وہ طیارہ جو راڈار پر دیکھا نہیں جا سکتا

وہ طیارہ جو راڈار پر دیکھا نہیں جا سکتا
وہ طیارہ جو راڈار پر دیکھا نہیں جا سکتا
کیپشن: British plane

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ نے 1.3 ارب پاؤنڈ (216ارب پاکستانی روپے سے زائد) رقم تحقیق پر خرچ کرکے F-35 جنگی طیارے کا ایسا ماڈل تیر کیا ہے جس کے بارے میں برطانوی ایئرفورس کا دعویٰ تھا کہ اسے راڈار پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ برطانوی محکمہ دفاع 10 کروڑ پاؤنڈ فی طیارے کے حساب سے اسے 48 طیارے خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی میڈیا کے مطابق راڈار پر نظر نہ آنے والا یہ طیارہ دراصل راڈار سے اوجھل نہیں۔ انکشاف کیا گیا ہے کہ روسی اور چینی راڈار اس طیارے کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ’’رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘‘ کی ترجمان کی جانب سے بھی اس خامی کا اعتراف کیا گیا ہے۔ الزبتھ کونٹانا کے مطابق راڈار ٹیکنالوجی ترقی کرگئی ہے اور یہ بات ہمارے لئے باعث پریشانی ہے۔ برطانیہ کا یہ F-35 طیارہ 1300 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنے مخصوص ڈیزائن اور پینت کے باعث اسے راڈار پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ لیکن اب تازہ انکشاف کے بعد برطانوی حکومت میڈیا کے نشانے پر ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی پر عوام کے اربوں روپے کیوں ضائع کردئیے گئے؟

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -