حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ آخری قسط

04 مئی 2018 (13:08)

سید سلیم گیلانی

میں نے بڑی اچھی زندگی گزاری ہے۔ زندگی کے ایک دن کا، ایک پل کا بھی افسوس نہیں۔ اُس دن کا بھی نہیں جب میں گرم چٹانوں کے نیچے دم توڑ رہا تھا۔ میں اپنے لاغر بدن پر، اپنے طویل قد پر خوش ہوں، اپنے گھنے خمدار بالوں پر، اپنے جسم کی رنگت پر خوش ہوں، خوش ہوں کہ افریقی نژاد ہوں۔ یہ رنگت، یہ ہئیت میری پہچان ہیں۔ میں خوش ہوں کہ میں اُن دس ہزار مجاہدین میں شامل تھا جنہیں سینکڑوں سال پہلے کتابِ استثنا کی پیش گوئی میں قُدوسی کہہ کر پکارا گیا تھا۔

مختصر یہ کہ میں خوش ہوں کہ میں، میں ہوں۔ کیا سے کیا ہو گیا تھا اُمیہ کا زر خرید غلام اور ابنِ خلف کہتا تھا کہ مردہ انسانی جسم خود اپنی ہی اصل حالت پر واپس نہیں آ سکتا۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر81 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جنت کی محفل

اب میں چھڑی کے سہارے چلتا ہوں۔ ہر روز گزشتہ روز سے کم اور جلدی گھر لوٹ آتا ہوں۔ میری نقل و حرکت روز بہ روز محدود ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ دنوں سے تو صرف مسجد تک جانا آنارہ گیا ہے۔ لیکن میرا ذہن آفاق کی سی وسعت رکھنے والی سیرگاہ ہے کیونکہ اس میں دورِ رسالت کی حسین یادوں کے باغ کھِلے ہوئے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کرم کرے تو شاید جنت کے خوش نصیبوں میں مجھے پھر ابوذرؓ کے ساتھ سیر کرنے کا اور اُن کی باتیں سننے کا موقع مل جائے۔ وہی باتیں کہ اسلام کی سادگی اور فقر اُس بنیادی عقیدے کا اعتراف اور اعلان ہے کہ مالکِ ملک صرف اللہ کی ذات ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قرآنِ کریم میں فرماتا ہے کہ ذاتِ الٰہی کے سامنے انسان غریب ہے۔ امارت صرف اللہ کی ہے۔ غریب وہ ہے جو یہ جانتا ہے کہ اس کا جو کچھ ہے وہ اس کا اپنا نہیں ہے اور وہ ہر شے کے لئے کسی کا محتاج ہے۔ امیر وہ ہے جو خود کفیل ہے، جسے کسی کی حاجت نہیں۔ راضی برضائے الٰہی کے تصور کی حد تک اسلام فقر اور غربت کا نام ہے لیکن یہ فقر بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب ترک اور رہبانیت نہیں ہے۔ یہ وہ فقر ہے جس کے دروازے اس روحانی استغنا پر کھلتے ہیں جو ہماری الہامی تعلیم کا درس ہے اور یہی مثبت سوچ جو فقرِ اسلامی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اُس کے وجود کا جواز ہے۔

اس وقت جب میں یہ باتیں کر رہا ہوں تو دورِ رسالت کی ان گنت محفلوں کے نقوش میرے ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ یہ یادیں، یہ نقوش میرے تصور کی محفلیں سجائے رہتے ہیں۔ رب العالمین مجھے پھر موقع عطا کرے کہ میں اپنے تصورات کی تعبیر دیکھوں۔ مکتبِ رسالت کے فارغ التحصیل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حلقہ جمائے بیٹھے ہیں۔ علم و معرفت کی قندیلیں روشن ہیں، بات سے بات نکل رہی ہے۔ خوش گفتاری اور عالی خیالی کی پھلجھڑیاں چھوٹ رہی ہیں۔

ایک آواز اُبھرتی ہے۔ عجمی لہجہ مگر فکرِ اسلامی میں ڈوبی ہوئی:

’مادی دنیا کی کوئی چیز قابل اعتنا نہیں۔ میرے خیال میں اس سے کنارہ کشی ہی بہتر ہے‘۔

چند ثانیوں کی خاموشی کے بعد ایک نہایت جانی پہچانی آواز سنائی دیتی ہے جسے میں نے اپنی اسلامی زندگی میں شاید ہر روز سنا۔

’مادی دنیا میں واقعی کوئی چیز قابلِ التفات نہیں اور اگر کچھ ہے بھی تو محض روحانی حوالوں سے جو مادیت سے ماوراء ہیں‘۔

جواباً ایک ایسی دلکش آواز شریکِ گفتگو ہوتی ہے جیسے کوئی نغمہ چھڑ جائے۔ لہجے میں اتنا رس جیسے شہد گھلا ہو:

’مادیت بھی ایک حقیقت ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مادی تخلیقات کا وجود ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ بے مقصد نہیں ہو سکتیں۔‘

اب ایک نیا لہجہ سننے میں آتا ہے۔ مکے کے نواحی صحرا میں بسنے والے قبائلیوں کا لہجہ۔ آواز میں جوش و جذبے کے ساتھ عزم و اعتماد کی کھنک:

’حقیقت تو صرف ایک ہے اور وہ ہے ذاتِ الٰہی۔ اُس کے سوا اور کوئی حقیقت ہے ہی نہیں‘۔

ایک نہایت شائستہ آواز، مدنی لہجہ، ٹھہرے ٹھہرے الفاظ جن سے علمیت جھلکتی ہے:

’مادی تخلیقات بھی حقیقت ضرور ہیں مگر ایک محدود معنیٰ میں۔ انہیں ثانوی حقیقت کہا جا سکتا ہے، اصل حقیقت نہیں‘۔

ایک اور صاحبِ علم اپنی نکتہ رسی سے بات آگے بڑھاتے ہیں:

’مادی حقیقت دراصل، اصل حقیقت کا مظہر ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ مادی حقیقت جسے ابھی ابھی ثانوی حقیقت کہا گیا ہے، اصل حقیقت ہی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اصلِ حقیقت ایک ہے جو نظروں سے اوجھل رہتی ہے مگر اُس کے مظاہر کے ہزاروں روپ ہیں۔ ویسے ہی جیسے اصل روشنی پاکیزہ اور ہر رنگ سے بے نیاز ہوتی ہے مگر جب منعطف ہو جاتی ہے تو قوسِ قزح کے بے شمار رنگوں میں ڈھل جاتی ہے‘۔

اب اس گفتگو میں ایک نئی آواز شامل ہوتی ہے۔ الفاظ شاعرانہ مگر انداز خالصتاً منطقی، لہجے میں بہت نرمی مگر بیان پرپوری قدرت:

’قدرت کا عملِ تخلیق ایک کائنات گیر قالین کی طرح ہے جس پر بنے ہوئے مختلف نقش و نگار ایک الہامی آہنگ کے ساتھ بنتے بگڑتے رہتے ہیں مگر ہر شکست و ریخت کے بعد اُن کا باہمی توازن اور کائنات کا مجموعی حُسن برقرار رہتا ہے۔ اسی توازن، اسی میزان کے ذریعے وہ ہر لحظہ کسی آفاقی ضابطے، کسی الہامی قاعدے کی شہادت مہیا کرتے رہتے ہیں،۔ 

ایک اور نئی آواز جیسے علم و معرفت کا باب کھل گیا ہو:

’درست، لیکن انسان اپنی محدود سوچ اور محدود تر نکتۂ نظر کی وجہ سے مادی تخلیقات کی ہئیت سے بھی پوری طرح آشنا نہیں ہو سکتا، اُن کی ماہئیت کا مکمل ادراک تو شاید اُس کی بساط سے ہی باہر ہے‘۔

گفتگو میں ایک نیا نکتہ پیدا ہوتے ہی وہی خوبصورت آواز پھر سنائی دیتی ہے جس نے کہا تھا کہ مادی تخلیقات کا وجود ہی اُن کے بامقصد ہونے کا ثبوت ہے۔ اندازِ بیان بھی اتنا دل میں گھر کرنے والا کہ جی چاہے یہی آواز کانوں میں گونجتی رہے:

’نکتۂ نظر سے چیزوں کی ہئیت ضرور بدل جاتی ہے مگر اُن کی ماہئیت نہیں بدلتی۔ اگر ہم ایک مستطیل کھڑکی سے باہر آسمان کو دیکھ رہے ہوں تو آسمان ہمیں مستطیل نظر آئے گا۔ زاویۂ نگاہ بدل جائے تو آسمان کبھی مربع نظر آئے گا، کبھی بیضوی، کبھی گول، لیکن رہے گا وہی آسمان جس کا سورج دن کو ہمارے گھروں میں اُجالا کرتا ہے، جس کے ستارے راتوں کو ہمیں راہ دکھاتے ہیں۔‘

اب وہی محترم آواز دوبارہ گفتگو میں شریک ہوتی ہے جس نے موضوع کے تعین کے بعد سب سے پہلے اپنی رائے دی تھی:

مسئلہ دراصل یہ ہے کہ دین ایک دائرہ ہے جس کی حدود مقرر ہیں۔ لیکن اسی محدود دائرے میں لامحدود کا تصور بھی شامل ہے۔ محدود میں لامحدود، انہونی بات ہے، مگر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ہرہئیت، ہر صورت کو صرف جزوی طور پر دیکھ سکتے ہیں، مکمل صورت میں نہیں‘۔

’مکمل صورت میں نہ دیکھ سکنے کے باوجود اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ اصل حقیقت صرف ایک ہے اور اُس میں کسی غیرہ‘ کی گنجائش نہیں اس لئے یہ ثانوی حقیقت اگر کائنات میں موجود اور یقیناًموجود ہے تو یہ لازماً اصل حقیقت کا حصہ ہو گی یا اُس کا کرشمہ ہو گی۔ کیونکہ جیسا کہ آپ نے سنا اصل حقیقت کے سوا تو کچھ ہے ہی نہیں۔ اب یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ چونکہ اصل حقیقت ناقابل تقسیم ہے، اس لئے مادی یا ثانوی حقیقت اصل حقیقت کا مظہر ہونے کے علاوہ اور کچھ ہو ہی نہیں سکتی‘۔

مدنی علم و فضیلت اسی خیال کو ذرا اور آگے لے جاتی ہے:

’یہ مادی تخلیقات جنہیں ہم ثانوی حقیقت کہہ رہے ہیں، خالق ارض و سماوات ہی کی ذات کا کرشمہ ہیں۔ یہ وہی ثانوی حقیقت ہے جو اللہ جل شانہ‘ کا مظہر ہے اور جو ذاتِ الٰہی کے نام ’’الظاہر‘‘ کی تفسیر ہے۔ یہ ثانوی حقیقت اپنے اندر کوئی الوہیت نہیں رکھتی، لیکن یہ مظہرِ الوہیت ضرور ہے‘۔

علم و بصیرت کا ایک اور سوتا پھوٹتا ہے:

’بے شک اللہ تعالیٰ جس طرح ’الاوّل و الآخر‘ ہے اسی طرح ’الباطن و الظاہر‘ بھی ہے اور اس کی تخلیقات اس کے ’’الظاہر‘‘ ہونے کی دلیل ہیں‘۔

پھر وہی آواز سنائی دیتی ہے جیسے علم کا بحرِ زخار مخاطب ہو:

’رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا۔ میں نے آج تک کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جسے دیکھنے سے پہلے میں نے اس میں اللہ کو نہ دیکھا ہو‘۔

وہی آواز پھر ابھرتی ہے جس میں شعر کی چاشنی کے ساتھ فلسفیانہ گیرائی بھی شامل تھی مگر اس بار لہجہ بہت دھیما جیسے کوئی اپنے آپ سے باتیں کر رہا ہو:

’ایک آفاقی آبِ حیات ہے جوہر تخلیق کے رگ و ریشے میں دوڑ رہا ہے۔ ایک جوہر ہے‘۔

پھر وہی شہد گھلی آواز، لہجے میں وہی شائستگی اور شیرینی کہ جو سُنے اُسی کا ہو جائے:

’’ایک ضروری نکتہ قابلِ التفات یہ ہے کہ اصلِ حقیقت اور ثانوی حقیقت کے درمیان جو ربط ہے، وہ یکطرفہ ہے۔ اصل حقیقت کو ثانوی حقیقت پر کلی اختیار ہے۔ ہر چند کہ یہ ربط بہت واضح نہیں ہے مگر یقینی طور پر موجود ہے اور براہِ راست موجود ہے۔ اس کے برعکس خلق اور خالق کے درمیان کوئی ربط نہیں ہے کیونکہ خلق بے اختیار ہے۔ خالق ہی سارے اختیارات کا مالک ہے‘۔

بات ختم ہوتے ہی وہی محترم آواز پھر سنائی دیتی ہے:

یہ بہت اچھا نکتہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اصلِ حقیقت اور ثانوی حقیقت، حقیقت کے دو درجات ہیں جن کے درمیان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ایک حدِّفاصل اور ایک نکتہ اتصال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ثانوی حقیقت کی معراج ہے۔ اُس کی مکمل ترین صورت۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی ثانوی حقیقت کے تعلق کی وضاحت کرتا ہے اور ان دونوں کو مالک و خالقِ کائنات کی منشاء کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ مرتبط اور منضبط کرتا ہے جس سے ایک میزان قائم رہتا ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ حبشی کس طرح ماضی، حال اور مستقبل کو آپس میں گڈ مڈ کئے جا رہا ہے۔ یہ شاید اس لئے کہ میرا دین قیدِ زمان سے ماوراء ایک تسلسلِ مکانی یا تسلسلِ وجود کا نام ہے۔ اسلام میں وقت تو محض ایک غارت گرہے جو اس تسلسلِ مکانی کی صورت بگاڑتا رہتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا تھا کہ کوئی وقت ایسا نہیں آئے گا جو سابقہ دور سے بدتر نہ ہو۔ یہ تسلسلِ وجود ایک علامت کی طرح مسلمان کی زندگی کا احاطہ کئے رہتا ہے، جیسے ہمارے اطراف پھیلی ہوئی مادی علامتیں، جو غیر محسوس انداز میں لیکن یقینی طور پر روزِ اول ہی سے ہمیں ایک خلاقِ اعظم اور ایک حقیقتِ مطلق کی راہ سُجھا رہی ہیں۔ معلوم سے غیر معلوم کی طرف اشارے کر رہی ہیں۔

وہی مکے کے نواحی قبائل کا لہجہ پھر سننے میں آتا ہے۔ آواز میں کھلی فضاؤں کی گھن گرج، دلیل میں وزن، بیان میں خود اعتمادی:

’’دُنیا ہئیت و اشکال پر مشتمل ہے۔ جدھر دیکھو مادی ہیئتیں بکھری ہوئی ہیں۔ انہی کا مجموعہ ہے ہماری دنیا۔ مگر درحقیقت یہ ساری ساری ساکت و متحرک اشکال، اپنی ظاہری صورت میں محض کھنڈر ہیں کسی آفاقی نغمے کا، جو کبھی سارے ارض و سما میں جاری تھا مگر کسی وقت منجمد ہو کر ان مادی ہئیتوں میں قید ہو گیا۔ علم اور روحانیت کی نظر ان جامد شکلوں کو پگھلا دیتی ہے تو ہر مادی ہئیت کے اندر سوئی ہوئی ازلی موسیقی پھر سنائی دینے لگتی ہے‘۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم، معلمِ عقلِ انسانی ہونے کے باوجود طالب علمانہ انداز میں، نہایت انہماک سے سب کی باتیں سن رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کبھی راہِ راست ان کا ذکر آ جاتا تو ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم کھیل جاتا۔ میں کہ خود کھنڈر ہوں ایسی بے شمار یادوں کا، ایک بار پھر اُن محفلوں کے انتظار میں ہوں، فردوسِ بریں کے کسی گوشے میں، نئے مشاہدات کے پس منظر میں، نئے موضوعات کے ساتھ۔

لیکن ابھی شاید چند روز اور مجھے دمشق کے سورج کا طلوع و غروب دیکھنا ہے۔

اب اِس خادمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، بلالِ حبشی کو اجازت دیجئے۔ اس مجلس کو یہیں ختم کرتے ہیں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔(ختم شد)

مزیدخبریں