نامناسب تعلقات سے انکار پر اے ایس آئی نے جھوٹے مقدمات بنا دیئے ،خاتون کا لزام

نامناسب تعلقات سے انکار پر اے ایس آئی نے جھوٹے مقدمات بنا دیئے ،خاتون کا لزام

  

لاہور(کرائم سیل) کاہنہ پولیس کے اے ایس آئی کی ستائی ہوئی خاتون دفتر "پاکستان" پہنچ گئی، نا مناسب تعلقات استوار کرنے سے انکار پر دو دیوروں پر جھوٹے مقدمات درج کر لئے، متاثرہ خاتون اور اہل خانہ کاالزام۔ نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وارڈ نمبر 15کاہنہ نو کی رہائشی طاہرہ بی بی اور اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ طاہرہ بی بی کے دودیور منیر اور عرفان سائیکلوں پر پھیری لگا کر فروٹ کا سامان فروخت کرتے ہیں ۔ چند روزقبل تھانہ کاہنہ کا اے ایس آئی مدد علی کانسٹیبل طارق،دیگر پولیس اہلکاروں کے ہمراہ رات کے وقت دیواریں پھلانگ کرہمارے گھر آیا اور دونوں دیوروں کو زبردستی تھانے لے گئے ۔ہم پوچھتے رہے کہ ان کا قصور کیاہے لیکن انھوں نے کہا کہ تھانے آ جاؤ جبکہ جاتے ہوئے گھر کی تلاشی کے دوران سینکڑوں روپے کی نقدی اور طلائی بالیا ں بھی اپنے ساتھ لے گئے ، عرفان کی بیوی ثمینہ جو کہ حاملہ تھی نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا تو انھوں نے اس کو تشدد کا نشانہ بنایا ۔ طاہرہ بی بی نے کہاجب میں تھانے پہنچی تو اے ایس آئی مدد علی نے مجھ سے نازیبا گفتگو شروع کر دی اور کہتا رہا کہ تم میرے ساتھ چلو میں دونوں کو چھوڑ دوں گا، میرے انکار پراس نے کہا کہ جاؤ اب ان کو جیل جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ،میرے دونوں دیوروں پر پولیس نے منشیات کے جھوٹے مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ دونوں ہی بچوں اورہمارے گھر کے کفیل ہیں۔ انہوں نے سی سی پی او لاہور سے اپیل کی ہے کہ اس کیس کی انکوائری کروائی جائے اور اگرعرفان اور منیر گناہ گار ہیں تو انھیں سزادی جائے اور اگر مدد علی اور دوسر ے پولیس اہلکار ذمہ دار ہیں تو ان کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس حوالے سے اے ایس آئی مدد علی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ طاہرہ بی بی کے بیان میں کوئی صداقت نہیں ،عرفان اور منیر منشیات فروش ہیں۔ ہمیں اطلاع ملی جس پر ہم نے ان کے گھر میں ریڈ کیا اور ہمیں بھاری مقدار میں چرس ملی جس کے مقدمات درج کر لئے گئے ہیں، اب ان سے تفتیش کی جا رہی ہے ۔ خاتون نے جوبھی الزامات مجھ پر لگائے ہیں ان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔

مزید :

علاقائی -