شریفوں میں ا تفاق، اختلاف یا نئی حکمت عملی؟

شریفوں میں ا تفاق، اختلاف یا نئی حکمت عملی؟
شریفوں میں ا تفاق، اختلاف یا نئی حکمت عملی؟

  



حیرت تو اس پر ہے کہ ہمارے بہت سے بھائی جانتے بوجھتے ہوئے بھی حالات کو کسی اور رخ اور انداز سے دیکھ رہے اور قائد حزبِ اختلاف سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے تازہ ترین فیصلوں کو حیرت انگیز قرار دے رہے ہیں، حالانکہ خود یہی حضرات بہت کچھ جانتے اور ایسا دعویٰ بھی کر رہے۔ان میں ہمارے کئی قریبی احباب وہ بھی ہیں جو جاتی امرا اور ماڈل ٹاﺅن کے بہت قریب ہیں، بلکہ ہر دو جگہوں کے لئے یکساں اہمیت بھی رکھتے ہیں،ان حضرات کو ماضی کا بھی علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ شریف خاندان میں چھوٹے بڑے کا لحاظ اس قدر ہے کہ ایسی ڈپلومیسی اب ظاہر ہوئی،

حالانکہ یہ مظاہرہ ماضی میں کئی بار ہوا، حتیٰ کہ چودھری نثار کے معاملے پر بھی بات سامنے آتی رہی، وہ بڑے بھائی کو ناپسند تھے تو چھوٹے بھائی کی ان کے ساتھ دوستی اب تک برقرار ہے،حالانکہ یہی دوست بتاتے ہیں کہ اصل میں دوستی تو بڑے بھائی کے ساتھ تھی،لیکن وقت ایسا آ گیا جب چودھری نثار کی دوستی اوپر سے نیچے منتقل ہوئی وہ اب بھی ہے،انہی دوستوں کا کہنا ہے کہ اس خاندان میں لحاظ ہے اور محمد شہباز شریف نے ایک سے زیادہ بار وزیراعظم بننے کی پیشکش ٹھکرا دی، حتیٰ کہ سابق وزیراعلیٰ بڑے بھائی کے احترام میں صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستیں جیت کر بھی قومی اسمبلی والی نشست خالی کر دیتے تھے۔

ایسا پہلی بار ہوا کہ شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کردار ادا کرنا شروع کیا جب محمد نواز شریف عدالتی حکم کے باعث انتخابات میں حصہ ہی نہ لے سکے اور شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں کردار نبھانا پڑا اور اس بار پنجاب میں سیاست حمزہ شہباز شریف کے حوالے کی گئی جو قومی اور صوبائی نشستوں سے جیتے اور صوبے میں رہ گئے اور اب قائد حزبِ اختلاف ہیں،ان کی جماعت ان کو پی اے سی ون کا چیئرمین بنانے پر بضد ہے تاہم لندن سے قومی پی اے سی کے چیئرمین کی جو مثال بنا دی وہ اب یہاں بھی لاگو ہو جائے گی اور شاید حمزہ شہباز کو بھی پی اے سی کی چیئرمین شپ کی امیدواری سے ہی دستبردار کرا لیا جائے۔

جہاں تک قائد حزبِ اختلاف(قومی) محمد شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کے لندن قیام میں توسیع کی اطلاع یا خبر تعجب انگیز بالکل نہیں، جب وہ لندن جانے کے بعد آنے والی پہلی تاریخ پیشی پر عدالت میں نہیں آئے تو واضح ہو گیا کہ ماضی خود کو دہرا رہا ہے۔یاد رہے کہ پنجاب میں یہ واقع پیش آ چکا ہے۔ جب یہاں پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت بن گئی تو قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف تھے۔ کچھ عرصہ ان کی موجودگی میں گہما گہما رہی اور پھر یہ علاج کے لئے لندن گئے تو اس وقت تک وہیں قیام کیا جب تک پاکستان میں حالات موافق نہ ہو گئے،ان کی عدم موجودگی میں چودھری پرویز الٰہی قائد حزب اختلاف کے فرائض احسن طریقے سے نبھاتے تھے،

اِس لئے دوستوں کو سب یاد ہونا چاہئے کہ لمحہ لمحہ دونوں بھائیوں کی حکمت عملی میں اختلاف نظر آیا،لیکن احترام مانع رہا، حتیٰ کہ چودھری نثار کو ٹکٹ لے کر دینے میں ناکامی کے باوجود مرکزی صدر مسلم لیگ(ن) نے کوئی منفی یا مزاحمتی ردعمل نہ دیا۔یہ خاندانی روایت ہے کہ اتفاق برادرز کے دور میں اتفاق نام کی وجہ تسمیہ ہی یہ تھی کہ بڑے میاں محمد شریف(مرحوم) اور بھائیوں کے درمیان بھی لحاظ برقرار رہا، حتیٰ کہ اختلاف کبھی تنازعہ کا باعث نہ بنا،یہ تو میاں صاحب (مرحوم) کے بعد اس خاندان میں ہوا اور میاں بشیر کی اولاد نے ایسا کیا، اور کزنوں کے درمیان اختلاف کی خبریں پہلی بار سامنے آئی تھیں،جو بتدریج دبتے دبتے بالکل غائب ہو چکی ہیں۔

خیر برسر مطلب کہ حالات اب اس نہج پر آ گئے کہ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف سے عدالت سے ریلیف حاصل کی گئی، وہ علیل ہیں،ہم ان کی صحت کے لئے دُعا گو ہیں، تاہم انصافیئے تو یہ سوال کرتے ہیں کہ کیسی بیماری ہے کہ اس کا علاج صرف لندن ہی میں ممکن ہے، حالانکہ مولانا فضل الرحمن تک نے دِل میں نئے والو(سٹنٹ) یہیں سے لگوائے اور ما شاءاللہ تقریریں کرتے پھرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان تو باربار کہتے ہیں کہ یہ حضرات طویل عرصہ برسراقتدار رہے اور کوئی ایسا ہسپتال نہ بنا سکے،جہاں ان کا علاج ہو سکے۔ وہ بار بار این آر او کا ذکر کرتے ہیں اور ہمارے دوست جن سے ہم ابتدا میں مخاطب ہوئے یہ کہتے ہیں کہ خان صاحب کو گھبراہٹ ہے کہ ایسی کوئی بات ان سے نہیں، ان قوتوں سے ہوتی ہے جو کچھ دینے کی اہلیت رکھتی ہیں۔

اب اگر ذرا معمولی نظر سے بھی جائزہ لیں تو جو اقدام پی اے سی کی چیئرمین شپ اور پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کے حوالے سے لیا گیا وہ از خود ظاہر کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ تو ہے کہ رانا تنویر حسین اور خواجہ آصف کو ترجیح دی گئی ہے۔خاقان عباسی اور احسن اقبال کو نظر انداز کیا گیا، کہا جاتا ہے کہ خواجہ آصف کے خلاف نیب نے ہتھ ہولا کر دیا ہے کہ وہ نیب کے نوٹس پر مسلسل دو بار پیش نہیں ہوئے اور اب وہ پارلیمانی لیڈر ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات پارلیمانی سطح پر تعلقات کار کے حامی ہیں اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر ان پر بھروسہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔یوں ایک فضا بنتی نظر آ رہی ہے۔یوں بھی تھوڑا غور کریں تو آصف علی زرداری زیادہ جذباتی یا ”ملی ٹینٹ“(اسے ثابت قدم کہہ لیں) نظر آتے ہیں اور پانچ سال تک اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے حکومت کرنے کے باوجود یہ تعلق برقرار نہ رکھ سکے اور اگلی بار فیر زرداری کی بجائے میاں صاحبان کی آ گئی باری، اور اب ان پر سخت وقت آیا ہوا ہے اور بات بھی بنتی نظرنہیں آتی۔

ذرا یہ بھی غور کر لیں کہ جب2018ءکے عام انتخابات کا نتیجہ دونوں جماعتوں (پیپلزپارٹی+ مسلم لیگ(ن)) میں سے کسی کے حق میں نہ نکلا تو سابق وزیراعظم سے ملاقات کرنے سے انکار کرنے والے آصف علی زرداری نے بڑھ کر قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف کو گلے لگایا اور کھلے بندوں ان کی نہ صرف حمایت کی، بلکہ ساتھ مل کر چلنے کا اعلان کیا، ابتدا تودوستی کی، بلکہ مضبوط تر دوستی کی تھی، حتیٰ کہ بلاول بھٹو زرداری نے عیادت بھی کر لی تاہم نواز شریف، زرداری ملاقات نہ ہو سکی اور پھر حال ہی میں جب آصف علی زرداری کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں،

پیپلزپارٹی نے ایوان میں احتجاج کیا تو مسلم لیگ (ن) کا رویہ طوعاً کرعاً والا تھا اور یہ محسوس ہوا کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی کے ساتھ ایک مخصوص فاصلہ برقرار رکھنا چاہتی ہے، اسی لئے مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوا اور وہ تحریک چھوڑ کر عمرہ ادا کرنے روانہ ہو گئے۔یہ ایک عمومی جائزہ ہے ،اس میں خبر بھی چھپی ہوئی ہے،اب ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ فارورڈ بلاک کی بات کرنے والے ہوا میں نہیں چھوڑتے تھے، حالیہ اقدام پر شدید نوعیت کے اختلاف رائے نے لکیر کو واضح کر دیا ہے، آگے اللہ جانے کیا ہو گا؟

مزید : رائے /کالم


loading...