ایک اورالیکشن

ایک اورالیکشن
ایک اورالیکشن

  

جولائی 2015 میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججز پر مشتمل ایک کمیشن نے الیکشن 2013 سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی جس میں انہوں نے مذکورہ جنرل الیکشن میں منظم دھاندلی کے الزام کو مسترد کیا مگر اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کے موجودہ نظام میں اصلاحات کرنے کا کہاتھا جس کے فوراً بعد مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین صاحب دو احباب جنرل ریٹائرڈ اشفاق پرویز کیانی اور جسٹس ریٹائرڈ افتخار چوہدری کی طلبی کا مطالبہ لے کر سپریم کورٹ پہنچ گئے کہ ان احباب کو بلا کر الیکشن سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے مگر نہایت خاموشی سے کچھ ‘‘نامعلوم’’ لوگ چوہدری شجاعت صاحب کو ملے جس کے بعد چوہدری شجاعت بالکل خاموش ہو گئے۔ اس تمام صورتحال سے تقریباً ہر وہ شخص با خبر ہے جو کسی بھی لحاظ سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ یا سیاست کی سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔ مذکورہ بالا صورتحال بیان کرنے کے بعد آنے والے الیکشن سے متعلق شاید ہی کوئی ابہام باقی رہ گیا ہو کہ اس الیکشن کا رزلٹ کیسا ہو گا۔ کیا اس الیکشن سے تبدیلی آئے گی یا نہیں۔ پہلی بات کہ اگر منظم دھاندلی نہیں ہوئی تھی تو معزز ججز نے نظام انتخاب میں اصلاحات کا کیوں کہا اور ان اصلاحات کی وضاحت کیوں نہیں کی گئی کہ انتخابات کے کن کن شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، الیکشن کمیشن کی تشکیل کا غیر آئینی ہونا پوائنٹ آؤٹ کیوں نہیں کیا گیا، امیدواروں کی سکروٹنی جس بھونڈے انداز میں ہوئی اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا، آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کی جس طرح دھجیاں اڑائی گئیں اس کو بھی نظر انداز کیا گیااور پری پول رگنگ کا ذکر بھی مصلحت کا شکار ہو گیا۔ علیٰ ھٰذالقیاس الیکشن کو ہر لحاظ سے صاف اور شفاف قرار دے دیا گیا اور شاید اسی لئے چوہدری شجاعت صاحب کو بھی خاموش کرا دیا گیا۔ آج کل پھر الیکشن کی باز گشت ہے اور وہ الیکٹیبلز جنہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں مزے لوٹے اب دھڑا دھڑ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں ،بالکل ویسے ہی جیسے پچھلے الیکشن سے پہلے ق لیگ کے الیکٹبلز ن لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ ان الیکٹیبلز نے بھی باریاں بنائی ہوئی ہیں ۔ایک مدت جو حکومت میں بیٹھتے ہیں وہ اگلی مدت میں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور دوسرے دھڑے کو حکومت کے مزے لینے کا موقع پوری ایمانداری سے فراہم کرتے ہیں کیونکہ آخرکار ہیں تو یہ سارے آپس میں رشتے دار تو رشتہ داری بھی نبھانی ہوتی ہے بلکہ اکثر تو ایک ہی گھرانے سے ہوتے ہیں مگر پارٹی الگ الگ اور جب دیکھتے ہیں کہ اب عوام ہمارا دورِ حکومت گیا تو ممکنہ جیتنے والی جماعت کو پیارے ہو جاتے ہیں تا کہ اپنی پچھلی کسر پوری کر سکیں۔

جہاں تک تبدیلی کی بات ہے تو وہ آنے والے الیکشن میں تو ممکن نہیں لگ رہی، اس الیکشن میں شاید کوئی افتخار چوہدری یا جنرل کیانی تو میسر نہ ہو مگر وہی غیر آئینی الیکشن کمیشن وہی بیوروکریسی اور میجراصلاحات کے بغیر الیکشن، اگر بدلا تو شاید وزیراعظم کا چہرہ ہی بدلے گا، کابینہ بھی انہی پرانے لوگوں کی ہو گی، اپوزیشن میں بھی وہی پرانے چہرے ہونگے۔ عمران خان شاید وزیر اعظم تو بن جائیں مگر شاید تبدیلی کا وعدہ پورا نہ کر سکیں بالکل ویسے جیسے کے پی کے میں کوئی خاطرخواہ تبدیلی نہیں لا سکے۔ کیونکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کی اپنی منطق ہے اور انہیں اپنی مرضی کا بندہ چاہئے ہوتا ہے ۔ پچھلے ستر سال سے یہ مختلف تجربات کر چکی ہے مگر آج تک ان کا کوئی بھی تجربہ کامیاب نہیں ہو سکااور اگر خدانخواستہ اس بار بھی ایسا ہی ہو تو یہ اس قوم کی بڑی بدقسمتی ہو گی اور اس طرح ایک اور الیکشن اس ملک کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور عوام کے حصے میں فقط مایوسی آئے گی۔

۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -