الطا ف حسین کو غلطی کا احساس ہو گیا ،امید ہے ایسی غلطی پھر نہیں دہرائیں گے ،پرویزرشید

الطا ف حسین کو غلطی کا احساس ہو گیا ،امید ہے ایسی غلطی پھر نہیں دہرائیں گے ...

  

کراچی ( اے این این ) وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹرپرویزرشیدنے کہاہے کہ ایم کیوایم کے قائدالطاف حسین کو اپنی غلطی کااحساس ہوگیاہے، امیدہے کہ ایسی غلطی پھر نہیں دہرائیں گے اورنہ ہی کوئی دوسرا ایسی غلطی کرے گا ، قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں عمران خان نے بھی غیرمناسب زبان استعمال کی ان کی گفتگو کی ریکارڈنگ موجود ہے، خان صاحب شکر کریں کہ سنائی نہیں گئی ، پانی کی تقسیم وفاق کی نہیں ارساء کی ذمہ داری ہے، عسکری قیادت حکومت کا حصہ ہے ، قومی سلامتی کے معاملات پر ان کی رائے لی جاتی ہے، ضرب عضب آپریشن اور کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچا نا نواز شریف کا عہد ہے ۔ ’’ ادب اور اہل قلم ا پر امن معاشرے کیلئے کردار ‘‘کے عنوان سے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرویزرشیدنے کہاکہ وزیر اعظم کی ہدایت پر پیمرا نے میڈیا الطاف حسین کی تقریر دکھانے کا نوٹس لیا ہے اسی طرح اس تقریرپر سیاسی جماعتوں کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے الطاف حسین کو خود بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور انہوں نے معافی مانگ لی ،میں امید کرتاہوں کہ وہ ایسی غلطی پھر نہیں دہرائیں گے اور نہ کوئی دوسرا ایسی غلطی کرے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا آئین اظہار رائے کی آزادی کواس بات سے مشروط کرتا ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں اورعدلیہ پر تنقید نہیں کر سکتے ، ہم سب نے آئین کی پاسداری کرنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ اپنے وقت ہو گا ، گزشتہ این ایف سی ایوارڈ کو اسحاق ڈار نے تکمیل تک پہنچایا تھا اوراس سے پہلے این ایف سی ایوارڈ جس طرح ہوتے تھے سب اس سے واقف ہیں ، صوبوں کے حصے ماضی کے مقابلے میں بہت بڑھ گئے ہیں پچھلے این ایف سی ایوارڈ میں بھی 50فیصد سے زائد حصہ صوبوں کو ملاہے اور اس باراس کی مالیت میں مزید اضافہ ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں جتنی اکائیاں ہیں انہیں مسلم لیگ( ن) کے دور میں کبھی شکایت نہیں ہوئی ۔پانی کا کتنا بڑا مسئلہ تھا نواز شریف کی حکومت نے پانی کی تقسیم کا فارمولا طے کیا آج تک اس کو تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس میں کوئی دورائے نہیں ارسا کی اجازت کے بغیر ایک قطرہ پانی کا کہیں سے نہیں آ سکتا ، ارسا میں چاروں صوبوں کی نمائندگی موجود ہوتی ہے ، ارسا ایک خودمختار ادارہ ہے ،پانی کی تقسیم وفاق کی نہیں ارساء کی ذمہ داری ہے۔ این ایف سی ایوارڈ بھی نواز شریف حکومت میں ملنا شروع ہوایہی نہیں بلکہ اس میں اضافہ ہوا اورکسی کیلئے کوئی کمی نہیں ہوئی ۔ پاکستان کی اکائیوں کی مضبوطی پاکستان کی مضبوطی و خوشحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ہر وقت کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ پاکستان کو کہیں نہ کہیں لڑایا جائے کبھی سعودی عرب اور کبھی امریکا کے ساتھ لڑایا جائے اوراگریہ سب نہ ہو سکے تو پارلیمنٹ اور فوج کو آپس میں لڑا دیا جائے یہ ان کی سیاست ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی مثبت پروگرام نہیں وہ منفی باتیں کرتے رہتے ہیں عمران خان نے بھی پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں غیرمناسب زبان استعمال کی ان کی گفتگو کی ریکارڈنگ سوشل میڈ یا پر موجود ہے خان صاحب شکر کریں کہ سنائی نہیں گئی عمران خان کی باتوں کو سنجیدہ نہ لیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عسکری قیادت اور حکومت کوئی الگ نہیں بلکہ عسکری قیادت حکومت کا حصہ ہے ، قومی سلامتی کے معاملات پر ان کی رائے سے پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں کیونکہ ان کے پاس معلومات ہوتی ہیں اور یہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس طرح سسٹم ہوتا ہے کہ جب پالیسی بنائی جاتی ہے تو قومی سلامتی کے اداروں سے رائے لی جاتی ہے پھر حکومتیں فیصلہ کرتی ہیں حکومت اور عسکری قیادت ایک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن میں جتنی کامیابیاں ملی ہیں اس کا کریڈٹ سب کو جاتا ہے ،کراچی میں پچھلے بیس سال سے قتل و غارت کا بازار گرم ہے لیکن کیو ں کسی نے نہیں سوچا کہ کراچی کو پر امن بنانا ہے ،نواز شریف نے کراچی میں سب کو جمع کیااور آپریشن شروع کیا ، ضرب عضب آپریشن اور کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچا نا نواز شریف کا عہد ہے سب مل کر اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے بہت زیادہ اختیارات ہیں وفاقی حکومت کا کام معیشت کی بحالی ہے وفاقی حکومت جب معیشت کی بحالی کیلئے کام کرتی ہے تو ڈالر کی قیمت کم ہوتی ہے اور روپیہ مستحکم ہوتا ہے اوریہ کسی ایک صوبے کامعاملہ نہیں بلکہ چاروں صوبوں کو فائدہ ہوتا ہے ۔ اگر بجلی پاکستان میں آئے گی تو چاروں صوبوں کو ملے گی ، کراچی سے پشاور تک موٹروے بنے گی تووہ کسی ایک صوبے کی نہیں پورے پاکستان کی موٹروے ہو گی

مزید :

صفحہ اول -