انتظامیہ کی چشم پوشی، شہریوں پر آلودہ اور زہر یلا پانی فروخت ہونے لگا 

انتظامیہ کی چشم پوشی، شہریوں پر آلودہ اور زہر یلا پانی فروخت ہونے لگا 

  



پشاور(سٹی رپورٹر)متعلقہ حکام کی چشم پوشی سے شہر اور گردونواح میں قائم پانی کی فیکٹریاں منرل واٹر کے نام پر شہریوں کو آلودہ اور زہریلا پانی فروخت کرنے لگیں،زرائع کے مطابق بااثر افراد نے شہر و گردونواح کے مختلف علاقوں میں منرل واٹر کی منی فیکٹریاں قائم کر رکھی ہیں جن کے نام کسی بھی سرکاری ادارے میں رجسٹرڈ نہیں ہیں بلکہ مختلف ملٹی نیشنل معروف کمپنیوں سے ملتے جلتے ناموں کے لیبل پرنٹ کروا کر جعلی طور پر بوتلوں پر چسپاں کردیتے ہیں اور ان بوتلوں میں ٹیوب ویلوں، واٹر فلٹریشن پلانٹ جو کہ گھروں میں قائم کر رکھے ہیں سے پانی بھر کر ضلع بھر میں سپلائی کیا جا رہا ہے، زرائع کے مطابق ضلع بھر میں درجنوں کمپنیوں کا تیار کردہ منرل واٹر پاکستان سٹینڈرز اینڈکوالٹی بورڈ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار پر پورا نہیں اترتے، بلکہ مذکورہ پانی میں آرسینک، فلورائیڈ، اور نائٹریٹ جیسے زہریلے مادے پائے جاتے ہیں، جبکہ بعض کے پانی میں انسانی جان کیلئے خطرناک ثابت ہونے والے سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار بھی بہت زیادہ پائی جاتی ہے، یہ منرل واٹرشادی ہالز، میرج گارڈنز، ریسٹورنٹس کے علاوہ ریلوے اسٹیشن، لاری اڈوں، دکانوں، سرکاری و نجی ہسپتالوں کی کینٹینز کے مالکان جعلی و غیر معیاری منرل واٹر خریدنے کے مستقل گاہک ہیں جو زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں مضر صحت پانی کی فروخت کررہے ہیں، ضلع بھرمیں قائم ان منی منرل واٹر فیکٹریوں سے تیار کردہ منرل واٹر کو پینے سے شہری ہیپاٹائٹس معدے کے سرطان اور دیگر مہلک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، یہاں یہ امر بھی قابل زکر ہے کہ بعض مالکان نئی بوتل تیار کروانے کی بجائے شہر میں موجودکباڑیوں، میرج ہالز، میرج گارڈن اور بڑے ہوٹلوں کے ملازمین سے چند ٹکوں کے عوض استعمال شدہ پرانی بوتلیں خریدتے ہیں اور ان میں نئے سرے سے پانی بھر کر سپلائی کر دیا جاتا ہے شہریوں نے ڈپٹی کمشنر پشاور سے مطالبہ کیا ہے کہ  شہر و گردونواح میں مضر صحت پانی فروخت کرنے والی جعلی فیکٹریوں اور دکانداروں کے خلاف انسدادی کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید : صفحہ اول


loading...