نیا بجٹ ٹیکس فری اور سرمایہ کاری کا ہونا چاہئے

نیا بجٹ ٹیکس فری اور سرمایہ کاری کا ہونا چاہئے
نیا بجٹ ٹیکس فری اور سرمایہ کاری کا ہونا چاہئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

رمضان المبارک کی آمد میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، حکومت نے اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں نئے سال 2017-18ء کا بجٹ رمضان المبارک سے پہلے ہی پیش کر دیا جائے، چنانچہ اس مقصد کے لئے جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی تمام سرگرمیوں کا ہدف بجٹ بن گیا ہے، فیڈرل بورڈ کے سربراہ کی مدتِ ملازمت ختم ہو گئی تھی، لیکن ایک اچھا بجٹ بنانے کے لئے تجربہ کار ٹیم کے ساتھ ایک تجربہ کار سربراہ کی بھی ضرورت تھی جس کی وجہ سے وفاقی حکومت نے ڈاکٹر ارشد کی مدت ملازمت میں دو ماہ سے زیادہ کا اضافہ کر دیا ہے۔ اب ایک طرف تو وفاقی حکومت کے متعلقہ محکمے بجٹ کی تیاری شروع کر چکے ہیں تو دوسری طرف وفاقی چیمبر آف کامرس، دوسرے تمام چیمبرز آف کامرس اور ایسوسی ایشنوں کے عہدیدار سرجوڑ کر بیٹھ گئے ہیں اور نئی بجٹ تجاویز تیار کر کے وزارتِ خزانہ کو بھجوا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار ویسے تو پورا سال ہی بہت سرگرم رہتے ہیں، لیکن بجٹ کی وجہ سے اور امریکہ کی نئی قیادت کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے وہ گزشتہ ہفتے امریکہ کے دورے پر واشنگٹن پہنچے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ ورلڈ بینک کے عہدیداروں سے بھی اہم ملاقاتیں کیں جس کے مثبت اثرات آئندہ بجٹ میں نظر آئیں گے۔


آئندہ بجٹ کیسا ہونا چاہئے اور اس سے بزنس کمیونٹی کو کیا توقعات ہیں؟ اس موضوع پر تین سال سے بزنس کمیونٹی کی خدمت کرنے والے لیڈر اور نوے فیصد چیمبرز اور ایسوسی ایشنوں کے منتخب نمائندوں کی جماعت یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا 2017-18ء کا بجٹ ہر لحاظ سے بزنس کمیونٹی کے ساتھ پاکستان کی معیشت کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ موجودہ حکومت نے چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں کے علاوہ اپنے بجٹ سے جو میگا پراجیکٹ شروع کئے تھے، اب وہ آہستہ آہستہ مکمل ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ نئے بجٹ کو ایک طرف تو ٹیکس فری ہونا چاہئے، دوسری طرف عوام دوست ہونے کے ساتھ سرمایہ کاری کو فروغ دینے والا بھی ہونا چاہئے۔۔۔ ٹیکس فری کیوں ہونا چاہئے؟۔۔۔ اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے بعد سی پیک کا دوسرا مرحلہ فوراً شروع ہو جائے گا جس میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے علاوہ عالمی کمپنیاں بھی منافع کے لالچ میں پاکستان کا رخ کریں گی۔ اس موقع پر تمام کمپنیوں کے اکنامک ایڈوائزرز کی نظریں پاکستان کے آنے والے نئے بجٹ پر ہیں۔ اس لئے بجٹ کو بہت محنت سے ٹیکس فری بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی اور عالمی سرمایہ کار خوشی خوشی سرمایہ کاری کرسکیں۔نئے منصوبوں کی وجہ سے وفاقی حکومت نے پورے ملک میں ایک مضبوط معاشی انفراسٹرکچر مہیا کر دیا ہے۔


پنجاب کی معاشی سرگرمیوں کا محور زراعت ہے اور اب گاؤں سے منڈیوں تک بھی سڑکوں کا بہت بڑا جال پھیلا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کاشتکار بروقت اور کم کرایہ پر اپنی زرعی مصنوعات منڈیوں میں پہنچا کر معقول منافع کمانے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔ اللہ کے فضل سے جہاں پاکستان ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال ہے، وہیں پاکستان میں کام کرنے والے جوانوں کی شرح بھی اس وقت دنیا میں بہت اچھی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نوجوانوں کو تربیت کی سہولتیں دینے اور ان کی پیشہ ورانہ استعدادِ کار بڑھانے کے لئے بہت بڑی رقم مختص کر رکھی ہے۔ متعلقہ محکمے اس سلسلے میں بہت مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ نئی سرمایہ کاری آنے سے پاکستان میں بے روز گاری کا خاتمہ ہو جائے گا۔ نئے بجٹ میں امید ہے کہ حکومت پاکستان انفراسٹرکچر بینک کا اعلان بھی کرنے جا رہی ہے جس کی معاشی ترقی کے لئے بہت ضرورت ہے۔ دوسری طرف چین نے بھی انفراسٹرکچر بینک قائم کیا ہوا ہے جس کا پاکستان بھی ایک سرگرم ممبر ہے، اس لئے میری تجویز ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے اور شرح نمو سات فیصد تک پہنچانے بہت ضروری ہے کہ سمال اینڈ بزنس انٹرپرائز کو بجٹ میں اہمیت دینے کے ساتھ اس کی ترقی کے لئے بھی معقول فنڈ فراہم کیا جائے۔ اس مرتبہ بجٹ میں ایک طرف تو ٹیکس فری سہولتیں فراہم کی جائیں، دوسری طرف سرمایہ کاری کے منصوبوں کو اہمیت دی جائے۔ سمال اینڈ بزنس انٹرپرائز کی ترقی پاکستان کی معاشی خوشحالی کی ضامن ہے، اس لئے نئے بجٹ میں ایک نئے خوشحال پاکستان کے خواب کو عملی تعبیر دینے کے لئے اہم اعلانات کئے جائیں۔

مزید :

کالم -