’میں کئی برس سے فحش فلمیں دیکھنے کا عادی تھا، لیکن پھر ایک دن یہ کام ہوگیا تو فوری توبہ کرلی کیونکہ۔۔۔‘

’میں کئی برس سے فحش فلمیں دیکھنے کا عادی تھا، لیکن پھر ایک دن یہ کام ہوگیا تو ...
’میں کئی برس سے فحش فلمیں دیکھنے کا عادی تھا، لیکن پھر ایک دن یہ کام ہوگیا تو فوری توبہ کرلی کیونکہ۔۔۔‘

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) فحش فلموں کی لت کو اگرچہ دیگر بیماریوں کی طرح ایک بیماری نہیں سمجھا جاتا لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے نتائج بہت سی بیماریوں سے کہیں بڑھ کر بھیانک ہوتے ہیں۔ متعدد تحقیقات کے مطابق دنیا بھر میں بے شمار افراد ان فلموں کے نشے کی طرح عادی ہوچکے ہیں، اور وہ اس نشے کے نتائج بھی بھگت رہے ہیں۔

ویب سائٹ ریڈٹ کے کمیونٹی گروپ پورن فری پر اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے ایک ایسے ہی نوجوان نے بتایا ہے کہ ” میں کئی برسوں سے فحش فلموں کی لت میں مبتلاءتھا۔ اس موذی عادت کی وجہ سے وجہ سے میرا ازدواجی تعلق بری طرح متاثر ہو رہا تھا۔ میری شریک حیات عدم تحفظ کا شکار تھی اور اسے محسوس ہوتا تھا کہ میں جذباتی طور پر اس سے لاتعلق ہوچکا ہوں۔ پھر ایک روز وہ مجھ سے اس قدر مایوس ہو گئی کہ مجھے لگا کہ میں اپنی عزیز ترین ہستی کو کھونے والا ہوں۔ اسی لمحے میں نے اپنی زندگی کو بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اپنے گھر کو بچانے کے لئے ان فلموں سے توبہ کی اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح میں نے توبہ کر کے اپنی زندگی بدل لی ہے اسی طرح اس بیماری میں مبتلا کوئی بھی شخص اپنی زندگی میں اچھی تبدیلی لاسکتا ہے۔“

سوشل میڈیا پر عصمت فروشی کے لئے اکاﺅنٹ بنانے پر خاتون کو 6ماہ قید

اسی طرح جارج نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ ”فحش مواد سے نجات پانا سگریٹ نوشی چھوڑنے اور اسی طرح کے دیگر کاموں سے زیادہ مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ ہیروئن جیسا نشہ چھوڑنے سے بھی دو گنا مشکل ہے، لیکن میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص جس نے اس لت سے نجات پالی ہے وہ میرے ساتھ اتفاق کرے گا کہ اس سے اچھی بات کوئی نہیں ہوسکتی۔“

جارج مزید کہتے ہیں کہ اس لت کو چھوڑدینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان وجوہات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے جن کے باعث آپ اس عادت میں مبتلا ہوئے۔ آپ ان وجوہات کو اپنی زندگی سے نکال کر ہی ہمیشہ کیلئے اس بری عادت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ آپ کو حقیقی زندگی میں مثبت سوچ والے لوگوں سے تعلق بھی قائم کرنا چاہیے تاکہ آپ کا ذہن پھر کبھی اس جانب مائل نہ ہو۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -