ُُخوشحال خٹک قومی اتحاد کاپی ٹی آئی میں سیاسی مافیا کیخلاف احتجاج 

ُُخوشحال خٹک قومی اتحاد کاپی ٹی آئی میں سیاسی مافیا کیخلاف احتجاج 

  



نوشہرہ(بیورورپورٹ)خوشحال خٹک قومی اتحاد نے نوشہرہ پی ٹی آئی میں سیاسی مافیا کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کردیا نوشہرہ کی سیاسی مافیا نے اپنے مفادات اور وزارتوں کے حصول کی خاطر پورے ضلع نوشہرہ کی ترقی وخوشحالی کا ستیاناس کردیا ہے اور ایک خاندان نے عوام پر زبردستی مسلط ہوکر وفاقی وصوبائی وزارتوں کے علاوہ نظامت پربھی قبضہ کررکھا ہے ایم پی اے خلیق الرحمن خٹک کی تحریک انصاف کیلئے بے بہاقربانیاں ہیں لیکن اسے دوسری بار بھی وزارت سے محروم رکھاگیا ہے آج کے احتجاج کا مقصد نوشہرہ کے عوام کو روایتی سیاسی پنڈتوں سے آزاد کرنے کے لئے جنگ کا پہلا قدم ہے ان خیالات کااظہار میجر جنرل (ریٹائرڈ) سعد خٹک نے نوشہرہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر خوشحال خٹک قومی اتحاد کے حاجی تاج ولی خان خٹک، ڈاکٹر ذوالفقار، محمدشاہ، ظفرخٹک اور شاہد بھی موجود تھے سعد خٹک نے کہاکہ خوشحال خٹک قومی اتحاد ایک فلاحی ٹرسٹ کے طورپر عوام کی خدمت کیلئے کوشاں ہے اور علاقے کے عوام کی خدمت ان کے مسائل کے حل کیلئے ہرممکن کوشش کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے تبدیلی اور احتساب کی آڑ میں نوشہرہ کی سیاست پر سیاسی مافیا کا قبضہ ہے اور اسی سیاسی مافیا کی وجہ سے فلاحی اداروں، عوام اور سول سوسائٹی کو مسائل کے بھنور سے نکلنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں یہی روایتی سیاسی پنڈت عوام ہی کے ووٹوں سے برسراقتدار آئے ہیں لیکن اس کے باوجود خٹک نامہ، چراٹ، صالح خانہ، بختئی، چھپری، سپین خاک، ڈاگ بیسود اور دیگر ملحقہ علاقوں کے عوام گوں نا گوں مسائل سے دوچار ہیں نوجوان روزگار کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں وہ نوکریاں کہاں گئی اور کس کو دی گئی کیا کسی غریب کو میرٹ پر بھرتی کیاگیا ہے یا پرویز خٹک کے چہیتوں کو بھرتیوں کو نوازا کیاگیا ہے بچے تعلیم کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر یہاں تک کہ گرلز پرائمری سکول ڈاگ اسماعیل خیل کرائے کے مکان میں بچیوں کو پڑھایا جارہا ہے کیا یہ تبدیلی ہے روایتی سیاستدان پرویز خٹک اور ان کا خاندان عوام کی حالت زار تبدیل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے مفادات اور وزارتوں کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہیں انہوں نے کہا کہ آج بروزہفتہ خوشحال خٹک قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے جلوزئی چوک میں پرامن احتجاج کیاجائے گا اگر انتظامیہ اور ارباب اختیار نے رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کردی تو اس کی ذمہ داری انتظامیہ اور ارباب اختیار پر عائد ہوگی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر