عمران خان اور ان کے 11 نکات

عمران خان اور ان کے 11 نکات
عمران خان اور ان کے 11 نکات

  

29اپریل بروز اتوار پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں عوام کا جمِ غفیر دیکھنے میں آیا، جہاں جلسے میں آئے کھلاڑیوں کا جوش قابل دید تھا، خواتین، مرد، بچے، بوڑھے، سب ہی اپنے لیڈر کے بھرپور استقبال کے لئے بے چین نظر آئے، ہر چہرے پر خوشی ظاہر تھی، اور لوگوں کی امید ’’دو نہیں بلکہ ایک پاکستان، کے لگے نعرے پر لگی ہوئی تھی، پی ٹی آئی کی تمام قیادت سمیت جلسے کے تمام شرکاء کو اپنے لیڈر سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ امیدیں عمران خان کے گیارہ نکاتی خطاب کے بعد اور الیکشن میں اکثریتی کامیابی کے بعد پوری ہوتی نظر بھی آئینگی، 11 نکات کی تفصیلات بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم اقتدار میں آکر سپریم کورٹ، نیب اور ایف آئی اے سمیت تمام کرپشن ختم کرنے والے اداروں کو مضبوط بنائینگے، فاٹا کو خیبر پختونخوا کا حصہ بنائینگے، ملک میں غریب اور امیر کے بچوں کے لئے یکساں نظامِ تعلیم لائیں گے، جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر ایک صوبہ بنائینگے، انصاف کا ایسا نظام لائینگے جس میں سول مقدمات کا فیصلہ 1 سال میں ہوگا، ٹیکس کے نظام کو شفاف بنائینگے، اور ملک سے سالانہ 8 ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرینگے، فیڈریشن کو مضبوط کرنے کے لئے تمام صوبوں کو ان کے حقوق دلائینگے، پاکستان میں خواتین کے لئے الگ سے پولیس سٹیشنز بنائے جائینگے، اور جائیداد میں خواتین کو ان کا حق دیا جائے گا، ماحولیاتی آلودگی کا خاتمہ کرینگے اور 10 ارب درخت لگائے جائیں گے، ملک میں غریبوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرینگے، عالمی معیار کا بلدیاتی نظام لے کر آئیں گے اور شہروں کے میئر کا الیکشن ڈائریکٹ کروایا جائے گا، پولیس کو پورے ملک میں خیبر پختونخوا کی طرح مکمل طور پر غیر سیاسی کریں گے۔

ایگریکلچر ایمرجنسی نافذ کرکے ایگری یونیورسٹیز بنائیں گے، کسانوں کو سستے قرضے دے کر بجلی پر ٹیکس ختم کرینگے، ہیلتھ کارڈ متعارف کروائینگے، جس سے امیر ہو یا غریب سب کو اعلیٰ مکمل اور بہترین علاج میسر ہوگا، ایسے ہسپتال بناؤں گا جس کی وجہ سے پیسے والے لوگوں کو علاج کے لئے دیارِ غیر کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، ان نکات پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تقریباً اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں جس ملک نے ترقی کی اس نے پہلے اپنے بچوں کو تعلیم دی، جتنے بچے انگلش میڈیم سکول میں زیر تعلیم ہیں ان کے مقابلے میں مدرسوں میں زیر تعلیم طلباء کی تعداد 4 گنا زیادہ ہے، وہ بچے نہ تو جج بن سکتے ہیں اور نہ اعلیٰ افسر، ہم پورے ملک میں ایک تعلیمی نصاب لے کر آئیں گے، گزشتہ 60 سال میں ملک پر قرض کا بوجھ 6 ہزار ارب تھا جو موجودہ 10 سال میں بڑھ کر 27 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے، جسے ادا کرنے کے لئے مہنگائی ہوگی، عوام پر پٹرول بم، ڈیزل بم گرایا جائے گا، کیونکہ قرض ادا کرنا ہے تباہی کے راستے پر نہیں جانا، غیر ملکی قرضوں پر انحصار کرنے کی بجائے اپنے ملک کی عوام سے پیسہ لے کر ملک چلائینگے جب وہ پیسہ عوام کی بہتری کے لئے خرچ ہوگا تو قوم پیسہ بھی دے گی ملک کو کرپشن سے نجات دلانے کے لئے ہی اپنے 20 اراکین کو تحریک انصاف سے فارغ کیا اور خود ان کی پیسے گننے کی ویڈیو دیکھی اسی وقت میں نے ان اراکین کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔

کرپشن کی انتہا یہ ہے کہ 10 ارب روپے کی سالانہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے، ہم باہر سے اپنے ملک میں پیسہ لا کے دکھائینگے، انڈسٹری پر ٹیکس کم کرینگے، سرمایہ کاری بڑھائیں گے، بجلی اور گیس مہنگی نہیں ہونے دیں گے، عوام کو روزگار مہیا کرینگے، 50 لاکھ سستے گھر تعمیر کرینگے،بے روزگاروں کو ٹیکنیکل اور سکل ایجوکیشن دینگے، جبکہ سیاحت کے فروغ کے لئے ہر سال نئے مقامات سامنے لائینگے، ہمارا ملک جتنا خوبصورت ہے ہمیں سیاحتی مقامات کو ترقی دے کر ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے، جس سے اربوں روپے کمائے جاسکتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ، پاک فوج کی عزت پر حرف نہیں آنے دینگے، ملک کا وقار بڑھائینگے، ملک کو قائداعظم اور اقبال کے افکار کے مطابق ریاستِ مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنائینگے، اس طرح کی باتیں سن کر عوام میں خوشی کی لہر دوڑتی ہے اور اپنے لیڈر کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عمران خان پر آج تک کوئی کرپشن کا الزام ثابت نہ ہوسکا اور نہ ہی ہوگا، کیونکہ جو لیڈر صرف اپنے ملک اور ملک کے عوام کی ترقی کے بارے میں سوچتا ہے ایسے ہی لیڈر دنیا کے عظیم لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ایسے ہی ملک ترقی کی بلندیوں کو چھوتے ہیں، لوگوں کی طرف سے ان کی ذاتی زندگی پر لگائے گئے الزامات کی پرواہ کئے بغیر جو شخص پھر بھی ہنستا مسکراتا اور لوگوں کیلئے لڑتا نظر آتا ہے، پاکستان اور گرین پاسپورٹ کی قدر بڑھانا چاہتا ہے، ملک کو چوروں، لٹیروں، ڈاکوؤں اور وڈیروں سے نجات دلانا چاہتا ہے، امن، ترقی و خوشحالی جس کا مقصد ہو، ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی لگن ہو، جس کو اپنی عدلیہ پر اعتماد ہو، جو لوگوں کی امیدوں کا محور ہو ایسے شخص کو عوام اپنے سروں پر اٹھاتے ہیں، اور ماتھے کا تاج بناتے ہیں، ایسا شخص قائداعظم اور اقبال کے پاکستان کا حقیقی وارث ہونا چاہئے، ملک کے عوام اور دیارِ غیر میں بسے پاکستانیوں کی امید صرف عمران خان ہے جس میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں، اب عملی طور پر جیسے جلسوں میں لوگ عمران خان کے لئے نکلتے ہیں ویسے ہی الیکشن میں بھی لوگ عمران خان کے لئے نکلتے نظر آنے چاہئیں تاکہ ملک میں جاری نا انصافی، بے ایمانی، قتل و غارت، دہشت گردی کو ختم کیا جاسکے۔

مزید :

رائے -کالم -