بحران زدہ ممالک کے ساڑھے سات کروڑ بچے سکول نہیں جاتے:اقوام متحدہ

بحران زدہ ممالک کے ساڑھے سات کروڑ بچے سکول نہیں جاتے:اقوام متحدہ
بحران زدہ ممالک کے ساڑھے سات کروڑ بچے سکول نہیں جاتے:اقوام متحدہ

  

جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک )اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کے مطابق دنیا بھر میں بحران کا شکار ممالک میں سکول جانے کی عمر کے تقریباً ساڑھے سات کروڑ بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بدھ کو جاری کردہ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین سے 18 سال کی عمر کے ہر چاربچوں میں سے ایک بچہ ان ممالک میں رہتا ہے جنہیں جنگوں، تنازعات اور آفات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے چھ ہزار سکول قابل استعمال نہیں جب کہ مشرقی یوکرائن میں ہر پانچ میں سے ایک سکول تباہی کا شکار ہے۔

یہ تازہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب رواں ماہ کے اواخر میں استنبول میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بین الاقوامی کانفرنس ہونے جا رہی ہے جس میں یونیسف تعلیم کے لیے ہنگامی امداد کے پروگرام کے اجرا کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس پروگرام کے تحت چار ارب ڈالر کی امدادی رقم کی اپیل کی جائے گی جس کا مقصد آئندہ پانچ سالوں میں ایک کروڑ 36 لاکھ اور 2030ءتک ساڑھے سات کروڑ بچوں کی تعلیم تک رسائی کی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق "تنازعات کے دوران خاص طور پر بچوں کی تعلیم کے حرج کا خطرہ ہوتا ہے۔ تعلیم بچوں کو اپنی زندگی بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے جس سے آگے چل کر وہ ملک کی تعمیر میں شامل ہوتے ہیں۔

تعلیم کے لیے یونیسف کی سربراہ جوزفین بورن نے ایک بیان میں کہا کہ "تعلیم ہنگامی حالات میں بچوں کی زندگی تبدیل کردیتی ہے۔ سکول جانے سے بچے استحصال جیسا کہ ٹریفکنگ اور مسلح گروپوں کے آلہ کار بننے سے بچ جاتے ہیں۔"ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری تعلیم کو ترجیح بنائے جو کہ بنیادی انسانی ضروریات جیسے کہ پانی، خوراک اور رہائش کی طرح ضروری ہے۔"

یونیسف کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ غریب ترین علاقوں میں ایک سال تک سکول سے باہر رہنے والے بچوں کا دوبارہ تعلیمی سلسلہ شروع ہونا بظاہر مشکل ہوتا ہے۔ سکول سے باہر رہنے والے بچوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی شرح 2.5 فیصد زیادہ بتائی گئی۔

مزید :

تعلیم و صحت -