پاکستانیوں کیخلاف لاتعداد متنازعہ فیصلے دینے والے امپائر ڈیرل ہیئر کس جگہ چوری کرتے پکڑے گئے؟

پاکستانیوں کیخلاف لاتعداد متنازعہ فیصلے دینے والے امپائر ڈیرل ہیئر کس جگہ ...
پاکستانیوں کیخلاف لاتعداد متنازعہ فیصلے دینے والے امپائر ڈیرل ہیئر کس جگہ چوری کرتے پکڑے گئے؟

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے مایہ ناز سابق آل راﺅنڈر شاہد خان آفریدی نے اپنی سوانح حیات ” گیم چینجر“ میں جہاں متعدد کرکٹرز کے بارے میں انکشافات کئے ہیں وہیں پاکستان کیخلاف لاتعداد متنازعہ فیصلے دینے والے امپائر ڈیرل ہیئر کے بارے میں بھی ایسا انکشاف کیا ہے کہ آپ بھی حیران رہ جائیں۔

ڈیرل ہیئر اس ٹیسٹ میچ میں امپائرنگ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جس میں بال ٹمپرنگ کا الزام لگنے پر انضمام الحق کی قیادت میں ٹیم نے میچ ادھورا چھوڑ دیا تھا اور چائے کے وقفے کے بعد میدان میں ہی نہیں گئی جس پر امپائرز نے انگلینڈ کو فاتح قرار دیدیا۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں لکھا ”عموماً سکینڈلز کا شکار ہونے والا انگلینڈ کا دورہ اچھا چل رہا تھا۔ ہماری ٹیم میں یوسف سب سے بہترین بلے باز تھا، سٹائلش اور سولڈ; یونس خان بھی بھرپور فارم میں تھے، انضمام الحق تسلسل کے ساتھ نصف سنچریاں بنا رہے تھے۔ مجھ سمیت باقی تمام کھلاڑی اوسط درجے کے تھے لیکن لڑنے کیلئے بھرپور تیار۔ صرف انجریز ہی ہمارے سکواڈ کو متاثر کر رہی تھیں، ہمارے دو سٹرائیک باﺅلرز شعیب اختر اور محمد آصف متعدد انجریز کے باعث ٹیم سے باہر تھے، محمد سمی، عمر گل اور دنیش کنیریا بھی میدان میں کارکردگی نہیں دکھا پا رہے تھے۔

چار میچوں کی سیریز میں ہم 2 میچ ہار چکے تھے۔ ہیڈنگلے میں کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ میچ میں امپائرز پہلے ہی بہت غلط فیصلے کر چکے تھے اور انضمام الحق گزشتہ میچوں میں فرائض انجام دینے والے امپائرز ڈیرل ہیئر اور بلی ڈوکٹروو سے خوش نہیں تھے۔ ہیئر ایشین کرکٹرز کیساتھ برے سلوک کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ اس وقت کے چیئرمین پی سی بی شہریار خان دونوں امپائرز کو مستقبل میں پاکستان کے میچوں سے دور رکھنے کیلئے آئی سی سی کو باقاعدہ درخواست دینے کے بارے میں بھی سوچ رہے تھے۔

متضاد خبروں کیساتھ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیا ہوا تھا۔ ہم نے اس ٹیسٹ میچ میں ڈیرل ہیئر کی جانب سے لگائے گئے بال ٹمپرنگ کے الزامات کے باعث اس میچ کا بائیکاٹ کر دیا اور اس الزام کی دوسرے امپائر بلی ڈوکٹروو نے بھی تائید کی اور اس پر انگلینڈ کو پانچ رنز دیدئیے گئے۔ ہم سب ششدر تھے مگر کھیل جاری رکھا۔ بہرحال، چائے کے وقفے کے دوران، سینئر کھلاڑیوں نے انضمام الحق کی حمایت کی اور میدان میں واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ میرے لئے امپائرز کا رویہ ناقابل یقین تھا۔ لیکن انضمام الحق اس سے کہیں زیادہ متاثر ہوئے تھے اور جھگڑا کر رہے تھے۔

پی سی بی انتظامیہ انہیں میدان میں واپس جانے کیلئے قائل نہیں کر سکی جس پر ڈیرل ہیئر نے انگلینڈ کو میچ کا فاتح قرار دیدیا، آخر میں ہم آئی سی سی میں ہونے والی سماعت کے دوران ڈیرل ہیئر کا فیصلہ بدلنے میں کامیاب ہو گئے اور میچ کو ’متروک‘ قرار دیدیا گیا۔ لیکن بعد میں آئی سی سی خود ہی اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی۔ کچھ مہینوں بعد ڈیرل ہیئر کو بے عزت کر کے نکال دیا گیا، وہ ایک قابل نفرت نسل پرست تھے، کہانی ختم۔۔۔ ویسے ڈیرل ہیئر اب کافی بدنام ہو چکے ہیں۔ اکتوبر 2007ءمیں وہ آسٹریلیا میں اس شراب خانے سے پیسے چراتے ہوئے پکڑے گئے جہاں وہ کام کرتے تھے۔

مزید : کھیل


loading...