پنجاب اسمبلی لاہور میں صفائی کے ناقص انتظامات، حکومتی خواتین اپنی ہی سرکارپر برس پڑیں

پنجاب اسمبلی لاہور میں صفائی کے ناقص انتظامات، حکومتی خواتین اپنی ہی ...

  



لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی خواتین لاہور میں صفائی کے ناقص انتظامات پر اپنی ہی حکومت پر برس پڑیں،شوانہ بشیر نے کہا شہر میں جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ہیں کوئی اٹھانے والا نہیں ہے،عظمیٰ کاردار نے کہا سینٹری ورکرز کوڑا اٹھانے کی بجائے آگ لگادیتے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس پینل چیئر مین میاں شفیع کی زیر صدارت دو گھنٹے بیس منٹ تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ لوکل گورنمنٹ سے متعلق سوالوں کے جواب پارلیمانی سیکرٹری احمد خان بھچر کی جانب سے دیے گئے،تحریک انصاف کی رکن شوانہ بشیر نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا لاہور جیسے شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر پڑے ہیں کوئی ان کو اٹھانے والا نہیں ہے،شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال نے پاکستان کے پیرس کا پول کھول دیا ہے،پی ٹی آئی کی رکن عظمیٰ کاردار نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا لاہور ویسٹ منجمنٹ کمپنی کے ملازمین ہی کچرے کو ایک جگہ جمع کرکے آگ لگادیتے ہیں جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہا ہے،میں خود گلبرگ،گارڈن ٹاون اوردیگر لاہور کے علاقوں میں کچرے کو آگ لگی دیکھی ہے،سابقہ دور حکومت میں البراک اور اوزپاک جو ترک کمپنیاں ہیں ان کو شہر کا کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے،حکومت نے ان کو کتنے کا ٹھیکہ دیا؟کیا حکومت اس کا آڈٹ کرانے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری احمد خان بھچر نے کہا البراک کا 13ملین ڈالر اور اوز پاک کا 18ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے،ہم 2020جون تک اس معاہدے کو نہ ختم کر سکتے ہیں اور نہ اس کا آڈٹ کر ا سکتے ہیں، اس معاہدے کی شفافیت پر حکومت کے شدید تحفظات ہیں۔ لیکن ہم اس کا فرائنزک آڈٹ کرانے جارہے ہیں،محکمہ لوکل گورنمنٹ کے پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ لاہور کی 274 یونین کونسلوں میں صفائی کیلئے 9 ہزار سینٹری ورکر تعینات ہیں جو گلیوں بازاروں سے جھاڑوں کے ذریعے صفائی کرکے اٹھایا جانے والے کچرا قریبی کنٹینر میں ڈالتے ہیں۔ ایوان کو بتایا گیا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے پاس 268 جبکہ بین اقوامی ٹھیکیدار کے پاس 622 گاڑیاں ہیں جن کی روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جاتی ہے، ایک ضمنی سوال پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ بعض اوقات سگریٹ نوش جلتا ہوا سگریٹ کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں جس سے کنٹینر میں آگ لگ جاتی ہے اور آلودگی پیدا ہوتی ہے لیکن کسی اہلکار کو کچرا جلانے کی اجازت نہیں ہے، اگر کسی جگہ کوئی اہلکار ایسا کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔وقفہ سوالات کے بعد حکومتی رکن نیاز حسین خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا مظفر گڑھ میں بچوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمارے بچے ٹی بی،ہیپا ٹائٹس جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہو رہے ہیں،ایوان میں جنوبی پنجاب سے صوبائی وزیر حسنین بہادر دریشک،سمیع اللہ چوہدری،شوکت لالیکا،احمد خان بھچر،محسن لغاری سمیت کسی حکومتی وزیر نے اپنی جماعت کے رکن کی بات کا جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے کہا کیا ماڈل قبرستانوں میں حساب کتاب نہیں ہو گا؟ اور کیا وہاں اے سی بھی لگے ہونگے؟اور کیا حکومت اپوزیشن ممبران کے حلقوں میں بھی ماڈل قبرستان بنانے کا ارادہ رکھتی ہے؟جس پر ایوان میں خوب قہقہے لگے۔ بعدازاں مسلم لیگ ن کی خاتون رکن زیب النساء اعوان نے کورم کی نشاندہی کردی،کورم پورا نہ ہونے پر میاں شفیع نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...