چار شخصیتوں میں مماثلتیں؟

چار شخصیتوں میں مماثلتیں؟
چار شخصیتوں میں مماثلتیں؟

  

ذوالفقار مرزا بھی مشکل میں ہیں ۔

کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس بھی مشکل میں ہیں ۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین بظاہر مشکل میں ہیں۔

عمران خان جسٹس (ر) وجیہہ کی وجہ سے مشکل میں ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب شخصیات نہ خود کو بدلنے کے لئے تیار ہیں۔ اور نہ ہی اپنی مشکلات کو کم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ میں کوشش کرونگا کہ ان کی مشکلات میں مماثلت تلاش کر کے بات کو سمجھنے کی کوشش کی جا سکے۔

پہلی بات تو یہ سب شخصیات جو بھی کر رہی ہیں ۔ اس پر تنقید ہو رہی ہے۔ لیکن ان سب کواس تنقید کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اور وہ اپنا کام جاری رکھنے پر پرعزم ہیں۔

ذوالفقار مرز ا اور جسٹس وجیہہ دونوں نے اپنی اپنی قیادت کو للکار دیا ہے۔ جسٹس (ر)وجیہہ بھی عمران خان پر کم وبیش اسی قسم کے الزامات لگا رہے ہیں جیسے ذوالفقار مرزا سابق صدر آصف زرداری پر لگا رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی اعلان کیا ہے کہ حالات جس قدر مرضی خراب ہوں ۔ وہ تحریک کی قیادت نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اب استعفیٰ نہیں دیں گے۔ اسی طرح قومی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس نے بھی اعلان کیا ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ پاکستانی ٹیم جتنے مرضی میچ ہار جائے ۔ وہ بھی قومی ٹیم کے کوچ سے استعفیٰ نہیں دیں گے۔ ماضی میں جو استعفیٰ دینے تھے دے دئے۔ اب نہیں دونگا۔

ذوالفقار مرز ا کس مشن پر ہیں۔ وہ پہلے ایم کیو ایم کے خلاف بولے۔ بولے کیا خوب بولے۔ لیکن پھر خاموش ہو گئے۔ ان کے اور آصف زرداری کے درمیان فاصلے تب ہی پیدا ہوئے جب انہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف محاذ کھولا۔ انہوں نے تب ہی اپنی وزارت اوراسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دیا ۔ ایک دفعہ آصف زرداری نے ذوالفقار مرزا کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس میں بلاول کے لئے سبق ہے۔ لیکن اب ذوالفقار مرزا نے سابق صدر آصف زرداری کے خلاف طبل جنگ بجا یا ہے۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ ان کی اگلی سیاسی منزل تحریک انصاف ہے۔ اوروہ جن کے اشارے پر کر رہے ہیں ۔ وہ انہیں تحریک انصاف میں لے جائیں گے۔ لیکن تا دم تحریر ان کی بیگم اور بیٹے پیپلزپارٹی میں ہی ہیں ۔ برداشت کی بھی دونوں طرف حد ہے۔اور ان دونوں کی بھی ہمت ہے۔

اسی طرح جسٹس (ر) وجیہ اور پوری تحریک انصاف و عمران خان کے درمیان تنازعہ ہو گیا ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں جسٹس (ر) وجیہ عمران خان پر وہی الزام لگا رہے ہیں ۔ جو ذوالفقار مرزا سابق صدر آصف زرداری پر لگا رہے ہیں۔ ا یک طرف آصف زرداری اپنے ماضی کے دوست ذوالفقار مرزا کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں دوسری طرف عمران خان بھی جسٹس وجیہ کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ عمران کے پاس بھی جسٹس وجیہ کے اصولی موقف کا کوئی جواب نہیں اور زرداری کے پاس بھی مرزا کی باتوں کا فی الحا ل کوئی جواب نہیں ۔ مرزا اور جسٹس (ر) وجیہ دونوں پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں مس گائیڈڈ مزائیل ہی لگ رہے ہیں۔ ان کی باتیں سیاسی منظر نامہ سے ربط تو لگ رہی ہیں ۔ لیکن بلا شبہ انہوں نے سیاسی منظر نامہ میں رنگ بھرا ہے۔

پاکستا ن کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس سننے میں آیا ہے کہ ما ہانہ سولہ ہزار ڈالر لے رہے ہیں۔ باقی مراعات اس کے علاوہ ہیں۔وقار یونس کی تنخواہ سن کر ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک دفعہ ایک خاندان میں ایک شخص سے قتل ہو جا تا ہے۔ اسی خاندان میں ایک درمیانے درجہ کا وکیل تھا ۔ا س نے پیشکش کی کہ وہ قتل کا یہ مقدمہ لڑنے کو تیار ہے۔ لیکن خاندان والے نہ مانے انہوں نے کہا کہ قتل کا معاملہ ہے ۔ ہم مہنگا وکیل کریں گے۔ اور شہر کا بہت مہنگا وکیل کیا گیا ۔لیکن ملزم کو پھانسی کی سزا ہو گئی۔ اور پھر اس غریب وکیل نے کہا کہ یہ کام تو میں مفت کرنے کو تیار تھا۔ ایسے ہی اتنا مہنگا وکیل کیا گیا ہے۔ جو کام وقار یونس لاکھوں روپے ماہانہ لیکر کر رہے ہیں وہ تو کوئی بھی مفت کوچنگ کرنے والا کرنے کو تیار ہو گا۔ وقار یونس نے استعفیٰ دینے کی آپشن رد کر دی ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب کسی بھی صورت پارٹی قیادت سے استعفیٰ نہیں دیں گے ۔ لگتا ہے انہوں نے بھی وقار یونس سے سبق سیکھا ورنہ وہ تو ہر پندرہ دن بعد استعفیٰ دے دیتے تھے۔ اس طر ح وقار یونس اور الطاف حسین میں کسی حد تک مماثلت ہے۔ کہ دونوں نے اپنی ٹیم کو مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ الطاف حسین کہہ سکتے ہی کہ ان کی ٹیم نے حال ہی میں ایک میچ جیتا ہے۔ لیکن کئی میچ ہارے بھی ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم والی صورتحال ہے۔ اس لئے الطاف حسین اور وقار یونس میں بھی اسی طرح مماثلت ہے جیسے جسٹس (ر) وجیہ اور ذوالفقار مرزا میں مماثلتیں ہیں۔

مزید :

کالم -