سرکاری خریداری شروع، گندم نرخوں میں اچانک تیزی، پیداوار کم خوراک افسروں کی دوڑیں 

سرکاری خریداری شروع، گندم نرخوں میں اچانک تیزی، پیداوار کم خوراک افسروں کی ...

  



ملتان، وہاڑی، رحیمیار خان سے سپیشل رپورٹر، بیورو رپورٹ، نامہ نگار کے مطابق محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے سرکاری خریداری کاعمل شروع ہوتے ہی گندم کے نرخوں میں ایکدم تیزی آنا شروع ہوگئی ہے سرکار کے مقر رکردہ نرخ 13سو روپے کے قریب ترین نرخ کسانوں کوملنے کاامکان پیدا ہوگیا ہے کیونکہ رواں سال کم پیداوار آنے کی وجہ سے حکومت کے خریداری اہداف پورا ہونا مشکل ہوگیا ہے۔اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخوں میں نمایاں (بقیہ نمبر20صفحہ12پر)

اضافے کے باعث گندم کے کاشتکار اپنی پیداوار اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کو ترجیع دے رہے ہیں جس کے باعث محکمہ خوراک کے گندم خریداری مراکز ویران ہوکررہ گئے ہیں۔ دوسری جانب ا مسال فی ایکڑ اوسط پیداوار28سے 30من تک آرہی ہے جس سے حکومت کے خریداری ہدف 40لاکھ میٹرک ٹن حاصل ہونا مشکل ہوگیا ہے جس کااعتراف محکمہ زراعت توسیع پنجاب کے افسران نے تحریری طور پر کرچکے ہیں پنجاب میں ایک کروڑمیٹرک ٹن سے کم پیداوار ہونے کااندیشہ پیداہوگیا ہے قریباً80لاکھ میڑک ٹن کاانداز ہ لگاجارہا ہے جبکہ سیڈ کے لئے 20لاکھ  میٹرک ٹن رکھی جاتی ہے کسان اپنے گھروں میں 30لاکھ میڑک ٹن رکھتے ہیں جبکہ دیگرادارے بھی  20لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدکرتے ہیں باقی صرف 10لاکھ  میٹرک ٹن گندم کھیتوں میں رہتی ہے جس سے خریداری اہداف حاصل کرنا مشکل ہے۔محکمہ خوراک کی جانب سے ضلع میں قائم گندم خریداری مراکز پر جزوی طور پر گندم خریداری کا آغاز کر دیا گیا ہے اس ضمن میں گزشتہ روز ملتان ڈوثیرن کے دیگر اضلاع کی طرح ملتان کے گندم خریداری مراکز پر کسانوں سے گندم خریداری کا جزوی طور پر آغاز کر دیاگیا ہے اس ضمن میں گزشتہ روز ضلع میں قائم 17میں سے صرف 8گندم خریداری مراکز پر گندم لانے والے کاشتکاروں سے گندم خریداری کی گئی۔اس ضمن میں محکمہ خوراک ملتا ن کے ذرائع کے مطابق ضلع کے تمام مراکز پر آج سے گندم خریداری کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا اور خریداری مرکز پر آنے والے کسانوں سے گندم خریدکی جائے گی۔ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے اچانک مراکز خرید گندم لڈن اور کچی پکی کا دورہ کیا۔ڈپٹی کمشنر نے مراکز خرید گندم پر ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی اور موقع پر موجود کاشتکاروں کے مسائل سنے اور ان کے حل کے لئے احکامات جاری کئے۔اور افسران کو کاشتکاروں کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ڈپٹی کمشنر عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ حکو مت کاشتکاروں کی تر قی اور فلاح پر یقین رکھتی ہے۔ موجودہ حکو مت کاشتکاروں کی فلاح کے لئے بہت سے منصوبے شر وع کر رہی ہے شعبہ زراعت ہمارے ملک کی معیشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر وہاڑی منور حسین اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مسعود اسلم بھی مو جود تھے۔ڈپٹی کمشنر جمیل احمد جمیل نے کہا ہے کہ گندم خریداری مہم کی مانیٹرنگ کے لئے ضلع بھر کی تمام انتظامی مشینری متحرک ہے اور گندم کے کاشتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دینگے۔انہوں نے یہ بات تحصیل صادق آباد کے 105این پی اور واحد بخش لاڑ گندم خریداری مراکز کے اچانک دورہ کے موقع پر کاشتکاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر نے گندم خریداری مراکز پر کاشتکاروں کو باردانہ کی فراہمی اور یکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کی ڈیوٹیز چیک کیں۔انہوں نے کاشتکاروں کی شکایت پر ڈی ایف سی کو ہدایت کی کہ گندم خریداری مراکز پر آنے والی گندم کی کوالٹی اور وزن کو بہتر انداز سے چیک کیا جائے جبکہ کسانوں کی جانب سے لائی جانے والی گندم کے اضافی وزن کی صورت میں اضافی گندم کی قیمت کسانوں کو ادا کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں ضلع بھر کے گندم خریداری مراکز پر آگہی بینرز آویزاں کئے جائیں کے اضافی گندم کی صورت میں کسان اپنے رقم متعلقہ سینٹر انچارج سے وصول کریں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...