ہماری قومی معیشت اور عالمی ادارے

ہماری قومی معیشت اور عالمی ادارے
ہماری قومی معیشت اور عالمی ادارے

  



پاکستان کی قومی معیشت شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے اس بارے میں دو آراءنہیں پائی جاتی ہیں ،لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں ایک رائے کے مطابق معاشی بدحالی کے اسباب گزرے دس سالوں میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے ایسی معاشی پالیسےاں اختےار کیں جن کے نتےجے میں قومی اقتصادےات قرضوں کے بوجھ تلے دبتی چلی گئی اور آج عالمی قرضوں پر سود اس قدر ہو چکا ہے کہ اس کی ادائےگی کے لئے مزید قرضے درکار ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ عالمی قرضوں کی طے شدہ سالانہ ادائےگی (اصل زر+ سود)اور دفاعی اخراجات کرنے کے بعد کچھ بچتا ہی نہیں ہے کہ تعمیر و ترقی کے لئے مختص کیا جا سکے۔ویسے بے نظیر بھٹو نے بہت پہلے ایسی ہی بات باانداز دگر کی تھی۔ انہوں نے درست کہا ہے۔ ہمیں ٹیکسوں سے جس قدر آمدنی ہوتی ہے اس کا زےادہ تر حصہ انہی دو مدات میں خرچ ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد جو معمولی سی رقم بچتی ہے وہ دیگر غیر منفعت بخش مدات میں خرچ ہو جاتی ہے۔ ترقےاتی کاموں کے لئے درکار رقم نہیں بچتی اس لئے تعمیر و ترقی کے کام شروع نہیں کئے جا سکتے ہیں۔ ےہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ ادائےگےوں کا بوجھ زےادہ ہے جبکہ وصولےوں میں اضافہ ہو نہیں رہا ہے۔ اس کی وجوہات تلاش کرنے اور انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

ےہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ ٹیکس وصولےوں کا تعلق صرف ٹیکس وصول کرنے والے محکموں کی کارکردگی سے نہیں ہوتا ہے ،بلکہ قومی معاشی سرگرمےوں اور اقتصادی نمو کے ساتھ ہوتا ہے معاشی سرگرمیاں اگر وقوع پذیر ہو رہی ہوں۔ معیشت میں کھلا پن موجود ہو۔ تعمیر و ترقی کے کام ہو رہے ہوں۔ گردش زر زوروں پرہو لوگوں کو روزگار کے مواقع مل رہے ہوں ان کی قابل تصرف آمدنےاں بڑھ رہی ہوں۔ اندرون ملک سرماےہ کاری کے موافق حالات ہوں نئے منصوبے شروع ہو رہے ہوں۔ غیر ملکی سرماےہ کار ےہاں آکر سرماےہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہوں ےعنی فارن ڈائرےکٹ انویسٹمنٹ کا دور دورہ ہو۔

اےسے حالات کی موجودگی میں اقتصادی نمو کی شرح خوشگوار ہوتی ہے۔ سرماےہ دارانہ معیشت کے آزمودہ اصولوں کے مطابق جب معیشت میں گرم بازاری کا دور دورہ ہو تو اشےاءو خدمات کی طلب میں اضافے کے باعث ایک طرف کاروباری سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں۔ کاروبار کھلے پن سے دوچار ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف اشےاءاور خدمات کی قےمتوں میں اضافہ ہوتا ہے مہنگائی ہوتی ہے ،کےونکہ لوگوں کی آمدنےوں میں اضافہ بھی ہو رہا ہوتا ہے ۔ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے معقول رقوم ہوتی ہیں ۔ان کے پاس روزگار بھی ہوتا ہے، اس لئے انہیں مہنگائی تکلیف نہیں دےتی ہے۔ دراصل اشےا اور خدمات کی طلب میں اضافہ ، سرماےہ کاری کے فروغ کا باعث بنتا ہے۔ لوگوں کو روزگار ملتا ہے ، ان کی قابل تصرف آمدنےوں میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اشےاءو خدمات کی قےمتوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ ےہ سارے عوامل ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیںاور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔طلب میں اضافہ ، سرماےہ کاری میں اضافہ، مہنگائی میں اضافہ ےہ عوامل ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں معاشی سرگرمےاں فروغ پا رہی ہوتی ہیں۔ حکومت کو ٹیکسوں کی صورت میں معقول آمدنی بھی ہو رہی ہوتی ہے۔ ےہی صورتحال سابقہ دور حکمرانی میں دےکھنے میں آئی ۔ کاروباری سرگرمےاں عروج پر تھےں۔ ن لیگی حکومت کے پانچ سالوں کے دوران ٹیکس وصولےوں کی شرح بتدرےج بڑھتی رہی اور تقرےباً دگنی ہو گئی۔

مہنگائی کے اثرات نے عوام کو پریشان نہیں کیا۔ قرض بھی لیا جاتا رہا عالمی ادارے پاکستان کی پشت پر کھڑے تھے آئی ایم اےف ، ورلڈ بےنک ، لندن و پیرس کلب، ایشےن ڈویلپمنٹ بےنک، اسلامک ڈوےلپمنٹ بےنک وغیر ہم سب کے ساتھ معاملات بہتر انداز میں چل رہے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلیک اکانومی بھی فروغ پا رہی تھی ہماری اصلی معیشت ےعنی ڈاکومینٹڈ اکانومی کے نےچے بلیک اکانومی بھی فروغ پا رہی تھی۔ اس کے حجم کے بارے میں ماہرےن کی مختلف آراءہیں ، لیکن ایک بات واضح ہے کہ وہ بھی فروغ پا رہی تھی اور ہماری اصلی و حقیقی معیشت کے متوازی چل رہی تھی۔

موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی اس بلیک اکانومی پر ہتھوڑے برسانے شروع کر دئےے۔ کرپشن کے خاتمے اور شفافےت کے فروغ کے حوالے سے بہت سے اقدامات اٹھائے۔ معیشت کو " پاک صاف" کرنے کے نام پر بہت سے اےسے " اچھے اقدامات" اٹھائے جن کے نتائج آج ہمارے سامنے مہنگائی ، کمزور معاشی سرگرمی اور پست ٹیکس وصولےوں کی شکل میں آرہے ہیں جو اقدامات حکومت اٹھا رہی ہے درست ہیں، لیکن ان کے منفی اثرات سے نمٹنے کی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں ہے جس کے باعث اچھی پالیسی کے برے اثرات نے ہماری قومی معیشت کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

بحیثیت مجموعی ہم سردبازاری کے دور سے گزر رہے ہیں۔ عالمی اداروں نے فراخدلی سے ہماری مدد کرنے سے ہاتھ کھےنچ لیا ہے اب وہ پہلے اپنی رقوم کی " محفوظ واپسی" کو ےقےنی بنانے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ اس بات کو ےقینی بنا رہے ہیں کہ ان کی ” رقوم“ مع سود کس طرح واپس ہوں گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات طول پکڑ رہے ہیں انہیں ہمارے مسائل حل کرنے سے زےادہ اپنی وصولےوں سے دلچسپی ہے امیدِ واثق ہے کہ وہ ہمیں قرض دے دےں گے، لیکن شرائط کڑی ہوں گی۔ اسد عمر تو چلے گئے، لیکن ان کی پیش گوئی کے مطابق عوام کی چیخےں ضرور نکلےں گی۔ بلند آہنگ کے ساتھ۔

مزید : رائے /کالم


loading...