ذیا بیطس کے 25فیصدمریض اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں ؟یہ علامات جانئے اور محفوظ رہے

ذیا بیطس کے 25فیصدمریض اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں ؟یہ علامات جانئے اور ...
ذیا بیطس کے 25فیصدمریض اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں ؟یہ علامات جانئے اور محفوظ رہے

  

لندن(نیوزڈیسک)کہا جاتا ہے کہ اگر بیماری کی تشخیص بروقت ہوجائے تو اس کے مضمرات سے بچا جاسکتا ہے۔اسی طرح ذیابیطس کی بیماری کی علامات سے کئی مریض لاعلم رہتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔ذیابیطس کی امریکی ماہر میلیسا ڈوبنز کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ آپ دم بیدار ہوئے اورایک دم آپ کو علم ہوا کہ ذیابیطس ہوگئی ہے بلکہ اس کی کئی علامات پہلے ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ25فیصد لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں ذیابیطس کا مرض لاحق ہوچکا ہے اور وہ بد پرہیزی کرتے ہوئے خطرناک زندگی گزارتے ہیں۔ان کا کہنا کہ اگر مندرجہ ذیل علامات سامنے آنے لگیں تو آپ کو بھی چاہیے کہ فوراًمیڈیکل چیک اپ کروائیں۔

خنزہر کا گوشت حرام کیوں ہے؟سائنسی تحقیق میں خوفناک وجہ سامنے آگئی

بہت زیادہ پیشاب کا آنا

میلیسا کا کہنا ہے کہ جب انسان کو ذیابیطس لاحق ہوتی ہے تو اس کا جسم چینی کو استعمال نہیں کرپاتا اور ہم اسے پیشاب کے ذریعے نکالتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کو بار بار پیشاب کی حاجت ہونے لگتی ہے۔ڈاکٹر سائے پیس کا کہنا ہے کہ اکثر مریضوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ دن میں کتنی بار پیشاب کرتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ دن میں کتنی بار ٹائلٹ کا رخ کرتے ہیں تو انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ضروری ہے ہم لوگ اس بات پر توجہ دیں کہ کہیں ہمیں زیادہ پیشاب تو نہیں آنے لگا۔

پیاس میں اضافہ

پیشاب کی زیادتی کی وجہ سے ہمارے جسم میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے اور لوگ اسے مشروبات کے استعمال سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پیاس کم کرنے کے لئے وہ کوک،شربت اور جوسز کا سہارا لیتے ہیں جس سے مسئلے میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

وزن میں کمی

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشاب کی زیادتی سے ہمارے جسم سے حرارے نکلتے ہیں اور اسی طرح ہمارا جسم توانائی کا صحیح طریقے سے استعمال ہی نہیں کرپاتا جو وزن میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

کمزوری اور بھوک میں اضافہ

ذیابیطس کی وجہ سے جسم میں ایک دم کمزوری کا احصاس بڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی آپ کو بلاوقت بھوک لگ جاتی ہے۔ایک ذیابیطس کے ماہر کا کہنا ہے کہ جب خون میں شوگر کی مقدار بلند یا کم ہو تو کمزوری کا احساس ہونے لگتا ہے۔چونکہ آپ کا جسم صحیح طریقے سے توانائی کا استعمال نہیں کرپارہا ہوتا جس کی وجہ سے کبھی بھوک اور کبھی کمزوری کا احساس ہونے لگتا ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ کا احساس

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری غذا جسم کا صحیح طریقے سے حصہ نہیں بن پارہی ہوتی جس کی وجہ سے ہمیں تھکاوٹ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

نظر میں کمزوری

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہماری آنکھیں ایک دم سے شوگر سے تباہ نہیںہوتیں بلکہ شروع میں ایسا ہوتا ہے کہ خون میں موجود شوگر آنکھ میں اکٹھی ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہماری نظر کمزور ہوجاتی ہے۔

زخموں کا دیر سے مندمل ہونا

اگر کوئی زخم آجائے تو وہ بھرنے میں دیر لگائے گا۔یہ بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔

پیشاب میں انفیکشن

چونکہ پیشاب بار بار آتا ہے جس کی وجہ سے پیشاب کی نالیوں میں بیکٹیریا پیدا ہوجاتے ہیں اورانفیکشن واقع ہوسکتی ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -