امریکہ کی دوستی

امریکہ کی دوستی
امریکہ کی دوستی

  



امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ پاکستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے۔ اس خطے کی تاریخ سے واقف لوگ اس بیان کو بار بار پڑھیں گے تو ان کی بصیرت میں اضافہ ہو گا۔ چند برس پہلے ©"No Exit From Pakistan" کے نام سے ایک کتاب منظر عام پر آئی تھی، جس میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو ناگزیرقرار دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پاکستان کی جغرافیائی حقیقت کی وجہ سے امریکہ خواہش کے باوجود اسے نہیں چھوڑ سکے گا۔

کتاب کا ٹائٹل سارتر کے ایک ڈرامے سے ماخوذ تھا جو دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس میں سٹیج ہوا تھا۔ اس ڈرامے میں بتایا گیا ہے کہ کچھ گناہ گار لوگ دوسری دُنیا میں پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ جگہ روایات کے برعکس ایک پرآسائش مکان جیسی ہے۔ وہ اس میں رہنا شروع کر دیتے ہیں، مگر اپنی بری فطرت سے ایک دوسرے کی زندگی جہنم بنا دیتے ہیں، مگر انہیں اس جہنم میں رہنے کی اتنی عادت پڑ جاتی ہے کہ ایک مرحلے پر اس مکان کے دروازے کھلتے ہیں۔ گویا نجات کا در وا ہوتا ہے، مگر ان میں سے کوئی اس زندگی کو خیرباد کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ مصنف کے بقول امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بھی ایسے ہی ہیں۔

امریکہ کبھی پاکستان کو افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف اپنا سب سے بڑا دوست قرار دیتا ہے اور پھر کبھی سارے مسئلے کی خرابی کی جڑ ہی پاکستان کو قرار دیتا ہے۔ گزشتہ چند سال سے امریکہ کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں خاصی بہتری آئی ہے۔ بعض امریکی دانشور بھارت کو مستقبل کی سپرطاقت بھی قرار دے رہے ہیں۔ اسے چین کے خلاف کردار ادا کرنے کے لئے بھی تیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ بعض مواقع پر بھارت کے متعلق امریکی گرمجوشی میں کمی کے مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

علامہ اقبالؒ نے 1920ءکے عشرے میں کہا تھا کہ جنوبی ایشیاءمیں امن کا انحصار کابل کے امن پر ہے۔ ماضی قریب کی تاریخ نے علامہ اقبالؒ کے اس قول پر کئی مرتبہ مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ جہاں بعض بھارتی حکام افغانستان سے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال پھیلانے میں مصروف ہیں وہاں بعض بھارتی دانشور کھل کر پاکستان کے ناگزیر ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اس کے بھارت کی سلامتی پر بڑے برے اثرات مرتب ہوں گے، مگر نوشتہ دیوار پڑھنے کے باوجود بھارتی ادارے پاکستان کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔

کلبھوشن نے اپنے اعترافی بیان میں بتایا ہے کہ کیسے کیسے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال پھیلائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے پیچھے بھارتی ہاتھ دیکھا جا چکا ہے مگر امریکی نائب وزیرخارجہ کا اصرار ہے کہ بھارت کے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کے شواہد نہیں ملے۔ پاکستان اس سلسلے میں متعددبار امریکیوں کو ثبوت فراہم کر چکا ہے، مگر امریکی اہلکار ان پر غور کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اکثر بھارت کی محبت میں سچ کا چہرہ دیکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں بدترین مظالم کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کی جس بڑے پیمانے پر خلاف ورزی ہوتی ہے اس کی جھلک اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بھی ملتی ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھی بھارتی ہاتھ صاف نظر آتا ہے، مگر بدقسمتی سے امریکی اہلکاروں کو یہ سچ نظر نہیں آتا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگیں ہو چکی ہیں اور آج دونوں ملک ایک دوسرے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں، لیکن اگر اس کے باوجود امریکی حکام کو پاکستان کا دشمن نظر نہیں آتا اور وہ اصرار کرتے ہیں کہ پاکستان کا دشمن ان کا دشمن ہے تو اس پر حیرت کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان روایتی طور پر امریکہ کا حلیف رہا ہے۔ تاریخ کے سفر میں امریکہ نے بعض مواقع پر حق دوستی بھی ادا کیا۔ امریکی فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ 1971ءمیں سقوط ڈھاکہ کے بعد فتح کے نشے میںمغلوب اندراگاندھی مغربی پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے بے قرار تھی۔ ہنری کسنجر کے مطابق اس وقت یہ امریکہ ہی تھا،جس نے بھارت کو اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے سے باز رکھا تھا، مگر اس کو حقیقت ہی کہا جاتا ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان میں سوویت یونین نے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے پاکستان کو دو کاموں کی سزا دی تھی۔ ان میں سے ایک تو پشاور کے قریب وہ اڈے تھے، جہاں سے امریکی جاسوس جہاز پرواز کر کے سوویت یونین کی جاسوسی کرتے تھے۔

اس سے بھی بڑھ کر سوویت یونین پاکستان کے اس گناہ کو کسی قیمت پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھا کہ اس نے چین اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ صدر نکسن کے دورہ چین سے پہلے امریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجر پاکستان آئے تھے اور یہاں سے خفیہ طور پر چین چلے گئے تھے۔ اس دورے نے چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی بہتری میں زبردست کردار ادا کیا تھا۔ سوویت یونین نے بھارت کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش قائم کیا تھا اور یوں اس نے اپنے تئیں حساب برابر کرنے کی کوشش کی تھی۔

پاکستان امریکہ کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا رہا ہے۔ کابل پر سوویت قبضہ کے بعد یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھاکہ اگلے چند سال میں سوویت یونین بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچ جائے گا اور یوں یہاں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال دے گا۔ امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تو پاکستان اس کا اتحادی تھا۔ امریکی کچھ بھی کہیں، مگر اس حقیقت کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ اگر پاکستان امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو سوویت خطرہ بحیرہ عرب تک پہنچ جاتا۔

یہ پاکستان کی قربانیاں تھیں، جس کی وجہ سے سوویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، مگر اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات بڑھ گئے۔ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کے ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں اور اس جنگ کے نقصان کا تخمینہ کھربوں ڈالر تک پہنچ رہا ہے، مگر آج امریکی پالیسیاں تشکیل دیتے ہیں تو پاکستان کے کردار کو سرے سے فراموش کر دیتے ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ وہ افغانستان میں ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،جو ہمہ وقت پاکستان کے خلاف سرگرم عمل رہتے ہیں۔

ہم پاکستان کے متعلق امریکی نائب معاون وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، مگر ہم تاریخی حقائق کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کے متعلق امریکی زیادہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں گے۔ انہیں اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود وہ افغانستان میں مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے اور اب وہ کسی نہ کسی صورت میں اس دلدل سے نکلنا چاہتے ہیں۔افغانستان کے مسئلے کے پائیدار حل کے بغیر کوئی بھی امریکی فیصلہ اس خطے کو کسی بڑی آزمائش سے دوچار کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...