نئے کپڑے اور زیور نہ لانے پر دو باراتیں واپس

نئے کپڑے اور زیور نہ لانے پر دو باراتیں واپس
نئے کپڑے اور زیور نہ لانے پر دو باراتیں واپس

  

فیصل آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دو دلہنوں سے ایڈوانس جہیز لینے کے باوجود دولہا والوں کی طرف سے دلہنوں کے لئے نئے کپڑے اور زیورات نہ لاسکے جس پرمیرج ہال میں ہنگامی آرائی اور ہاتھا پائی کے بعد دونوں دولہا بغیر دلہنوں کے بارات واپس لے کر لودھرا ں روانہ ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق لودھرا کے حاجی محمد یعقوب کے بیٹے کامران اور حیدر کا رشتہ فیصل آباد کے محلہ اسلام نگر کی دو بہنوں ش اور ف کے ساتھ تہہ ہوا تھا۔ دلہن والوں نے چند روز قبل تقریبات 5 لاکھ کا جہیز فیصل آباد سے لودھراں دلہاﺅں کے گھر پہنچا دیا۔ یعقوب اپنے دونوں بیٹوں کی بارات لے کر گلستان میرج ہال پہنچا تو دلہنوں کے اہلخانہ نے دلہنوں کے لئے کپڑے اور زیورات طلب کئے تو معلوم ہوا کہ دلہا والے چند پرانے استعمال شدہ کپڑوں کے جوڑے ساتھ لائے ہیں جبکہ وعدے کے مطابق زیورات بھی دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس دوران گلستان میرج ہال میں دلہنوں والوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور ساتھ جب اس کی اطلاع دونوں دلہنوں کو ملی تو انہوں نے بھی شادی سے انکار کردیا چنانچہ میرج ہال میدان جنگ بن گیا۔ بعدازاں اہل محلہ اور بارات میںموجود بعض معززین کی مداخلت سے مسجد میں بیٹھ کر جب بات چیت شروع ہوئی تو اس دوران معلوم ہوا کہ آنے والے دونوں دلہا کامران اور حیدر پہلے بھی دو، دو مرتبہ شادی کرچکے ہیں اور لڑکی والوں سے جہیز لے کر ہضم کرگئے ہیں۔ چنانچہ دونوں دولہا کے باپ حاجی یعقوب سے تحریری شٹام پیپر لکھوایا گیا جس میں حاجی یعقوب کو پابند کیا گیا کہ دونوں دلہنوں کے جہیز کی مالیت 3 لاکھ روپے اور میرج ہال کا کرایہ اور کھانے کا تقریباً دو لاکھ روپیہ دو ہفتے کے اندر اندر لڑکی والوں کو ادا کرے گا۔ بصورت دیگر حاجی یعقوب نے دو ہفتوں میں ادائیگی نہ کی تو رشتہ کرانے والا شخص جان محمد لڑکی والوں کو ادائیگی کرنے کا پابند ہوگا۔ چنانچہ اس تحریری معاہدہ کے بعد یعقوب اپنے دونوں بیٹوں اور باراتیوں کو بغیر دلہنوں کے واپس لودھرا روانہ ہوگیا۔

مزید :

فیصل آباد -