تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، اٹھارہویں قسط

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، اٹھارہویں قسط
تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، اٹھارہویں قسط

  

آزمائش کی دوسری سطح وہ تھی جس میں لوگوں نے امت مسلمہ اور نبیوں کے بعد ان کی امت میں شامل ہونے کا پرچۂ امتحان چنا۔ ان لوگوں کا امتحان یہ تھا کہ بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والی گمراہیوں، فرقہ واریت، بدعت اور غفلت سے بچ کر شریعت کے تقاضوں کو ہر حال میں نبھاتے رہیں اور معاشرے کے خیر و شر سے لاتعلق ہونے کے بجائے لوگوں میں نیکی کو پھیلائیں اور انہیں برائی سے روکیں۔ یہ ذمہ داریاں ان پر اس لیے عائد کی گئیں کہ ان کے پاس انبیا کی تعلیمات تھیں اور وہ پیدائشی مسلمان تھے جنھیں قبول اسلام کے لیے کسی کڑی آزمائش سے نہیں گزرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ عام انسانوں کے مقابلے میں ان کی رہنمائی زیادہ کی گئی، انھیں زیادہ اجر کمانے کے مواقع دیے گئے، لیکن غفلت کی صورت میں ان کا حساب کتاب اتنا ہی سخت ہونا طے پایا۔‘‘

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، 17ویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’میرا اور دیگر مسلمانوں کا تعلق اسی گروہ سے تھا نا؟‘‘

’’ہاں تم ٹھیک سمجھے۔ تیسرا گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے اپنا پرچۂ امتحان بہت سادہ رکھا۔ یہ سارے لوگ نبیوں کی براہ راست رہنمائی کے بغیر پیدا کیے گئے اور ان کا پرچۂ امتحان فطرت میں موجود ربانی ہدایت تھی۔ یعنی توحید اور اخلاق کا امتحان۔ انہیں عام مسلمانوں کی طرح نہ شریعت کے امتحان میں ڈالا گیا نہ نبیوں کی رفاقت کے کڑے امتحان میں۔ ظاہر ہے کہ ان کا حساب کتاب سب سے ہلکا ہوگا، ان کے لیے شدید عذاب کا اندیشہ بھی کم ہے اور اجر کے مواقع بھی اسی تناسب سے کم ہیں۔‘‘

’’اور انبیا کا معاملہ کیا تھا؟‘‘

’’انہوں نے امتحان کا سب سے سخت پرچہ چنا۔ اس لیے ان کی رہنمائی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی اور اسی لیے ا ن کے احتساب کا معیار بھی سب سے زیادہ سخت تھا۔ تمھیں تو معلوم ہے کہ حضرت یونس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ صرف ایک اجتہاد کیاتھا ۔ لیکن دیکھو اللہ تعالیٰ نے انھیں کس طرح مچھلی کے پیٹ میں بند کردیا۔‘‘

پھر اس نے اس طویل گفتگو کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا:

’’اصل اصول جوتمام اقسام کے گروہوں میں کام کررہا ہے وہ ایک ہی ہے۔ زیادہ رہنمائی، زیادہ سخت حساب کتاب اور زیادہ بڑی سزا جزا۔ کم رہنمائی، ہلکا حساب کتاب، کم سزا جزا۔ مگر کسی انسان کا تعلق کس گروہ سے ہے اس کا انتخاب انسانوں نے خود کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے نہیں۔‘‘

’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر دنیا میں میری رہنمائی بہت زیادہ کی گئی تویہ دراصل میری اپنی درخواست کے نتیجے میں کی گئی تھی۔‘‘

’’ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔ اسی وجہ سے تم آج اتنا اونچا درجہ پانے میں کامیاب ہوگئے۔ اگر تم اس رہنمائی کی قدر نہ کرتے تو تمھیں اتنا ہی شدید عذاب دیا جاتا۔‘‘

’’یار میں نے کتنا بڑا رسک لے لیا تھا۔‘‘

’’یہی تمھاری دنیا کا اصول تھا۔ No Risk No Gain‘‘

مجھے اس لمحے میں احساس ہوا کہ میں نے کیا پالیا ہے اور کس خطرے سے نکل گیا ہوں۔ میں بے اختیار سجدے میں گرگیا۔ دیر تک میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا رہا جس نے مجھے اس عظیم امتحان میں سرخرو کردیا تھا۔ اتنے میں صالح نے میری پیٹھ تھپکتے ہوئے مجھ سے کہا:

’’عبد اللہ! اٹھو۔‘‘

میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور صالح کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر بولا:

’’صالح اب میں کبھی نہیں مروں گا۔ میری زندگی میں کبھی کوئی بیماری، بڑھاپا، خوف، غم، حزن، اداسی اور مایوسی نہیں آئے گی۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں اچھلوں، کودوں، ناچوں، قہقہے لگاؤں اور پوری دنیا کوچیخ چیخ کر بتاؤں کہ لوگو! میں کامیاب ہوگیا۔ لوگو! میں کامیاب ہوگیا۔ آج سے میری بادشاہت شروع ہوتی ہے۔ آج سے میری زندگی شروع ہوتی ہے۔‘‘

صالح خاموشی سے مسکراتے ہوئے مجھے دیکھتا رہا۔ میرے خاموش ہونے پر وہ بولا:

’’زندگی تو شروع ہوگی۔ ابھی تو ہمیں واپس حشر میں لوٹنا ہے۔ بہت سے احوال دیکھنے ہیں۔ خدا نے تمھیں بڑا غیر معمولی موقع دیا ہے۔ آؤ میدان حشر میں چلتے ہیں۔‘‘(جاری ہے)

تہلکہ خیز ناول جوآپ کی زندگی بدل سکتا ہے، انیسویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

جب زندگی شروع ہوگی -