جیو اور جنگ گروپ کا سول و فوجی قیادت کوخط

جیو اور جنگ گروپ کا سول و فوجی قیادت کوخط
جیو اور جنگ گروپ کا سول و فوجی قیادت کوخط
کیپشن: geo

  

لاہور(نیو زڈیسک )جیو اور جنگ گروپ نے سول و فوجی قیادت کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ان کے خلاف جاری مہم کا نوٹس لینے اور ملازمین کو سکیورٹی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ۔ جیو اور جنگ گروپ کی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ جمعے کواعلیٰ سول اور عسکری حکام کو ایک خط لکھا گیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ ان کے خلاف جاری مہم کا نوٹس لیا جائے اور ادارے کے دفاتر اور ملازمین کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔جیو گروپ اور بی بی سی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ خط آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، ہوم سیکرٹریز، اعلیٰ پولیس افسران اور ڈی جی رینجرز کو بھیجاگیا ہے۔گو کہ بظاہر یہ ایک خط ہے لیکن لگتا ہے کہ حکومت اور فوجی قیادت پر دبائو ڈالا گیا ہے۔ خط میں کہاگیا ہے کہ سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے کے بعد سے جیوگروپ کے ملازمین کو ڈرانے، دھمکانے کے واقعات میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ وزیرداخلہ متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کریں کہ وہ سیکیورٹی کے لیے جنگ گروپ سے رابطہ کریں ورنہ ہم عالمی مشنز، اور صحافیوں کی عالمی انجمنوں کو شکایت کریں گے۔خط میں لکھا گیا ہے کہ ملازمین کو دھمکانے کے واقعات ایک ایسی سطح تک پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے اسٹاف کو اس بات کا خوف ہو گیا ہے کہ دفتر آتے جاتے انھیں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، ہمارے دفاتر کا گھیراو بھی کیا گیا ہے۔خط میں وزیر داخلہ سے کہا گیا ہے کہ” ہمیں خوف ہے کہ کسی روز کچھ بھی ہو سکتا ہے“کئی سیاسی جماعتیں بھی جیو اور جنگ کے خلاف ہو گئی ہیں،ہر روز لاحق خطرات اور بدنام کرنے کی اس مہم کا نوٹس لےا جائے ۔خط میں کہاگیا ہے کہ ان دھمکیوں کو اگر سرکاری ’بے خبر‘ اہلکاروں کے بیانات کے پس منظر میں دیکھا جائے تو معاملہ اور بھی سنگین نظر آتا ہے۔ہمیں ریاست مخالف، فوج مخالف پکارا جا رہا ہے اور ہم پر غدار ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ ہمارے ملازمین، لکھنے والوں، تقسیم کاروں اور ادارتی عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے، ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کی ایک منظم اور جارحانہ مہم شروع کر دی گئی ہے۔جنگ کے مطابق ’باوردی‘ حلقوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے واقعات کے پس منظر میں ایسے واقعات سنگین صورتحال اختیار کر جاتے ہیں۔خط میں وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کریں کہ وہ پیشگی اقدامات کے لیے جنگ گروپ سے رابطہ کریں۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہم عالمی مشنز، اور صحافیوں کی عالمی انجمنوں کو صورتحال سے آگاہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

مزید :

لاہور -Headlines -