سیاست ،کیا سے کیا ہو جائے گی

سیاست ،کیا سے کیا ہو جائے گی
سیاست ،کیا سے کیا ہو جائے گی

  



کیا واقعی ماضی قریب کے حکمران قصہ ماضی بن جائیں گے؟سیاسی پنڈت روز نئی پشین گوئیاں کر رہے ہیں،لوگ کیا کہ رہے ہیں؟ لگ رہا ہے کہ معاملات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔سابق سربراہ آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل(ر) حمید گل نے اپنی وفات سے قبل ایک انٹر ویو میں انکشاف کیا تھا کہ،، عمران خان کو اگر الیکشن میں اکثریت ملی تو ان کو حکومت سازی کا موقع دیا جائے گا،بتدریج انکی حکومت کو ٹیکنو کریٹ حکومت میں تبدیل کر کے ملک سے پار لیمانی سیاست کی ہنڈیا سمیٹ کر صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جائے گی،،۔اس بیان کے تناظر میں دیکھیں تو کیا نظر آ رہا ہے؟ پارلیمانی جمہوریت کے ٹھیکیدار نواز شریف اور آصف زرداری کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے،شہباز شریف بھی این آر او کے حوالے سے نا امید ہو کر لندن میں ڈیرے جما چکے ہیں اوروہاں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کر کے ڈیل کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلہ میں انہوں نے جمائما خان سے بھی کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے درخواست کی ہے،نواز شریف بھی ضمانت میں توسیع کی درخواست دائر کر چکے ہیں تا ہم سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے،اب ان کے وکلاء علاج کیلئے لندن جانے کی اجازت کیلئے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں،اگر عدالت نے اجازت دیدی تو وہ بھی پہلی فرصت میں لندن سدھارجائیں گے،مریم نواز بھی ان کے ساتھ ہی جائیں گی،شہباز شریف کی واپسی کا بھی مستقبل قریب میں کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ ن اور شریف خاندان ذہنی طور پر سیاست سے کنارہ کشی پر تیار و آمادہ ہو چکا ہے۔مسلم لیگ(ن) کی تنظیم نو بھی اسی طرف اشارہ دے رہی ہے۔

قارئین کو یاد ہو تو میں نے نشان دہی کی تھی کہ مسلم لیگ ن میں دھڑے بندی عروج پرہے،اور جیسے ہی شریف خاندان کی قسمت کا فیصلہ آئیگا ن لیگ میں ایک مضبوط گروپ منظر عام پر آئیگا جس میں نواز شریف اور شہباز شریف کی کوئی جگہ نہیں ہو گی،شہباز شریف نے مائنس نواز شریف فامولا کے تحت این آر او لینے کی بہت کوشش کی مگر اس میں کامیاب نہ ہو پائے اور مایوس ہو کر لندن میں ڈیرے لگا لئے،مریم نواز کو پارٹی کی سینئرقیادت اپنا لیڈر تسلیم کرنے پر تیار نہیں،اس لئے وہ بھی والد کیساتھ عازم لندن ہو نے کا پروگرام بنا چکی ہیں،البتہ قرائن بتا رہے ہیں کہ حمزہ شہبازشائد پاکستان میں ہی قسمت آزمائیں گے اوران کے بھائی سلمان باپ کیساتھ لندن میں کاروبار کریں گے،نواز ،شہباز کی سیاست سے کنارہ کشی کا ایک ثبوت قومی اسمبلی میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف سے لیکر رانا تنویرکے سپرد کرنا ہے،شہباز شریف کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے بھی الگ کر کے یہ عہدہ خواجہ آصف کو دینا ہے،جس کا واضح مطلب ہے کہ ن لیگ کی قیادت کو معلوم ہے کہ اب شہباز شریف کی واپسی ناممکن ہے،جن دنوں وہ ان عہدوں کیلئے سر

توڑ کوششوں میں مصروف تھے انہی دنوں سیاسی حلقوں میں یہ گمان پایا جاتا تھا کہ شہباز شریف مراعات لیکر جیل سےرہائی اور بیرون ملک جانے کیلئے یہ عہدے حاصل کرنا چاہتے ہیں اپنے مقصد میں کامیابی کے بعد انہوںنے دونوں عہدے چھوڑدئیے،ورنہ ان کی مرضی کے بغیر ان عہدوں پر تعیناتی پارٹی قیادت کے بس کی بات نہ تھی۔

مسلم لیگ ن کے اندرونی حالات سے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ چودھری نثار ایک عرصہ سے پارٹی میں اپنا گروپ بنانے کیلئے کوشاں ہیں اور ان کے متعدد رہنمائوں سے مسلسل رابطے ہیں،نوااز شریف اگر بیرون ملک چلے جاتے ہیں یاان کی سزا بحال ہو جاتی ہے تو چودھری نثار اس گروپ کا اعلان کر دیںگے،پنجاب اسمبلی کی نشست جس پرانہوں نے آج تک حلف نہیں اٹھایا کو چھوڑ کر وہ پارٹی کے کسی ایم این اے سے استعفیٰ د لا کر خود قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن لڑ کر قومی اسمبلی کا حصہ بنیں گے،اس کے بعد ملک میں صدارتی نظام لانے کی کوششوں کا آغاز ہو گا جس میں چودھری نثار حکومت کا بھر پور ساتھ دیں گے،ٹیکنو کریٹس پر مشتمل کابینہ وجود میں آئیگی اور ملک میں کرپشن کیخلاف جھاڑو پھیرا جائیگا،سرکاری محکموں سے کرپشن اور رشوت خوری ختم کرنے کرنے کیلئے سخت ترین اقدامات عمل میں لائے جائیںگے کالی بھیڑوں کے گرد شکنجہ کسا جائے گا۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی بھی اس نظام میں اپنا وجودقائم نہیں رکھ سکے گی،منی لانڈرنگ سمیت کسی مقدمہ میں آصف زرداری کوسزا ہو یا نہ ہو،پیپلز پارٹی تنکوں کی مانند بکھرنے والی ہے،پارٹی معاملات پر زرداری اور بلاول میں اختلافات شدید تر ہیں،پارٹی کی سینئر قیادت زرداری کے طرز سیاست اور گرفتار رہنمائوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کے روئیے سے سخت نالاں ہے،پارٹی کے اندر ایک مضبوط گروپ وجود میں آچکا ہے جو سیاسی وفاداریاں بدلنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے،چودھری نثار اگر اپنا گروپ بنا کر اپوزیشن کا رول ادا کرتے ہیں توپیپلز پارٹی کا ناراض گروپ ان کی قیادت میں سیاست کرے گا،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس گروپ کے تحریک انصاف سے بھی رابطے ہیں،طے شدہ بات یہ ہے کہ نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی اب ن لیگ بھی شریف خاندان کے ہاتھ سے جائے گی،اب شریف خاندان کا ٹھکانا جیل ہے یا اگر قسمت نے ساتھ دیا تو لندن،اور آصف زرداری کا مستقبل بھی ایسا ہی لگ رہا ہے،مگر وہ شریف برادران سے زیادہ بہادر ہیں۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔ 

مزید : بلاگ


loading...