داخلہ وہ بات کہنے پر مجبور ہو گئے، جس کے بارے میں ان سطور میں پر بتایا جاتا رہا کہ طالبان کی رابطہ کمیٹی والے خود کو فتح مند تصور کرتے ہیں اور ان کے سامنے کسی اور کی شمع نہیں جل رہی، حتیٰ کہ سید یوسف شاہ نے مولانا سمیع الحق کی بزرگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے از خود ہی ترجمان کے فرائض سنبھال لئے تھے۔ یہ حضرات بہت بڑی بڑی باتیں کرتے رہے، حتیٰ کہ طالبان کی طرف سے از خود یہ مطالبہ پیش کر دیا کہ وزیرستان میں ایک آزاد خطہ قائم کیا جائے جہاں طالبان آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بھی اس کی تردید کر دی تھی اور اب تو چودھری نثار علی خان نے یہ کہہ کر بھانڈا پھوڑ دیا کہ رابطہ کمیٹی والے حضرات اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ اندر جو فیصلہ ہوتا باہر آ کر یہ بالکل الٹ بات کرتے تھے۔ وزیر داخلہ نے زور دے کر حکومت اور پاک فوج کے درمیان کسی نوعیت کے اختلاف کی تردید کی۔ ان کے مطابق طالبان اسیروں کی رہائی بھی فوج کی مشاورت ہی سے ہوئی۔ ان کی یہ بات یوں بھی درست ہے کہ یہ حضرات زیر حراست تھے تو اس ادارہ کی تحویل میں تھے جو احکام کا پابند ہوتا ہے۔

دوسری طرف عمران خان ہیں جو11مئی سے انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے جا رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جاری رہے گی۔ عمران خان نے سابق چیف جسٹس کے خلاف دھاندلی میں معاونت کا الزام لگا دیا ہے۔ یہ بعد از وقت ہے اگر ان کے ساتھ یہی سب کچھ ہوا جو وہ کہہ رہے ہیں تو ان کو یہ الزام اس وقت کیوں یاد نہ آیا جب انہوں نے شروع میں دھاندلی کا الزام عائدکیا۔ انہوں نے چیف جسٹس کے کسی عمل پرکوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ وہ بہادر آدمی ہیں، ان کو اس وقت کیا خوف تھا جو اب نہیں ہے۔

عمران خان نے جہاں فوج اور آئی ایس آئی کی حمایت کی۔ وہاں اس وضاحت سے حیران کر دیا گیا کہ انہوں (عمران) نے آئی ایس آئی سے کبھی کوئی پیسہ نہیں لیا۔ یاد داشت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ عمران خان کے خلاف یہ الزام کسی نے عائد نہیں کیا تھا۔ اب اگر وہ ازخود صفائی دے رہے یا تردید کر رہے ہیں تو اس کی بھی کوئی وجہ ہو گی۔ ان کو تفصیل سے بتانا چاہئے، ویسے عمران خان بہتر جانتے ہیں کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ عمران خان نے کبھی تحریک دیکھی نہیں، اس لئے ان کو تحریک کے لوازمات کی بھی خبر نہیں۔

ادھر ڈاکٹر طاہر القادری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فی الحال پاکستان آ کر تحریک کی قیادت سے گریز کا کہا ہے اور اعلان کیا ہے کہ11مئی کو یوم احتجاج ضرور منایا جائے گا۔ اس دوران مظاہرے ہوں گے اور وہ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے تحریک کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کہتے ہیں وہ آخری ضرب لگانے کے وقت پر آ کر یہ فرض پورا کریں گے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان عوامی تحریک ایک روزہ احتجاج کرے گی اور سیاسی طاقت کے ساتھ عوامی حمایت کا مظاہرہ کیا جائے گا اور وہ اپنے انقلاب کا اعلان رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شہر اعتکاف ہی میں کریں گے۔ شائد ڈاکٹر11مئی سے آگے جا کر عمران خان کو تقویت نہیں دینا چاہتے کہ وہ خود کو بڑا لیڈر تصور کرتے ہیں اور ان کی جماعت والے ان کو قائد انقلاب کہتے ہیں، لہٰذا وہ انقلاب ہی کی قیادت کریں گے۔

مزید :

تجزیہ -