توانائی کے بحران کو حل کرنے کیلئے نجی شعبہ کا تعاون ناگزیر ہے: حمایت اللہ 

توانائی کے بحران کو حل کرنے کیلئے نجی شعبہ کا تعاون ناگزیر ہے: حمایت اللہ 

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا میں توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں جہاں ان قدرتی وسائل سے تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ملک کو توانائی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے موجودہ صوبائی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے تحت بجلی کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن سے مجموعی طور پر دو سو سولہ میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیربرائے  توانائی و برقیات حمایت اللہ خان۔خیبرپختونخوا میں توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں جہاں ان قدرتی وسائل سے تیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ملک کو توانائی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا تعاون ناگزیر ہے موجودہ صوبائی حکومت کی کامیاب حکمت عملی کے تحت بجلی کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن سے مجموعی طور پر دو سو سولہ میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی صوبے کے جنوبی اضلاع میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش متعدد بلاکس پر منصوبے شروع کرنے کے لیے نجی سرمایہ کاری ضروری ہے صوبائی حکومت موجودہ توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے توانائی کے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے جن سے چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جائے گی جو آنے والے دنوں میں صوبے کی معیشت کے استحکام کے ساتھ ساتھ روزگار کا بڑا ذریعہ بنے گا ان خیالات کا اظہار وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر توانائیحمایت اللہ خان نے پشاور کے نجی ہوٹل میں یو ایس ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ یو ای ٹی پشاورر اور محکمہ توانائی و برقیات کے مشترکہ قومی کانفرنس برائے توانائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا کانفرنس میں کورین سفیرKwak Sung Khu، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد بنگش, وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور ڈاکٹر افتخار حسین, سیکرٹری توانائی سرفراز درانی، ایڈیشنل سیکرٹری ظفر الاسلام،چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو بھادرشاہ سمیت نجی و حکومتی سطح پر توانائی کے شعبوں سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مقررین نے ڈاکٹر نجیب یو ایس ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پشاور میں قومی توانائی کانفرنس کا انعقاد کیا کانفرنس میں توانائی کے ماہرین نے صوبے میں توانائی کے شعبے کی ترقی کیلئے مختلف تجاویز دی مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے کہا کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی، سی پی پی اے جی اور سوئی نادرن سمیت تمام وفاقی اداروں میں صوبے کو نمائندگی دی جائے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی ہدایات کی روشنی میں توانائی کے شعبے کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی پالیسی 2019 پر تیزی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے جس کے تحت شمسی توانائی کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے جن میں 4400 مساجد، 8 ہزار سکولوں اور 187 بی ایچ یوز کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقل کیا جارہا ہے جبکہ وزیراعلی سیکرٹریٹ اور سول سیکرٹریٹ کو پہلے ہی شمسی نظام سے منسلک کرنے کے منصوبوں کا آغاز ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی بھرپور کاوشوں سے وزیراعظم نے صوبوں کو پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں ادائیگی پر آمادگی ظاہر کی ہے جس کے تحت صوبے کو عنقریب سو ارب روپے ملیں گے انہوں نے کہا کہ جلد ہی 76 میگاواٹ کے چار پن بجلی گھروں سے پیدا کردہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جا رہی ہے جس سے صوبے کو 1.9 ارب روپے کی سالانہ آمدن ہوگی انہوں نے جنوبی کوریا کے سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت توانائی کے شعبے میں جنوبی کوریا کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس تسلسل کو فروغ دینے کے لیے باہمی کوششوں کو جاری رکھا جائے گا تقریب میں وائس چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی ڈاکٹر افتخار حسین،سیکرٹری توانائی سرفراز دورانی، یوایس سنٹر فار ایڈوانس سٹڈیز کے چیف ڈاکٹر نجیب،چیف ایگزیکٹو آفیسر پیڈو بہادر شاہ، سی ای او آئل اینڈ گیس کمپنی حنیف احمد نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا کانفرنس میں ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاروں نے توانائی کے شعبے کی ترقی کیلئے مختلف تجاویز دیں کانفرنس میں اسٹیج کے فرائض یو ایس ایڈوانس سٹڈیز اینڈ ریسرچ کے شائستہ آفریدی نے سرانجام دیئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...