قومی کتب میلہ اور صدر مملکت کا خطاب

قومی کتب میلہ اور صدر مملکت کا خطاب
قومی کتب میلہ اور صدر مملکت کا خطاب

  

جب کسی ملک کی ترقی کا اندازہ لگانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو اس ملک کی سڑکوں کے معیار کو دیکھا جاتا ہے اور جب یہ اندازہ لگانا ہو کہ یہ معاشرہ کتنا مہذب ہے تو وہاں دیکھا جاتا ہے کہ اس معاشرے میں کتب بینی کا رجحان کتنا ہے ۔کیا وہاں کے بچے اور نوجوان کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں ،کیا اس معاشر ے میں کتابوں کی دکانیں آباد ہیں ،کیا اس معاشرے میں لائبریریاں عام ہیں ۔اگر جواب مثبت آئے تو یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونی چاہیے کہ معاشرہ یا اس معاشرے کے لوگ ایک مہذب دنیا سے تعلق رکھتے ہیں اس معاشرے کا یہی رجحان ملک کو ترقی اور امن کی طرف گامزن کرتا ہے بصورت دیگر معاشرہ جہالت کا شکار ہو کر بے امنی اور ملک تنزلی کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔جب سے دنیا بھر میں انٹر نیٹ متعارف ہوا ہے اس کے بے پناہ فوائد بھی ہیں جس نے دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کر دیا ہے مگر اس انٹر نیٹ کے منفی اثرات میں کتب بینی سے نوجوانوں اور بچوں کی بیزاری سر فہرست ہے ۔انٹرنیٹ کے بے رحمانہ استعمال نے ہمارے ملک اور معاشرے سے کتب بینی کا رجحان عملاً ختم کر دیا ہے ۔کئی لائبریریاں بند ہو گئی ہیں یا محض چند اخبارات تک محدود ہو گئی ہیں ۔

حکومت نے کتب بینی کے ذریعے علم کے رجحان کو فروغ دینے کیلئے موثر اقداما ت اٹھائے ہیں ۔گزشتہ دنوں قومی تاریخ ادبی ورثہ ڈویژن کے زیر اہتمام قومی کتب میلے کا انعقاد کیاگیا ۔اس میلے میں اہم تاریخی ،علمی وسائنسی کتب رکھے گئی تھیں ۔صدر مملکت جناب ممنون حسین جو دراصل نوجوانوں کا اصل مسئلہ سمجھ چکے ہیں اور صدر کا تعلق بھی اہل ذوق طبقے سے ہے ۔ایوان صدر کے دروازے قومی شعراء ،کالم نگاروں ،ادیبوں کیلئے ہر وقت کھلے ہیں اور ادیبوں،شعراء اور کالم نگاروں کو بہت عزت دیتے ہیں ۔انہیں ڈنر اور لنچ پر بلاتے ہیں اور اسی طرح ملک کے ادیبوں ،کالم نگاروں کی حوصلہ افزائی کا سلسلہ صدر مملکت ممنون حسین نے شروع کیا ہے ۔دوسری اہم بات کہ صدر مملکت نے تاریخی ،علمی اور سائنسی کتابوں کو انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دیدیا ہے جس سے نوجوان اور بچے گھروں میں بیٹھے نایاب اور قیمتی کتب کا مطالعہ کر کے ا س سے مستفید ہو سکیں گے ۔صدر مملکت کا یہ اقدام بظاہر ایک سادہ اقدام ہے مگر درحقیقت ا س کے بہت دورس مثبت نتائج برآمد ہونگے اور اس کا معاشرے کے رویوں پر بھی مثبت اثر پڑے گا ۔صدر مملکت جناب ممنون حسین قومی کتب میلے کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی تھے جنہوں نے میلے کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو تعلیم و تحقیق اور کتاب سے اپنا تعلق استوار کرتی ہیں ۔مسلمانوں کا تو کتاب سے تعلق انتہائی گہرا اور فطری ہے جس کی بنیاد قرآن حکیم ہے ۔قرآن کریم سے تعلق ہی کی برکت تھی کہ مسلمانوں نے علم کے میدان میں شاندار خدمات سرانجام دیں لیکن جب ان کا کتاب سے رشتہ کمزور ہو گیا تو اس کے نتیجے میں وہ مسائل سے دوچار ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وطن اور اہل وطن کی قسمت کو بدلنے کیلئے علم و حکمت سے اپنے تعلق کو مضبوط بنانا ہے ۔صدر مملکت نے کہا کہ اہل علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علمی ورثے کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ترقی اور خوشحالی کی بنیاد رکھ دے انہوں نے ہدایت کی کہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ہمارے علمی ورثے کو نئی نسل اور دنیا بھر تک پہنچانے کے لئے انٹر نیٹ پر منتقل کیا جائے تاکہ ہماری نئی نوجوان نسل میں یہ جذبہ پیدا ہو سکے کہ وہ بھی بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے علم کی دنیا پر اپنی امتیازی نقش قائم کریں ۔انہوں نے کہا کہ آج قوم جن علمی ،اخلاقی ،سیاسی اور اقتصادی بحرانوں سے دوچار ہے اس سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے اور تشدد وانتہا پسندی کے مکروہ اثرات کا خاتمہ بھی اس طریقے سے ممکن ہے ۔

صدر مملکت کے خطاب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کتب بینی کے رجحان کو فروغ دینے میں کس قدر سنجیدہ ہیں ۔اس سلسلے میں قومی کتب میلے کے منتظم عرفان صدیقی تھے جو وزیراعظم کے مشیر برائے قومی ورثہ ہیں انہوں نے اس میلے کا اہتمام کیا جن کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے ۔عرفان صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ صدر مملکت ممنون حسین نے مصروفیات سے وقت نکال کر اس قومی کتب میلے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر کے تقریب کا رنگ دوبالا کر دیا ۔صدر مملکت کا علم و ادب اور کتاب سے ایک گہرا تعلق اور حوالہ ہے اور نئے ڈویژن کی تشکیل کے بعد صدر مملکت کی تجویز اور مشاورت پر ہی مجھے ان ذمہ داریوں کا اہل سمجھا گیا اور میں صدر مملکت کا اتنا شکر گزار ہوں کہ وہ الفاظ میرے پاس نہیں ہیں کہ آج میں صدر مملکت کیلئے ادا کروں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس ڈویژن کو وزارت کے طور پر نہیں بلکہ ایک خاندان کے طور پر چلانا ہے اور نوجوان نسل کے ہاتھوں میں کتاب کو فروغ دینا ہے ۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بیوروکریسی اور متعلقہ ادارے صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی کی ان کاوشوں کو عملی جامہ پہنائیں اور پاکستان کے جنگ زدہ معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ کے لئے وہ تمام عملی اقدامات اٹھائیں جس کا اعلان منعقد کردہ قومی کتب میلے میں کیاگیا ۔

مزید :

کالم -