بیلٹ اینڈ روڈفورم.... چین کی عظیم کا میا بی

بیلٹ اینڈ روڈفورم.... چین کی عظیم کا میا بی
بیلٹ اینڈ روڈفورم.... چین کی عظیم کا میا بی

  



چین میں 25سے27اپرےل تک ”بیلٹ اینڈ روڈ فورم“ کے کامیاب اجلاس سے ثابت ہو گیا کہ چین کے ”بیلٹ اینڈروڈ“پروگرام کو دُنیا بھر سے بہت زیادہ پذےرائی مل رہی ہے۔ 37 ممالک کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ 120سے زائد ممالک کے نما ئندوں ،40عالمی تنظیموں اورپانچ ہزار وفود نے مشرق کو مغرب سے جوڑنے والے اس فورم میں شر کت کی۔وسطی ےورپ کے سترہ ممالک نے چین کے ساتھ معاشی منصوبوں کے لئے گر وپ تشکیل دے دیا ہے۔

اٹلی G7کا وہ پہلا ایسا ملک ہے جو سرکاری طور پر ”بےلٹ اینڈروڈ“ پروگرام میں شامل ہو چکا ہے۔حتیٰ کہ ایشیا میں امرےکہ کا اہم اتحادی ملک جاپان بھی ”تےسر ے فرےق“ کے طور پر ”بےلٹ اینڈ روڈ“ پروگرام میں شامل ہو چکا ہے۔ امرےکہ واضح طور پر ”بےلٹ اینڈ روڈ“ پروگرام کی مخالفت کر رہاہے۔ امرےکی میڈےا اور کئی تھنک ٹےنکس ” بیلٹ اینڈ روڈ“ پروگرام کے خلاف بھر پور مہم چلا رہے ہیں۔ چینی سرمایہ کاری کے خلاف ”debt-trap diplomacy“ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جو ترقی پذےر ممالک ”بیلٹ اینڈ روڈ “ پروگرام میں شامل ہوں گے ان ممالک کی معیشت کو چینی سرمایہ کاری قرضوں اور سود میں جکڑلے گی ےوں چین ان ممالک کی معےشت کو اپنی گرفت میں لے لےگا۔

چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ“ پروگرام کے ساتھ کئی ممالک شامل ہو رہے ہیں اور ”سی پیک “ کی صورت میں پاکستان بھی براہِ راست اس پرو گرام سے جڑا ہو ہے ۔اس لئے اس سوال کو سمجھنا ضروری ہے کہ کیا مغربی سرمایہ کا ری کی طرح چین کی سرمایہ کاری کا مزاج بھی سامراجی نوعےت کا ہے؟

دُنےا میں سرما یہ داری نظام قائم ہونے کے بعد کسی اےک امےر ملک ےا اس ملک کی کسی کمپنی کی جانب سے معاشی اعتبار سے غرےب ممالک میں سرما ےہ کاری کرنا کوئی اچھوتی با ت تصور نہیں کی جاتی۔ تارےخ کو اےک طرف رکھتے ہوئے اگر صرف حال ہی کو دےکھا جائے تو اس وقت امرےکہ،برطانیہ، فرانس،جرمنی سمےت دُنےا کا کوئی اےک بھی ترقی ےافتہ ملک اےسا نہ ہو گا، جس کی سرمایہ کاری دُنےا کے اکثر ممالک میں موجود نہ ہو،مگر مغربی ممالک اور چےنی سرماےہ کاری کے طرےقہ کار میں اےک بہت ہی بنےادی فرق پاےا جاتا ہے۔

نومبر 2009ءمیں افرےقی ملک روانڈا کے صدر پال کےگمے نے Why Africa welcomes the Chinese کے عنوان سے اےک مضمون لکھا جسے برطانوی اور مغربی اخبارات میں بھی شائع کےا گےا۔ جےسا کہ مضمون کے عنوان سے ہی ظاہر ہے روانڈا کے صدر اس مضمون میں ان وجوہات کو بےا ن کرتے ہیں جن کے باعث براعظم افرےقہ میں چےنی سرمایہ کاری کو خوش آمدےد کہا جاتا ہے۔اس مضمون کا لب ِ لباب ےہی تھا کہ امرےکہ اور ےورپی ممالک جب بھی افرےقی ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو افرےقہ کی بے تحاشا غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مغربی سرمایہ کار اےسی اےسی شرا ئط رکھو اتے ہیں جن سے مغربی ممالک تو سراسر فا ئدے میں رہتے ہیں،مگر افرےقہ خسارے میں رہتا ہے۔

دوسرا سامراجی پس منظر رکھنے کے باعث امرےکہ اور ےو رپی ممالک سرماےہ کا ری کرنے کے لئے اےسی سےاسی شرائط بھی پےش کرتے ہیں، جن کا حتمی مقصد سامراجی مقاصد کا حصول ہوتا ہے اور ان سےاسی شرائط کو ”جمہورےت“ ”انسانی حقوق“ ”اظہار رائے کی آزادی“ ”اختلاف رائے کی آزادی “جےسے خوبصورت نام دیئے جاتے ہیں، مگر دوسری طرف جب چےن ےا چےنی سرمایہ کار افرےقہ میں سرما ےہ کاری کے لئے آتے ہیں تو ان کی شرائط میں اےسے جھول نہیں ہوتے۔ وہ سامراجی ےا سےاسی مقاصد کے بغےر صرف اپنی سرمایہ کاری پر ہی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ افرےقہ کے ساتھ چےن کا تعلق ابھی قدرے نےا ہے، مگر پاکستان کے ساتھ چےن کا سفارتی تعلق 1951ءسے ہے اور اس سفارتی تعلق میں 1960ءکے عشرے سے بھرپور معاشی تعلق کا رشتہ بھی استوار ہو گےا۔

شاہراہ قرا قرم کی تعمےر، ہےوی مےکےنکل کمپلےکس (ٹےکسلا)، چشمہ نےو کلےئر پلانٹ، نےلم،جہلم ہائےڈرو الےکٹرک پاور پراجےکٹ، 2002ءمیں گوادر میں گہرے سمندر کے لئے پورٹ کی تعمےر،2008ءمیں قراقرم میں رےلوے کی تعمےر کا معاہدہ، دےامےر بھاشا ڈےم کی تعمےر میں چےن کی 12.6ارب ڈالرز کی سرمایہ کا ری، بجلی پےدا کرنے کے درجنوں منصوبے ، 2010ءسے2015ءتک 75ارب ڈالرز کے منصوبوں پر سرماےہ کاری پاکستان میں چےن کی سرمایہ کاری کی صرف چند مثالےں ہیں۔اےک کالم میں اتنی گنجائش ہی نہیں کہ چےن کے پاکستان میں تمام معاشی و عسکری منصوبوں کا احاطہ کےا جا سکے۔

پاکستان میں چےن کی اس تمام تر سرماےہ کا ری کے باوجود کوئی اےک مثال بھی اےسی نہیں ملتی کہ چےن نے کبھی اس سرماےہ کاری کی آڑ لے کر پاکستان کے داخلی ےا سےاسی معاملات میں دخل دےنے کی ےا پاکستان پر کسی بھی طرےقے سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہو۔ روانڈا کے صدر پال کےگمے کے اس آرٹےکل کا خوش کن پہلو ےہی ہے کہ اب افرےقہ سمےت دُنےا کے دےگر خطوں میں بھی چےن کی زبردست معا شی اور عسکری قوت بننے کے باوجود اس کے غےر سامراجی روےے کو تسلےم کےا جا رہا ہے۔

گز شتہ تےن سو برس سے مغرب سے کےا کوئی اےک بھی اےسی مثال پےش کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی مغربی ملک معاشی و عسکری اعتبار سے مضبوط ہوا ہو اور اس نے اپنی اس معاشی اور عسکری پوزےشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غرےب اور اپنے سے دور دراز کے ممالک میں کسی بھی طرح کی سامراجی مداخلت نہ کی ہو؟ ہنری کسنجر امرےکی سےکرٹری آف اسٹےٹ رہنے کے ساتھ ساتھ امرےکی خارجہ پالےسی کی تشکےل میں اےک انتہائی اہم شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔2011ءمیں منظر عام پر آنے والی اپنی کتاب On Chinaمیں ہنری کسنجر یہ موقف اپنانے پر مجبور ہے کہ چےن دُنےا کے داخلی سےاسی معاملات میں مداخلت کا بالکل خواہاں نہیں ہے۔

دوسری طرف اگر ہم ماضی کو اےک طرف رکھتے ہوئے کچھ ہی عرصہ قبل پاکستان کے لئے امرےکی معاشی امداد کو دےکھےں جسے کےری لوگر بل کا نام دےا جاتا ہے اور جسے 2010ءمیں امرےکی کانگرس نے منظور کےا۔اس بل میں پاکستان کے لئے پانچ سال میں مختلف منصوبوں کے لئے 7.5بلےن امرےکی ڈالرز رکھے گئے۔اس امداد کے وعدے کے ساتھ پاکستان کو جائز و ناجائز شرائط کی اےک لمبی چوڑی فہرست بھی ساتھ تھما دی گئی۔ یہ پاکستان کے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔پاکستان ہی کےا امرےکہ اےشےا، افرےقہ اور لاطےنی امرےکہ کے جن ممالک میں بھی سرماےہ کاری کرتا ہے ان ممالک کی سےاسی، معاشی اور عسکری پالےسےوں میں بھی بھرپور مداخلت کرتا ہے۔

اب سب سے بنےادی سوال ےہی ہے کہ کےا پاکستان ، چےن کی جانب سے کی گئی اربوں ڈالرز کی سرماےہ کاری اور اقتصادی راہداری کے منصوبوں سے اسی طرح کے فائدے اٹھا سکتا ہے جس طرح کے فائدے حاصل کرنے کے دعویٰ کئے جا رہے ہیں۔یقینا ً چےن کی جانب سے پاکستان میں اس قدر خطےر سرماےہ کاری کے منصوبوں سے پاکستان کے حکمران طبقات کے لئے سخت آزمائش کا مرحلہ بھی شروع ہو گےا ہے۔اگر ماضی کی رواےات سے مکمل طور پر اپنے آپ کو الگ رکھتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں نے یہ ثابت نہ کےا کہ وہ نہ صرف اتنے بڑے پےمانے کی بےرونی سرماےہ کاری کو شفاف انداز سے اپنے انجام تک لے جانے کی بھر پور صلاحےت رکھتے ہیں اور شفافےت کے ساتھ ساتھ اس خطےر سرمایہ کاری کے لئے مطلوب اہلےت بھی رکھتے ہیں تو کھربوں روپے کی اس سرمایہ کاری کا بھی پا کستان کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...