پشاور و گرد و نواح میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آیا 

پشاور و گرد و نواح میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا جن بوتل سے باہر ...

  



پشاور(سٹی رپورٹر)شہر و گردونواح میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکل آیا،گرانفروشی عروج پر پہنچ گئی، جبکہ ذخیرہ اندوزوں نے ذخیرہ اندوزی کرنا شروع کر دی، جس کے باعث شہری سستی اشیا سے محروم ہیں دوسری جانب ضلعی افسران نرخوں کے مطابق اشیا خوردونوش کا حصول ممکن بنانے میں بری طرح ناکام نظر اارہے ہیں،  شہر وگردونواح میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ کی آمد سے قبل ہی مہنگائی عروج پر پہنچ چکی ہے، شہرخصوصا دیہات میں گرانفروشی عروج پر ہے،پشاور بھر میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں کہیں کارروائیاں کرتیں نظر نہیں آتیں، پرائس کنٹرول کمیٹیاں غیر فعال ہونے کے باعث ناکامی سے دوچار ہیں، جس کا خمیازہ غریب اور سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے شہری بھگت رہے ہیں، شہریوں کے مطابق شہر بھر میں پرائس کنٹرول  کرنے والا عملہ عرصہ دراز سے گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں بابرکت مہینہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ا ور مقدس مہینہ میں مہنگائی کو روکنے کے لئے ضلعی حکومت ہر سال سستے رمضان بازار قائم کرتی ہے، جہاں پر معیاری اشیا کی سستے داموں فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے،تاہم انتظامیہ کی غفلت کے باعث سستے رمضان بازاروں میں ناقص و غیر معیاری اشیا کی فروخت کی جاتی ہے، جبکہ مسلسل اور کڑی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مضافاتی علاقوں میں سخت مسائل کاسامنا کرنا پڑ تاہے، شہر کی سماجی، مذہبی، رفاعی، فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان بازاروں میں سبسڈی دینے کی بجائے اشیا خوردونوش کی قیمتوں کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ بڑے شہروں کے ساتھ دیہاتوں، قصبوں میں رہنے والے غریب و سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی حکومتی سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

مزید : صفحہ اول