آئین کیساتھ ٹیمپرنگ کو قانونی قراردیکر ناانصافی کی گئی،جسٹس قاضی فائز

آئین کیساتھ ٹیمپرنگ کو قانونی قراردیکر ناانصافی کی گئی،جسٹس قاضی فائز

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی) سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین کے ساتھ مسلسل ٹیمپرنگ اس کی اہمیت کم کر دیتی ہے۔ ایسے اقدامات کو قانونی قرار دیکر پاکستان کے لوگوں کیساتھ بہت ناانصافی کی گئی۔آئین نے سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس کا اختیار دیا ہے، صرف چیف جسٹس کو نہیں، قائد اعظم نے افواج پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کو پڑھیں اور سمجھیں اور جو حلف اٹھایا ہے اس پر سختی سے عمل کریں۔لاہور کے مقامی ہوٹل میں پاکستان کے حقوق، ذمہ داریاں اور اداروں کے کردار کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بے سمت سیاسی تجربات اورآئین کو معطل کرنے کیوجہ سے نئے اور پرانے نظام کی ساکھ کو متاثر کیا،آئین اس بات کا مینڈیٹ دیتا ہے کہ تمام قوانین کو اسلام کی روح سے اکٹھا کیا جائے۔آئین کے مطابق کوئی بھی قانون جو اسلام کی روح سے منافی ہو اس کا نفاذ نہ کیا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل کسی بھی ایسے قانون پر اپنی تجاویز دے سکتی ہے جو اسلام کی روح کے منافی ہو لیکن وفاقی شریعت کورٹ کے بننے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو کالعدم قرار دے سکتی ہے جو اسلام سے منافی ہو، سچ بولنا جھوٹ بولنے کی نسبت ایک انتہائی آسان کام ہے، قائداعظم محمد علی جناح اور آل انڈیا مسلم لیگ نے پاکستان بنایا لیکن 25 سال کے عرصہ میں ملک کی تقسیم ہو گئی۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مزید کہا کہ ہم تو فیصلے کرتے ہیں انصاف تو اللہ تعالی کرتا ہے، ہم آئین اور قانون کے تابع ہیں اور اسی کے تحت فیصلے کرتے ہیں، قانون کے مطابق بعض اوقات قاتل کو چھوڑنا بھی پڑتا ہے کیونکہ شہادت نہیں ہوتی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کیلئے آئین کو فالو کرنا بہت ضروری ہے، ایمانداری اور بلاخوف و خطر پاکستان کیلئے کام کریں،آئین کو پڑھیں، سمجھیں اور عمل کریں، ملک دولخت ہونے کے بعد ایک متفقہ آئین اپنایا گیا تھا، اسمبلی سے منظور ہوا، 1973ء کے اس آئین کے خلاف ایک بھی ووٹ نہیں پڑا تھا۔

جسٹس قاضی فائز

مزید : صفحہ اول


loading...