مہمند ڈیم کا سنگ ِ بنیاد

مہمند ڈیم کا سنگ ِ بنیاد

  



وزیراعظم عمران خان نے800میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیا، یہ ڈیم291ارب روپے کی لاگت سے پانچ سال میں تعمیر ہو گا،بند کی تکمیل کے بعد اس سے حاصل ہونے والے پانی سے16ہزار667 ایکڑ زمین قابل ِ کاشت ہو سکے گی اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی،دریائے سوات پر منڈا ہیڈ ورکس کے مقام پر مہمند ڈیم کے سنگ ِ بنیاد کی تقریب میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی،اِس ڈیم میں12لاکھ93ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اِس امید کا اظہار کیا کہ ڈیم وقت ِ مقررہ پر اور طے شدہ لاگت سے مکمل ہو گا، ڈیم بنانے میں سب سے بڑی مشکل شفافیت کی ہے، ڈیم پر خرچ ہونے والی رقم کا عوام کو علم ہونا چاہئے، سپریم کورٹ نے (ڈیم کے لئے فنڈ ریزنگ کی مہم چلا کر) اپنا فرض نبھایا ہے، کسی پر احسان نہیں کیا۔انہوں نے ڈیم فنڈ میں حصہ لینے پر اوورسیز پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا۔

حال ہی میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مکمل ہوا ہے،جس سے پراجیکٹ کی استعداد کے مطابق پوری مقدار میں بجلی حاصل ہو رہی ہے،اس پراجیکٹ کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر ہوتی رہی،جس کی وجہ سے منصوبے کی لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا، سابق حکومت نے اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرایا۔ حکومت نے اپنے وسائل کے علاوہ بجلی کے بلوں پر بھی سرچارج لگا کر اس کے لئے رقم جمع کی اور اب تک، تکمیل کے باوجود ،یہ سرچارج وصول کیا جا رہا ہے، چونکہ اب پراجیکٹ مکمل ہو چکا ہے، اِس لئے بہتر ہے کہ اس سرچارج کا خاتمہ کر دیا جائے اور اسے محض آمدنی بڑھانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے،کیونکہ جس مخصوص مقصد کے لئے رقم جمع کی جا رہی تھی وہ تو حاصل ہو چکا۔جسٹس(ر) ثاقب نثار نے اپنی تقریر میں منصوبے میں شفافیت کی طرف توجہ دلائی ہے تو حکام کا فرض ہے کہ وہ اس پر توجہ دیں،دُنیا بھر میں ایسے بڑے پراجیکٹس سے عوام کو باخبر رکھنے کا اہتمام کیا جاتا ہے،بلکہ امریکہ جیسے ممالک میں تو پبلک مقامات پر ایسے دفاتر بھی خصوصی طور پر بنا دیئے جاتے ہیں، جہاں سے پراجیکٹ کے متعلق ہر قسم کی معلومات دستیاب ہوتی ہیں،جس کسی کو اس سے دلچسپی ہوتی ہے وہ معلومات حاصل کر لیتا ہے۔جناب ثاقب نثار نے بالکل درست فرمایا ہے کہ عوام کو پراجیکٹ کے متعلق علم ہونا چاہئے۔

جیسا کہ وزیراعظم عمران خان نے سنگ ِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں درست کہا کہ ڈیم بنانا سپریم کورٹ کا کام نہیں،لیکن سابق حکومتوں نے چونکہ اس سلسلے میں غفلت برتی،اِس لئے سپریم کورٹ کو آگے آنا پڑا،جناب ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کی طرف سے جو ڈیم فنڈ قائم کیا تھا اس میں پاکستان آرمی،فضائیہ،بحریہ، رینجرز، سمیت بہت سے سرکاری اداروں نے بھی فنڈز جمع کرائے۔ یہ رقم ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کر کے جمع کرائی گئی تھی،اِس لئے اُن تمام اداروں کے ملازمین کے جذبے کو بھی سراہا جانا چاہئے کہ انہوں نے مشکل حالات میں قومی کاز کے لئے فنڈ میں عطیہ دیا، جناب ثاقب نثار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عطیات جمع کرنے کے لئے بیرون ملُک گئے اور غالباً اب تک اس کارِ خیر میں مصروف ہیں۔ ڈیم اگر بروقت بھی مکمل ہو گیا تو بھی لاگت میں اضافہ متوقع ہے، کیونکہ افراطِ زر میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔حال ہی میں جو میگا پراجیکٹس مکمل ہوئے ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں اُن کی لاگت میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کی مثال تو اوپر دی جا چکی،لاہور کی اورنج لائن بھی ایسا ہی پراجیکٹ ہے، جو مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہو سکا اور نتیجے کے طور پر اس کی لاگت میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے، پشاور میٹرو کے منصوبے کی لاگت بھی ایک سو ارب تک پہنچ چکی ہے اور ابھی شاید اس کی تکمیل میں مزید ایک برس لگ جائے۔اگر ایسا ہوا تو لاگت مزید بڑھ جائے گی،جبکہ لاہور ، راولپنڈی اور ملتان میں ایسے منصوبے کہیں کم قیمت پر مکمل ہو گئے تھے، حالانکہ لاہور میٹرو کے راستے میں آنے والی جائیدادوں کو مارکیٹ کے مطابق ادائیگی کرنے پر بھی بھاری رقوم خرچ ہوئیں،جائیدادوں کے مالکوں کے ساتھ ساتھ کرائے داروں کو بھی کہیں کہیں ادائیگیاں کرنا پڑیں،اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مہمند ڈیم کا منصوبہ بروقت مکمل ہو تاکہ لاگت میں غیر معمولی اضافہ نہ ہو اور جو فوائد اس کی تکمیل سے حاصل ہونے ہیں وہ بھی پانچ سال کے بعد حاصل ہونا شروع ہو سکیں۔

اِس موقع پراگر ہم ڈیموں کی تعمیر کے سلسلے میں اپنی کوتاہیوں کی افسوسناک تاریخ پر بھی ایک نگاہِ واپسیں ڈالتے چلیں اور دیکھتے چلیں کہ ہم تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم کیوں نہ بنا سکے اور کوتاہی کہاں کہاں ہوئی،تو اصلاحِ احوال میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ یہ کہنا تو ایک عمومی روّیہ ہے کہ سابق حکومتوں نے ڈیم کے سلسلے میں کوتاہی برتی،لیکن ایسا کہتے ہوئے بھی ہم اپنی ”پسند کی سابق حکومتوں“ کو زیادہ رگیدتے ہیں اور ایسی ہی کوتاہیوں کی مرتکب دوسری حکومتوں کی جانب آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے، آج اِس بات کا بڑا چرچا ہے کہ کالا باغ ڈیم کو متنازع بنا دیا گیا اور متنازع بنانے والوں کے مفادات اس سے وابستہ تھے،لیکن جس دور میں یہ ڈیم متنازع بنا وہ جنرل ضیاءالحق کا دور تھا اور ان کے اپنے ہی گورنر فضل حق نے اس میں خصوصی کردار ادا کیا تھا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ متنازع بنانے میں اُن کی دلچسپی سے کوئی مالی مفاد وابستہ تھا، نہ ہی جنرل ضیاءالحق کے خلاف کوئی ایسی تہمت لگائی جا سکتی ہے،لیکن یہ ڈیم اگر متنازع ہوا تو اس میں گورنر فضل حق کی بے تدبیریوں کا دخل ضرور تھا، وہ طاقتور گورنر تھے اور سُنا ہے ہنسی ہنسی میں صدر ضیاءالحق کے سامنے بھی ناگفتنی باتیں کہہ دیا کرتے تھے، شاید انہوں نے اپنے صوبے کے کسی مبینہ مفاد کی خاطر یہ مسئلہ اٹھایا ہو جو بعد میں ایسا گلے پڑا کہ اب اس کا نام آنے پر ہی بعض لوگ یوں ہسٹریا کا شکار ہو جاتے ہیں جیسے انہیں کسی چھتے کی سینکڑوں بھڑوں نے بیک وقت کاٹ لیا ہو،حالانکہ ماہرین آج بھی مُصر ہیں کہ اس ڈیم کا سب سے زیادہ فائدہ صوبہ خیبرپختونخوا ہی کو ہے،کیونکہ اسے اس کے حصے کا دریائے سندھ سے جو پانی ملنا ہے وہ مل ہی اسی صورت سکتا ہے جب کالا باغ ڈیم بنے، اور اس میں سے نکلنے والی نہر سے صوبے کو پانی ملے، لیکن یہ خواب و خیال ہوا۔

جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2014ءیا 2015ءتک بھاشا ڈیم اور کابا لاغ ڈیم دونوں بنا دیں گے،لیکن لطیفہ یہ ہے کہ انہوں نے سندھ سے تعلق رکھنے والے اپنی کابینہ کے جس وزیر کو رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے بھیجا کہ مخالفین کالا باغ ڈیم پر مان جائیں وہ خود لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکاتے رہے، ویسے یہ دعویٰ اپنی جگہ کتنا عجیب ہے کہ ڈیم شروع کرائے بغیر ہی انہوں نے دعویٰ کر دیا تھا کہ وہ دونوں ڈیم2015ءتک بنا دیں گے،اس سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کابینہ کے وزیر بجلی و پانی ملک غلام مصطفےٰ کھر کی ڈیوٹی لگائی تھی کہ وہ کالا باغ ڈیم کے حق میں رائے عامہ ہموار کریں۔انہوں نے اُس وقت کے چیئرمین واپڈا شمس الملک کے ساتھ مل کر اس کام کا آغاز بھی کیا اور رائے عامہ بنانے اور بگاڑنے والوں سے روابط شروع کئے، لیکن ابھی اس کام کا آغاز ہی ہوا تھا کہ یہ حکومت ختم ہو گئی،اب پیپلزپارٹی بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ اس کی چیئرمین نے کالا باغ ڈیم کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام ملک غلام مصطفےٰ کھر کو سونپا تھا،لیکن ملک صاحب تو اپنے حصے کا سچ بول کر ریکارڈ پر لا سکتے ہیں تاکہ سابق حکومتوں کی کوتاہیوں کا تذکرہ اگر کبھی ہو تو پورے سیاق و سباق کے ساتھ ہو،بہرحال اب مہمند ڈیم کا سنگ ِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے جسے2024ءمیں مکمل ہونا ہے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہو جائے،کیونکہ ڈیموں کے سلسلے میں ہماری کوتاہیاں بڑی ہولناک ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...