پاک چین اقتصادی راہداری معاہدے

پاک چین اقتصادی راہداری معاہدے
پاک چین اقتصادی راہداری معاہدے

  



طویل انتظار کے بعد چین کے صدر شی چنگ پنگ نے پاکستان کا اہم ترین دورہ کیا۔ اس سے قبل سال رواں میں جنوری میں اُن کے بھارتی دورے سے مُلک بھر میں کئی افواہوں نے جنم لیا، جس سے لگتا تھا کہ وہ شاید پاکستان نہ آئیں، چونکہ چین کے لئے بھی اس دورہ کا مزید التوا میں رکھنا اُن کے قومی مفاد میں نہ تھا اور مزید برآں چین کے جنوب مغربی صوبے سنکیانگ میں یغور مسلمانوں کی بغاوت کو پاکستان کے انتہا پسند عناصر کی پشت پناہی سے ہونے والی صورت حال میں کمی ہونے اور عساکر پاکستان کی طرف سے کی گئی ضربِ عضب کو کامیابی سے ہمکنار ہوتے دیکھ کر چین کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور اس کے ساتھ پاکستانی حکام کی طرف سے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے قیام کا عندیہ پا کر چین کی قیادت کے لئے یہ دورہ کرنا آسان ہو گیا۔ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن میں فوج کی9بٹالین کا شامل ہونا اور اس کو فضائی حدود سے مدد کا ملنا پاکستانی حکومت کی طرف سے سنجیدگی کا اظہار تھا، جس سے چین کے حکام کا یقین مزید پختہ ہو گیا کہ اقتصادی کوریڈور پر ہونے والی اقصادی سرگرمیوں کی بھرپور حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔ چین کے صدر کے دورہ کے موقعہ پر پاکستان کو 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی نوید سنائی گئی۔ اس اعلان سے امریکہ، بھارت اور یورپ میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی۔ پچھلے دِنوں ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے نیشنل ایڈومنٹ فار ڈیمو کریسی کے پروگرام میں رضا رومی کا تجزیہ اس کی صدیق کرتا ہے۔ رضا رومی نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے لئے یہ تاریخی لمحات ہیں۔ بشرطیکہ پاکستان نے بلوچستان میں ہونے والی بغاوت پر قابو پا لیا۔ اگر ایسا ہو گیا تو اس کے مطابق خطہ میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے اور یو اے ای میں ہونے والی ترقی کی طرز پر گوادر پورٹ پر ایک بہت بڑی مارکیٹ کے قیام کا پیش خیمہ محسوس ہو رہا ہے۔ گوادر پورٹ چین کے حوالے کئے جانے کا معاہدہ ہو چکا ہے، جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ چینی سرمایہ کاروں کو ترقی کی منازل طے کرنے کے لئے پاکستانی نیوی کے استعمال کا حق دے دیا گیا ہے۔ چینی قومی قیادت عرصہ دراز سے اس اقتصادی ویژن پر کام کر رہی تھی اور موجودہ معاہدہ اِسی اقتصادی ویژن کو عملی شکل دینے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ شاہراہ ریشم کے گردو پیش اقتصادی زون کا قیام اِسی وژن کا اہم جزو ہے، جس سے چین اقتصادی سرگرمیوں کا دائرہ کار جنوبی ایشیا سے ہوتا ہوا روس کے ذریعے یورپ اور جنوبی افریقہ تک پھیل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے پچھلے چند برسوں میں روس کے ساتھ اپنے سفارتی اور سیاسی تعلقات کی ازسر نو تجدید کی ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اقتصادی شاہراہ کی تعمیر، جس پر چین کا زور ہے، کے لئے وہ ہمہ وقت مالی اور تکنیکی معاونت کے لئے تیار ہے۔ اقتصادی شاہراہ اور شاہراہ ریشم کے ذ ریعے چین اپنے منصوبہ جات کو علاقائی سلک روڈ کے ذریعے بین الاقوامی روٹ سے منسلک کرے گا۔ مندرجہ بالا منصوبہ جات میں سرمایہ کاری چین کے اقتصادی اور تکنیکی ماہرین کی زیر نگرانی ہو گی۔ تعمیراتی کاموں میں ٹھیکہ دینے سے لے کر منصوبوں کی تکمیل کے مراحل انہی ماہرین کے ذریعے ہو گی۔ یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو امداد کی ہیئت کو تبدیل کر دے گی۔ چین اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ سے محفوظ تر کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہے، اس لئے اگر ہماری بیورو کریسی نے معاہدات کے اندر کئے گے ان محفوظ اقدامات کو سبوتاژ نہ کیا تو یہ سرمایہ کاری پاکستان میں بہت بڑی تبدیلی کا مظہر ہو گی۔ یہ سرمایہ کاری بنیادی طور پر توانائی، شاہرات، ریل، لاہور کے لئے ماس ٹرانزٹ اور پاک چائنہ فائبر آپٹک کے شعبہ جات کے لئے کی جائے گی۔

توانائی کے میدان میں شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والے پراجیکٹس کو اہمیت دی جائے گی۔ ان عظیم منصوبہ جات کے لئے وسیع پیمانے پر زرمبادلہ کے ذخائر کی فراہمی سے غیر ملکی منڈیوں تک رسائی کے لئے انفراسٹرکچر لنکس تعمیر ہوں گے۔ یہ ڈھانچہ جنوب مشرقی ایشیاء، مشرقی وسطیٰ اور وسطیٰ ایشیاء سے ہوتا ہوا یورپ تک محیط ہو گا۔ موجودہ معاہدات میں اس بات کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے کہ کامیابی سے تکمیل ہونے تک سرمایہ کاری46ارب ڈالر سے بڑھا کر 62ارب ڈالر بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ منصوبہ جات چین کے اس عزم کی نشاندہی کرتے ہیں چین ایشیاء اور یورپ میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے میں کتنا سنجیدہ ہے، کیونکہ اس خطہ میں امریکہ کے کاروباری اور خارجہ پالیسی کے شعبوں میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ انفراسٹرکچر میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے سے چین کی معیشت کو بھی سہارا ملے گا اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اقتصادی ترقی کا پہیہ تیز ہو گا۔ بیروز گاری میں کمی آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں کے بڑھنے سے ملکی دولت میں اضافہ ہو گا اور خوشحالی کا دور دورہ ہو گا۔ بشرطیکہ پاکستانی حکام اور افسر شاہی اس سرمایہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ اس سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور موزوں حالات پیدا کرنا پاکستانی اقتصادی منیجروں کا کام ہے۔اگر اس بھرپور اقتصادی انقلاب کی مہمیز نہ دی گئی تو یہ اس ملک کی بدقسمتی ہو گی اس لئے یہ پاکستان کی سیاسی قیادت کی دانش کا امتحان ہے۔ بلوچستان میں امن قائم کرنا پاکستان کی بہت بڑی ضرورت ہے، کیونکہ اقتصادی انقلاب کا زیادہ زور اِسی خطہ میں ہو گا۔ اگر بلوچوں اور پشتونوں کو تحفظ کا احساس دِلا دیں اور اُن کو باور کرا دیں کہ یہ ان کی آئندہ نسلوں کی خوشحالی کا پیش خیمہ ہے تو وہ بھی اس انقلاب کی کا میابی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ان منصوبہ جات میں زیادہ تر بلوچ عوام کے روزگار کا بندوبست کیا جانا ضروری ہے تاکہ خوشحالی بلوچستان کے عوام کے دروازہ تک پہنچے۔ اس کے ساتھ سیکیورٹی کے انتظامات اس خوبی سے کئے جائیں کہ چینی ماہرین اپنے آپ کو غیر محفوظ نہ سمجھیں اور یکسوئی کے ساتھ اس پروگرام کی تکمیل میں لگ جائیں تو یہ پاکستان کی معیشت کے لئے بہت بڑے انقلاب کی نوید بھی ہو سکتی ہے۔

اقتصادی راہداری کے معاہدے کے بعد ہمارے کچھ سیاسی عناصر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس کے بنیادی روٹ میں کچھ تبدیلیاں ہونے جا رہی ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت کے لئے ان عناصر کے تحفظات کو دور کرنا از حد ضروری ہے، کیونکہ یہ سیاسی گروہ کسی نہ کسی شکل میں بلوچستان کی اندرونی سیاست میں کچھ نہ کچھ عمل دخل رکھتے ہیں۔ قومی ترقی کے اس بڑے پلان پر حکومت کا تمام سیاسی فریقوں کو اعتماد میں لینا نہایت ضروری ہے۔ چین اور پاکستان کے اشتراکِ عمل کے ان منصوبہ جات اور راہداری کے تاریخ ساز معاہدوں کی کامیابی سے تکمیل کے لئے پوری قوم کا تعاون اور اعتماد ہونا نہایت ہی ضروری ہے، کیونکہ اقتصادی ترقی کے پھل کو سمیٹنے کے لئے کچھ نہ کچھ قربانی دینی ضروری ہے۔ چینی اقتصادی ترقی کا مطالعہ کرنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ چینی قوم نے کئی ڈیم بنانے کے لئے کئی بڑے شہروں کو ختم کیا اور چینی قوم نے اجتماعی ترقی کی ان کاوشوں کی کامیابی کے لئے ذاتی اَنا پرستی کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی اور خوش دلی سے نقل مکانی قبول کی۔ ہمیں بھی اسی جذبہ کے ساتھ خوشحالی کے اس پروگرام کے متعلق اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر فیصلے کرنے پڑیں گے، کیونکہ ان معاہدات کی بنا پر جہاں چین کو بے پناہ اقتصادی اور سیاسی فوائد حاصل ہوں گے، وہاں پاکستان کی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔ اس وقت پاکستان چین کی بیرونی تجارت کا حجم 13سے15 ارب ڈالر ہے، جو ان منصوبہ جات کی تکمیل پر چار گنا ہونے کا امکان ہے، کیونکہ اس روٹ کی تکمیل تین سال کے اندر ہونے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے لئے چینی ماہرین تین تین شفٹوں میں کام کریں گے۔ اس کی تکمیل کے بعد اقتصادی پروگرام کا اثر دوسری بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعلقات بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ نظر آتے ہیں، اس لئے ہمیں دانش مندی کے ساتھ قومی ضرورت کے ساتھ آگے بڑھنا ہو گا۔ اس کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے روس نے بھی تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور مستقبل قریب میں اس کے ساتھ دو بلین ڈالر کے بین الاقوامی تجارت کے معاہدہ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ پاکستانی ماہرین اقتصادیات ان معاہدات کی تکمیل کے لئے حکومت کا ہاتھ بٹائیں اور تمام فریق دیانت داری، محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں، کیونکہ اس وقت ہماری اجتماعی دانش کا امتحان ہے۔ قوموں کی زندگی میں اس قسم کے مواقع کبھی کبھی آتے ہیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانا ہمارا اجتماعی قومی فریضہ ہے تاکہ ہماری قوم اقتصادی بھنور سے کسی طور پر باہر آ سکے۔

مزید : کالم