رمضان بازاروں سے چینی غائب، شہری خالی ہاتھ واپس، انتظامیہ کا امتحان شروع

رمضان بازاروں سے چینی غائب، شہری خالی ہاتھ واپس، انتظامیہ کا امتحان شروع

  



ملتان (نیوز رپورٹر) ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے جانیوالے رمضان بازار جزوی حد تک فعال ہوگئے ہیں تاہم ان بازاروں میں مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے فئیر پرائس شاپس پر مقررہ اشیائے خورونوش موجود ہیں  رمضان بازاروں میں چینی کا سٹاک ناپید ہے اور اکثر صارفین بنا چینی خریدے ہی واپس جارہے ہیں اسی طرح ایم ڈی اے رمضان بازار کے انعقاد میں انتظامیہ نے ڈنگ ٹپاو پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس کی زمین کو ہموار کرنا ہی ضروری نہیں سمجھا جس پر چلنا ہی محال ہے اور پھر اس میں جو کارپٹ بچھایا گیا ہے جبکہ ان رمضان بازاروں میں صوبائی اور ڈسٹرکٹ اداروں کے اہلکاروں کی بھرمار (بقیہ نمبر10صفحہ12پر)

بھی باعث تعجب ہے کہ فی رمضان بازار میں لگ بھگ 50 کے قریب سرکاری اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور یہی افلاطونی فارمولہ پچھلے کئی سالوں آزمایا جارہا ہے جس کے تحت سینکڑوں سرکاری اہلکار سوائے کرسیاں توڑنے کے کچھ نہیں کرتے جزوی حد تک فعال ہونیوالے رمضان بازاروں میں اشیائے خورونوش کے مقررہ نرخنامے کے مطابق آلو 14 روپے کلو۔ پیاز42 روپے ٹماٹر 21 روپے کریلا 36 روپے بھنڈی 80 روپے کدو 60 روپے سیب 290 روپے کیلا 110 روپے کھجور 170 روپے سفید چنا 110 روپے دال چنا 93 روپے لہسن 190 روپے بیسن 96 روپے دال ماش 124 روپے مسور ثابت 70 روپے دال مسور 74 روپے چاول کچی باسمتی 106 روپے لیموں 149 روپے اور ادرک 180 روپے کلو فروخت کئے جارہے ہیں 

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...