پٹرول پر 36، ڈیزل پر 47روپے ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج اگلے ماہ ختم ہو جائیگا

پٹرول پر 36، ڈیزل پر 47روپے ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج اگلے ماہ ختم ہو جائیگا

  



اسلام آباد(آئی این پی،آن لائن)جمعہ کو سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے سوالات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ1951میں پاکستان میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی 5260 کیوبک میٹر تھی جو کہ اب کم ہو کر سالانہ 908 کیوبک میٹر رہ گئی ہے اس کی وجہ آبادی کا بڑھتا جانا ہے،اگر یہ ایسے ہی رہا تو پانی کے تخمینے میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں پانی کی دستیابی مزید کم ہو کر سالانہ 800 کیوبک میٹر رہ جائے گا،سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب میں وزیر پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ مکمل ہو گیا، سرچارج کی مد میں 64.8ارب روپے جمع ہوئے،نیلم جہلم سرچارج 30 جون کے بعد بلوں پر ختم کر دیا جائے گا۔سینیٹر سسی پلیجو کے سوال کے جواب میں وزیر توانائی عمر ایوب خان نے ایوان کو بتایا کہ سمندرمیں آف شور ڈرلنگ جاری ہے۔ 4800میٹرڈرلنگ ہوچکی جبکہ 5ہزار ہوناباقی ہے۔ آئندہ  3سے4ہفتوں میں پتہ چل جائیگاکہ تیل ہے یا گیس۔ وزارت پیٹرولیم نے اپنے تحریری  جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ پٹرول کی قیمت خرید 62روپے 55پیسے اور قیمت فروخت 98روپے 89پیسے فی لٹر ہے۔ ڈیزل کی قیمت خرید 70روپے 26پیسے اور قیمت فروخت 117روپے 43پیسے فی لٹر۔ مٹی کے تیل کی قیمت خرید 69روپے 65پیسے اور قیمت فروخت 89روپے 31پیسے فی لٹر ہے۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت خرید 66روپے 44پیسے اور قیمت فروخت 80روپے 54پیسے فی  لیٹرہے۔ پٹرول پر فی لیٹر ٹیکسز کی مد میں 26روپے 50پیسے اور ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد میں 9روپے 84پیسے فی لٹر وصول کئے جارہے ہیں۔ مٹی کے تیل پر 15روپے 86پیسے فی لٹر ٹیکس اور 15روپے 86پیسے ڈسٹری بیوشن اینڈ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ کی مد میں وصول کیے جارہے ہیں۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ رواں سال ملک بھر میں بجلی چوری سے قومی خزانے کو 30کروڑ 27لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

سینٹ اجلاس

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے آزادی اظہار کے عالمی دن کی مناسبت سے قراداد پیش کی،جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہا میڈیا کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔سینیٹر عبدالقیوم نے کہا صحافیوں کی ٹریننگ کے لئے میڈیا اکیڈمی ہونی چا ہئے، تاکہ ان کی نوکری پکی ہو۔،سینیٹر سراج الحق نے کہا موجودہ حکومت کے آنے کے بعد صحافیوں کے چہرے زرد ہو گئے۔ترجیحی بنیادوں پر صحافیوں کے مسائل حل کیئے جائیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے ان کے روزگار کا تحفظ ہو۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے غیر اعلانیہ سنسر شپ ہے۔سینیٹرمشاہد حسین سید نے کہا کہ2002 سے اب تک 72 صحافی شہید ہو چکے ہیں، ان کیلئے سپیشل میڈل ہونا چا ہئے،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ میڈیا ورکرز کی بھی انشورنس کرانی چا ہئے،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ستارہ صحافت اور تمغہ صحافت بھی ہونا چا ہئے۔ِِِِِِِِِِِِِِسینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ فریڈم آف پریس بنیادی حق ہے۔مارشل لا کے دور میں جب کوئی خبر سنسر ہوتی تھی تو وہ جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تھی۔ 

سینٹ قرارداد

مزید : صفحہ آخر


loading...