پاکستان کی پراسرار ترین جگہ جس کے بارے میں مشہور کہانیاں سن کر ہی آپ کے واقعی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے، یہ کہاں ہے اور اس کی تاریخ کیا ہے؟ انتہائی حیران کن معلومات جانئے

پاکستان کی پراسرار ترین جگہ جس کے بارے میں مشہور کہانیاں سن کر ہی آپ کے واقعی ...
پاکستان کی پراسرار ترین جگہ جس کے بارے میں مشہور کہانیاں سن کر ہی آپ کے واقعی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے، یہ کہاں ہے اور اس کی تاریخ کیا ہے؟ انتہائی حیران کن معلومات جانئے

  

لسبیلا (مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس کوئی معمولی سی دلچسپی کی چیز بھی ہو تو وہ ساری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ملک میں دنیا کے پراسرار ترین عجوبے ہونے کے باوجود خود ہمیں ان کی خبر نہیں۔ بلوچستان کے شہر لسبیلا کے قریب واقع ”گوندرانی کی غاریں“ بھی ایک ایسی ہی حیرت انگیز چیز ہیں جنہیں دیکھنے والا بھول ہی جاتا ہے کہ وہ کس دنیا میں ہے۔

ویب سائٹ Parhloکی رپورٹ کے کے مطابق ان غاروں کو شہر روغن، بدروحوں کا شہر، مائی گوندرانی کا شہر اور پرانے گھر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ گوندرانی ایک بہت بڑی قدیم اور پراسرار غار ہے جس میں قدیم دور کی کسی تہذیب کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ اس بڑے غار کے اندر بے شمار چھوٹے غار نما کمرے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے سامنے برآمدے بھی بنے ہوئے ہیں جبکہ کچھ جگہوں پر باورچی خانے کے آثار بھی ملتے ہیں۔

لسبیلا شہر سے شمال میں 15 سے 18 کلومیٹر فاصلے پر واقع ان غاروں تک کراچی کوئٹہ ہائی وے N-25 کے ذریعے بھی پہنچا جاسکتا ہے۔ کراچی شہر سے یہ غاریں تقریباً 175 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ اگرچہ ان غاروں کے متعلق مصدقہ حقائق تو معلوم نہیں البتہ کئی طرح کی دلچسپ و عجیب داستانیں ضرور مشہور ہیں۔ کچھ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ یہ غاریں ساتویں صدی میں آباد ہوئیں اور یہاں اس وقت کی بدھ سلطنت کی عبادت گاہیں تھیں۔ تاریخ دان آندرے ونگ کے مطابق یہ بدھ مت کا مرکزی مندر تھیں۔

راتوں رات دریا سے ایک بہت بڑی چیز غائب ہوگئی، ایسی حقیقت کہ دیکھ کر سائنسدان پریشان ہوگئے

ایک مقامی روایت میں ان غاروں کو قدیم زمانے کے ایک طاقتور بادشاہ کی پری وش بیٹی بدیع الجمال کی کہانی سے منسلک کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چھ بلائیں شہزادی بدیع الجمال کے پیچھے پڑگئیں اور اسے اٹھا کر اپنے ساتھ لیجانا چاہتی تھیں۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی کو ان بلاﺅں سے نجات دلانے کیلئے سات شہزور جنگجوﺅں کی خدمات حاصل کیں لیکن کوئی بھی کامیاب نہ ہوا۔ بالآخر شہزادے سیف الملوک نے شہزادی کو بلاﺅں سے نجات دلائی۔

ایک اور مشہور روایت یہ ہے کہ پرانے زمانے میں اس علاقے میں مائی گوندرانی نامی ایک معمر خاتون رہا کرتی تھیں۔ا س خاتون نے علاقے کے لوگوں کی جان ایک خونی بلا سے چھڑوائی، جو ان کے مال مویشی کھاجایاکرتی تھی۔ مائی گوندرانی نے اپنے لوگوں کو بلا سے نجات دلانے کیلئے اپنی جان بھی قربان کردی۔ اسے انہی غاروں کے قریب دفن کیا گیا۔

اس علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کبھی 1500غاریں ہوا کرتی تھیں لیکن اب ان میں سے صرف 500اپنی درست حالت میں باقی رہ گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ اس تاریخی اثاثے کی مناسب دیکھ بھال کر کے اسے عالمی سیاحت کا مرکز بنایا جائے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -