vگمنام ہیروزکے نام انٹرنیشنل فائر فائٹرزڈے- 4 مئی

vگمنام ہیروزکے نام انٹرنیشنل فائر فائٹرزڈے- 4 مئی

  



دنیا بھر میں حادثات و سانحات میں خطرات کو مول لے کر جو دوسروں کی قیمتی جانیں اور املاک بچاتے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے چُنے ہوئے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر دہکتے شعلوں کا دیوانہ وار مقابلہ کرتے ہیں۔ اِن عظیم لوگوں کو ایمرجنسی کال موصول ہونے سے لیکر آپریشن مکمل کرنے تک بے شمار چیلنجز کا سامنا رہتا ہے لیکن یہ ہر چیز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام ا لنا س کی خدمت میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ دُنیا بھر میں اِن عظیم لوگوں کو ریسکیورز اور فائر فائٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ گمنام سپاہی عوام الناس کو بر وقت ایمرجنسی ریسپانس فراہم کرکے احساس تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ 

ہر سال4 مئی کا دن دُنیا بھر میں اُن گمنام ہیروز (فائر فاٗٹرز) کی یاد میں منایا جاتا ہے جو حادثات و سانحات میں بروقت جائے حادثہ پر پہنچ کر بلا تخصیصِ رنگ و نسل، قومیت اور حسب و نصب پیشہ ورانہ خدمات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔4 مئی کی تاریخ کا تعلق سینٹ فلورین نامی عظیم فائرفائٹر کی یوم وفات سے منسلک ہے جو ایک فائر فائٹنگ سکواڈ کا کمانڈر تھا جس نے اپنی شجاعت، بہادری اور عزم مصمم سے بمعہ عملہ آسٹریلیا میں ایک بڑے آگ کے حادثے میں فرض کی راہ میں جان دے دی تھی اور پورے گاوٗں کو جلنے سے بچا لیا۔

تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ آگ اور انسان کا تعلق بہت پرانا ہے اور جو ممالک ترقی یافتہ کی فہرست میں شامل ہیں وہاں بھی آگ کے بڑے بڑے حادثات کیوجہ سے بہت سی قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوتا رہا جسکی بنیاد پر ان ممالک نے فائر سیفٹی کے لئے اقدامات کو یقینی بنایا اور آج وہ تمام ممالک ترقی پذیر ممالک کیلئے فائر سیفٹی کے حوالے سے مثال بنے ہوئے ہیں۔آگ کے واقعات نے دنیا کی سپر پاور امریکہ کو بھی 1608ء میں نہ چھوڑا جب بہت سی قیمتی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا۔ اسکے علاوہ 1666ء میں گریٹ فائر آف لندن نے تو لندن کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ جسمیں 3200 1 گھر 87 چرچ کے علاوہ بہت سا نقصان شامل تھا۔ اسطرح بوسٹن شہر میں آگ کے بڑے واقعے نے انتظامیہ کی توجہ فائر سیفٹی کے حوالے سے قانون سازی، عمارتوں کی تعمیر، متعلقہ اداروں کے قیام کی طرف مبذول کروائی۔ اسکے علاوہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر نیو یارک میں دہشت گردی کے نتیجے میں لگنے والی فائر میں 300 فائر فائٹرز (جو فرسٹ رسپانڈر تھے) کی شہادت نے فائر فائٹرز کی بہادری اور جُرات کو تاریخ رقم کی۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں واقعات کے بعد نہ صرف حکومت کی طرف سے سیفٹی کے اقدامات لئے گئے بلکہ مقامی سطح پر فائر سیفٹی کو یقینی بنایا گیا۔

اگر ہم ترقی پذیر ممالک مثلاََ پاکستان میں فائر سیفٹی کا جائزہ لیں تو سب سے اہم بات جو سامنے آتی ہے کہ بحیثیت قوم سیفٹی کلچر کے فروغ کی طرف نہ رجحان ہے نہ ہی عوام الناس میں اس حوالے سے آگاہی ہے۔ لوگ فائر فائٹرز کو  دُور سے شعلوں پر پانی پھینکنے والا سمجھتے ہیں۔ اِس آگاہی کے فقدان کی مختلف وجوحات ہیں جسمیں سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سیفٹی فائر سے متعلقہ ہو یا عمارت کے حوالے سے ہمارے نصاب کا حصہ نہیں ہے اُس کے بعد ایمرجنسی اور ڈزاسٹرز مینجمنٹ کے حوالے سے کوئی ڈگری پروگرام نہیں جیسے انجینیرنگ، میڈیکل وغیرہ۔ جائے حادثہ پر جب فائر فائٹرز پہنچتے ہیں تو لوگ سمجھتے ہیں کہ شایدانہوں نے صرف پانی پھینکنا ہے اس لئے ہر بندہ اپنا اپنا مشورہ دے رہا ہوتا ہے وہ اِس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ آگ سے دیوانہ وار لڑنے والا یہ سپاہی باقاعدہ اِس شعبے کی تربیت لیکر ہی ایمرجنسی سروس کا حصہ بنتا ہے فائر فائٹرز نے کیسے جائے حادثہ کا جائزہ لیکر عمارت میں داخلی راستے کا استعمال کرتے ہوئے حوض پائپ کی مدد سے فائر فائٹنگ کرنی ہے یاہنگامی انخلا کے راستے کا استعمال کرتے ہوئے پھنسے ہوئے لوگوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقام تک پہنچانا ہے یہ فائر فائٹرز بہتر جانتا ہے۔

پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے قیام سے اب تک 68 لاکھ سے زائد متاثرین کو مختلف حادثات وسانحات میں بروقت ریسکیو کیا ہے جسمیں 1لاکھ 24ہزار سے زائد آگ کے واقعات پر پیشہ ورانہ فائر فائٹنگ سے 376 ارب سے زائد کی مالیت کے اثاثہ جات کے نقصانات سے بچایا اور مقامی سطح اور میڈیا کے نمائندگان اِس حقیقت سے بے خبر ہوں گے کہ اِن فائر فائٹرز کو ایمرجنسی کال موصول ہونے سے لیکر چیلنج در چیلنج کا سامنا رہتا ہے جیسے یہ بات عملی مشاہدے سے سامنے آئی ہے کہ لوگ پہلے تو کافی دیرتک کال نہیں کرتے۔ وہ خود آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں جب اُنہیں لگتا ہے کے یہ ان کے بس کا کام نہیں تو وہ 1122 کو کال کرتے ہیں۔اسکے بعد جب کال کے فوراََ بعد ایمرجنسی وہیکلز جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوتی ہیں تو ترقی یافتہ ممالک کی طرح روڈ پر کوئی الگ ایمرجنسی لین موجود نہیں ہوتی بلکہ بے ہنگم ٹریفک کا سامنا رہتا ہے اُسکے بعد جب جائے حادثہ  پر پہنچتے ہیں ایک جمِ غفیر تماشائی بنا ایمرجنسی کے کا م میں خواہ مخواہ کی مداخلت کرتا ہے۔اسکے ساتھ ساتھ متعلقہ ادارے جیسے پولیس، واپڈا، سوئی گیس کا بروقت رسپانس نہ ملے تو بھی فائر فائٹرز کا بر وقت رسپانس ہونے کے باوجود موٗثر ایمرجنسی مینجمنٹ ممکن نہیں ہوتی اور عوام اور میڈیا کا سارہ غصہ ان گمنام ہیروز پر نکلتا ہے جو پہلی ایمرجنسی کال پر لبیک کہہ کر جائے حادثہ پر بروقت پہنچ جاتے ہیں۔

سب کو اِس حقیقت سے واقف ہونا چاہیے کہ سیفٹی کو یقینی بنانا، محفوظ معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ریسکیو 1122 جو چوبیس گھنٹے کسی بھی ایمرجنسی میں بروقت رسپانس کیلئے موجود ہے لیکن ہم سب کو بحیثیت ذمہ دار شہری بھی سیفٹی کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔ جہاں ہم بہت سی قیمتی اشیا، اپنے پہننے، رہنے سہنے کیلئے لیتے ہیں وہاں اگر سیفٹی کے آلات بھی لگالیں تو کوئی حرج نہیں، بلکہ اس سے آپ کو اور آپ کے گھر والوں یا آپکے احباب کو فائدہ ہی ہوگا۔ہر چیز کا الزام حکومت پر ڈالنے کے بجائے اپنا جائزہ بھی لینا چاہیے کہ کتنے حادثات ہماری اپنی لاپرواہی کیوجہ سے ہوتے ہیں اور ہم اِن حادثات کی شرح کم کرنے کیلئے کتنی شعوری کوشش کرتے ہیں۔ سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے ہم سب پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے سب کو انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہمیں رات سونے پہلے گیس اور برقی آلات سب بند کر دینے چاہیں۔ ہمیشہ معیاری برقی آلات کا استعمال کرنا چاہیے۔ عمارتوں میں سموک اور فائر آلارم سسٹم اور آلات کی تنصیبات کو یقینی بنائیں۔ عمارتوں میں ہنگامی انخلاء کے نشانات واضح رنگ میں لگائیں۔ ہنگامی انخلاء کا منصوبہ نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور تمام مکینوں / رہائشیوں کو منصوبہ کے مطابق فرضی مشقوں کے عمل سے بار بار گزاریں تاکہ کسی ناگہانی صورتحال سے بہتر طریقے سے نبردازما ہو سکیں۔ انفرادی سطح پر کاوشوں کے ساتھ حکومتی اقدامات کی ضرورت سے بھی منحرف نہیں ہو سکتے۔ سیفٹی کلچر کو فروغ دینے اور آتشزدگی کے واقعات میں کمی کیلئے ضروری ہے کہ حکومت عمارتوں کی تعمیر سے متعلق قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ ایک بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی قومی اور صوبائی سطح پر قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ایمرجنسی اور ڈزاسٹر مینجمنٹ کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنانا چاہیے اور اِس شعبہ میں ڈگری پروگرام کا اجراء یقیناََ نا صرف طلبا وطالبات کیلئے نئی راہوں کی فراہمی کا باعث ہوگا بلکہ حکومت کو ایسے پروگرامز کی وجہ سے ریسرچ کے ذریعے ڈزاسٹر مینجمنٹ کیلئے موثر پلاننگ کرنے میں مدد ملے گی اور محفوظ معاشرے کے قیام کیلئے ایک احسن قدم ہوگا۔اسکے علاوہ میڈیا جس کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے اور میڈیا کو بھی حادثات اور سانحات سے متعلق تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ امن کے دنوں میں کمیونٹی کو سیفٹی کی تربیت مختلف پروگرامز کے ذریعے دے سکے اور حادثات کی صورت میں ذمہ دار رپورٹنگ کے فرائض سر انجام دے۔

میں ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کی جانب سے دنیا بھر کے تمام ریسکیورز فائر فائٹرز کو خراج ِ تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے فرض کی راہ میں اپنی جانیں دیں اُنکی قربانیاں یقینا ہم سب کیلئے مشعلِ راہ ہیں اللہ اُن کے درجات کو بلند فرمائے۔آمین!اس موقع پر پاکستان کے تاریخی واقعہ گگھڑ پلازہ میں تیرہ فائر فائٹرز کی شہادت کو یاد نہ کیا جائے تو نا انصافی ہوگی۔ جن کا تعلق ریسکیو 1122، پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ، سٹی ڈسٹرکٹ فائر بریگیڈ اور سول ایوایشن اتھارٹی سے تھا۔ یہ شہدا ہمارا فخر ہیں جنہوں نے پاکستان میں پہلی مرتبہ سب کو باور کروایا،کہ فائر فائٹرز عوام کے تحفظ کیلئے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔اللہ ہمارے شہدا کے درجات بلند فرمائے اور تمام ریسکیورز کے حوصلے عزم بلند رکھے تاکہ ہم سب ملکر محفوظ پاکستان کے لیے مثبت کردار ادا کر سکیں۔ آمین!

مزید : رائے /کالم


loading...