سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ حکومت کا ایک اہم فیصلہ

سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ حکومت کا ایک اہم فیصلہ

  



نیوزی لینڈ حکومت نے سانحہ کرائسٹ چرچ کے حوالے سے ایک اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ خبر کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جامع مسجد النور میں دہشت گردی کے باعث شہید اور زخمی ہونے والوں کے خونی رشتہ داروں کو نیوزی لینڈ کی مستقل شہریت دے دی جائے گی اور ان سے کوئی فیس بھی نہیں لی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ نیوزی لینڈ حکومت نے امیگریشن آفس میں باقاعدہ ایک سیکشن قائم کر دیا ہے جو یہ کارروائی کم از کم وقت میں نمٹائے گا۔ متاثرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے والدین، سگے بہن بھائیوں اور اولاد کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔نیوزی لینڈ کی جامع مسجد النور میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد وہاں کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ردعمل سے پوری دنیا کی تحسین حاصل کی اور مسلمان تو خصوصی طور پر ان کے احسان مند اور شکر گزار ہیں اب متاثرین کے خونی رشتے داروں کو شہریت دینے کا فیصلہ ایک اور بڑی مثال ہے۔ یہ حسن اخلاق کا بڑا مظاہرہ ہے اس طرح کئی خاندان نیوزی لینڈ میں اکٹھے رہ سکیں گے۔ یہ اپنی نوعیت کا قابل تحسین واقعہ ہے۔اس سے قبل بھی نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم انسانی حقوق کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دے چکی ہیں، ان کے اس اقدام کو نہ صرف نیوزی لینڈ میں رہنے والی مسلمان کمیونٹی نے سراہا بلکہ نیوزی لینڈ کے شہریوں نے بھی تحسین کی ہے۔ یہ واقعی قابل قدر ہے کہ اب تک وزیر اعظم نیوزی لینڈ نے جو بھی قدم اٹھایا وہ ایسا ہی تھا۔

مزید : رائے /اداریہ