پٹرول، ڈیز ل مہنگا، گورنر سٹیٹ بینک، چیئر مین FBRٖٓفارغ، رمضان المبارک سے پہلے مہنگائی کا نیا طوفان، ای سی سی نے پٹرول 9.35ڈیزل 4.40، مٹی کا تیل 7,46 روپے لٹر مہنگا کرنے کی منظوری دیدی، کابینہ کی توثیق کے بعد اطلاق 7 مئی کو ہو گا 

پٹرول، ڈیز ل مہنگا، گورنر سٹیٹ بینک، چیئر مین FBRٖٓفارغ، رمضان المبارک سے ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن)   رمضان سے پہلے مہنگائی کا نیا طوفان آگیا‘ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی   قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے  جس کے تحت پیٹرول9روپے 35پیسہ اضافے کے ساتھ  108.42 روپے فی لیٹر  جبکہ  ڈیزل 4.89 روپے اضافے کے ساتھ 122.32روپے  فی لیٹرکرنے  کی منظوری دیدی گئی ہے تاہم نئی قیمتوں کا اطلاق وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں منظوری سے مشر وط  ہوگا  ۔  اوگرا نے مئی 2019 ء کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری وزارت پٹرولیم کو  ارسال کی تھی اور  پٹرول  کی   قیمت میں 14 روپے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا  تھا۔  بعدازاں وزیراعظم نے  قیمتوں کے تعین کا معاملہ ای سی سی کو بھیج دیا  تھا۔ جمعہ کے روز مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا اجلاس میں  پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کی منظوری دیدی گئی ۔جس کے مطابق پیٹرول9روپے 35پیسہ اضافے کے ساتھ  108.42 روپے فی لیٹر  جبکہ  ڈیزل 4.89 روپے اضافے کے ساتھ 122.32روپے  فی لیٹر،لائٹ ڈیزل 6.40روپے  اضافے کے ساتھ 86.94روپے فی لیٹر،مٹی کا تیل 7.46روپے  اضافے کے ساتھ 96.77روپے  ہو گا۔ ای سی سی کے فیصلے کے بعد پٹرولیم  منصوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 7مئی کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں  منظوری  لینے کے بعد  ہوگا۔ وزارت خزانہ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت پیٹرول کی مد میں پانچ ارب روپے کا بوجھ برداشت کرے گی۔دریں اثنامشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی ایک مسئلہ ہے جس پر حکومت پریشان ہے۔   حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، دستیاب وسائل سے بھرپور استفادے کے لیے کوشاں ہیں، معاشی حالات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک اکیلے ترقی نہیں کرسکتا، مل کر ساتھ چلنا ہو گا، چین اور بھارت سمیت دیگر ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کے راستے نکالے، باہمی شراکت داری کیے بغیر ملکوں کی اقتصادی ترقی ممکن نہیں، حکومت اکیلے اقتصادی ترقی نہیں کرسکتی، ہمیں کامیاب ممالک کو دیکھنا ہو گا کہ انہوں نے کیسے ترقی کی، لوگوں کو ترقی دیے بغیر ہم اقتصادی ترقی نہیں کرسکتے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ شروع سے ہی پاکستان نے برآمدات کے فروغ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے مؤثر اقدامات کیے، حکومت آئی تو ایکس چینج ریٹ زیادہ ہونے کے باعث برآمدات کم تھی، درآمدات میں کمی کی جائے گی۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ چند ہفتوں میں بجٹ آنے والا ہے، معاشی فریم ورک تشکیل دینا ہو گا اور مالی خسارے کو کم کرنا ہے، ریونیو کا شعبہ مستقبل کے تقاضوں کے مطابق لانا ہوگا، گزشتہ 13 سالوں میں کسی کمپنی کی نج کاری نہیں کی گئی۔مشیر خزانہ نے ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی ایک مسئلہ ہے جس پر حکومت پریشان ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافے پرحکومت کا کنٹرول نہیں، عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، معاشرے میں پیچھے رہ جانے والوں کے لیے سوشل پروگرام شروع کیے جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذکرات چل رہے ہیں، مناسب پروگرام طے ہو جائے گا۔مشیر خزانہ کا کہنا تھاکہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت میں تبدیلی لائے ہیں، وزیراعظم عمران خان چین کے صدر کے ساتھ معاہدہ کر بھی لیں تونجی شعبے کے تعاون کے بغیر مؤثر نہیں، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پہلے سے موجود سرمایہ کاروں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کرنا ہو گا۔

مہنگائی طوفان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک،آن لائن) اقتصادی صورتحال کی بہتری کیلئے حکومت نے گزشتہ روز بڑء فیصلے کئے۔ ایک طرف اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا تو دوسری طرف حکومت نے دو اہم اداروں سٹیٹ بینک اور ایف بی اار کے سربراہوں کو تبدیل کر دیاگورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جبکہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) جہانزیب خان کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ذرائع گورنر بینک کے مطابق گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، وزیراعظم نے گورنر اسٹیٹ بینک سے استعفیٰ طلب کیا تھا۔ذرائع کے مطابق طارق باجوہ نے اپنا استعفیٰ وزارت خزانہ کے توسط سے وزیراعظم سیکریٹریٹ کو بھجوایا۔علاوہ ازیں چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع وزیراعظم ہاؤس کے مطابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو ہٹانے کا فیصلہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کی وزارت کے دوران ہی ہوگیا تھا۔ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے اثاثہ جات ڈیکلریشن اسکیم کو اپنانے سے انکار کیا تھا، چیئرمین ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ سکیم وزیراعظم کی ہدایت پر تیار کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین ایف بی آر کے اس مؤقف پر وزیراعظم نے اظہار ناراضی کیا اور شیخ رشید نے چیئرمین ایف بی آر پر جملہ کسا تھا کہ اسکیم بنانے والے اس سے لاتعلقی کا اظہار کررہے ہیں۔واضح  رہے کہ گزشتہ دنون وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اثاثہ ڈیکلریشن اسکیم کو غور کے لیے پیش کیا گیا تھا تاہم اس دوران چند وزراء   نے اسکیم پر اعتراض کیا جب کہ وزیراعظم نے بھی اسکیم کو پی ٹی آئی کے منشور کے خلاف قرار دیا اور  سکیم پر مزید مشاورت کی ہدایت کی تھی۔

برطرف

مزید : صفحہ اول