امریکہ پاکستان کے انسداد دہشتگردی اقدامات کا معترف، ملک میں تبدیلی کا حامی 

امریکہ پاکستان کے انسداد دہشتگردی اقدامات کا معترف، ملک میں تبدیلی کا حامی 

  



واشنگٹن(آئی این پی) امریکہ کا کہنا ہے پاکستان نے دہشتگردی کی روک تھام کیلئے راست اقدامات اٹھائے ہیں۔ایک نیوز بریفنگ میں امریکی عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو(بقیہ نمبر45صفحہ12پر)

 کرتے ہوئے بتایا امریکہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا لیکن توقع کرتا ہے ملک کی سول و فوجی قیادت معاملات کو درست کرلے گی، ہم سویلین حکومت اور وہاں نوخیز جمہوری نظام سمیت اس بات کی بھی حمایت کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان صحیح باتیں کررہے ہیں اور بظاہر پاکستان میں تبدیلی لانے کیلئے کوشاں ہیں لیکن صرف وقت ہی بتائیگا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا پاکستان کی فوج بھی ان تبدیلیوں کی حمایت کررہی ہے، امریکی عہدیدار نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان نہ صرف درست باتیں کررہا ہے بلکہ راست اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔ ہم اس بات کو سراہتے ہیں پاکستان صحیح بات کہہ رہا ہے اور ابتدائی طور پر وہ اقدامات بھی اٹھائے جس کی ہم توقع کررہے تھے لیکن ہم اپنے فیصلے کو محفوظ رکھیں گے کیونکہ ماضی میں ہم نے پٹری سے اتر جانا بھی دیکھا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کھل کر بات کرتے ہیں کہ ایک خوشحال پاکستان کیلئے خطے میں استحکام کتنا ضروری ہے جو ان کی انتخابی مہم کا ایک وعدہ بھی تھا۔ ہم پاکستان کی جانب سے دیے گئے ابتدائی بیانات اور ابتدا میں اٹھائے گئے کچھ اقدامات سے خاصے پر امید ہیں۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ہم سمجھتے ہیں یہ کرنا نہایت ضروری تھا اور پاکستان کی جانب سے سفری پابندی اور اثا ثوں کو منجمد کرنے اور دیگر وعدوں کی پاسداری کیلئے بھی اہم تھا۔واضح رہے وائٹ ہاس نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے علیحدہ بیان میں مسعو د اظہر کو پلوامہ میں ہونیوالے حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، جس بھارتی دعوے کو اقوامِ متحدہ نے قبول نہیں کیا تھا۔مذکورہ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مسعود اظہر کو یہ درجہ دینا پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے بین الاقوامی برادری کے عزم کا مظہر ہے۔

امریکہ معترف

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...