یمن میں کاروائی ،سعودی عرب کیلئے بڑا جھٹکا،سنگین ترین الزام لگا دیا

یمن میں کاروائی ،سعودی عرب کیلئے بڑا جھٹکا،سنگین ترین الزام لگا دیا
یمن میں کاروائی ،سعودی عرب کیلئے بڑا جھٹکا،سنگین ترین الزام لگا دیا

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے سعودی عرب پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن پر فضائی بمباری کے دوران خوفناک ممنوعہ ہتھیار کلسٹر بم گرائے گئے ہیں۔

نیوز چینل ”الجزیرہ“ کے مطابق ایچ آر ڈبلیو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کے قابل یقین شواہد موجود ہیں کہ سعودی اتحاد نے امریکا کے فراہم کردہ کلسٹر بم یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف استعمال کئے ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو نے اس ضمن میں 17 اپریل کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کی جانے والی ویڈیو کا حوالہ دیا ہے جس میں پیراشوٹ کے ذریعے گرائے جانے والے بم دکھائے گئے ہیں جبکہ ادارے نے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنا پر بتایا ہے کہ یہ بم الشاف اور صدا کے علاقوں میں گرائے گئے۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ 17 اپریل کو صدا کے علاقے میں فضائی بمباری کے بعد لی گئی تصاویر امریکی ہتھیاروں CBU-105 اور BLU-108 کی باقیات دکھاتی ہیں۔

سال 2008ءمیں دنیا کے 116 ممالک نے کلسٹر بموں کو ممنوع قرار دینے والے معاہدے پر دستخط کئے لیکن ان ممالک میں سعودی اتحاد میں شامل ممالک، یمن اور امریکا شامل نہیں ہیں۔ کلسٹر بم چھوٹے ہتھیاروں یا بموں کا مجموعہ ہوتے ہیں جو وسیع علاقوں میں پھیل جاتے ہیں اور کئی دہائیوں تک پھٹے بغیر زمین میں دفن رہ سکتے ہیں۔ تقریباً 4 دہائیاں قبل ویتنام، لاﺅس اور کمبوڈیا میں گرائے گئے امریکی کلسٹر بم آج بھی وقفے وقفے سے پھٹتے رہتے ہیں۔

 ادارے ہینڈی کیپ انٹرنیشنل کے مطابق کلسٹر بموں سے ہونے والی ہلاکتوں میں 98 فیصد سویلین ہلاکتیں ہیں جبکہ ان میں سے 27 فیصد بچے ہیں جو کہ ان مہلک ہتھیاروں کو کھلونے سمجھ کر اٹھالیتے ہیں۔ ”الجزیرہ“ کے مطابق سعودی اتحاد کے نمائندہ اس معاملے پر تبصرے کے لئے دستیاب نہیں ہوسکے۔

مزید :

بین الاقوامی -