”میچ کے بعد جاوید میانداد نے سائیڈ پر لے جا کر مجھے یہ بات کہی“ کوچ جاوید میانداد نے آفریدی سے ایسا کیا کہا کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا کہ یہ بھی ممکن ہے

”میچ کے بعد جاوید میانداد نے سائیڈ پر لے جا کر مجھے یہ بات کہی“ کوچ جاوید ...
”میچ کے بعد جاوید میانداد نے سائیڈ پر لے جا کر مجھے یہ بات کہی“ کوچ جاوید میانداد نے آفریدی سے ایسا کیا کہا کہ جان کر آپ کو بھی یقین نہیں آئے گا کہ یہ بھی ممکن ہے

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے مایہ ناز سابق آل راﺅنڈر شاہد خان آفریدی نے اپنی سوانح حیات ”گیم چینجر“ میں متعدد کرکٹرز بالخصوص جاوید میانداد کے بارے میں انکشافات کئے ہیں اور کہا ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں کر تے تھے لیکن بھارت میں کھیلی گئی سیریز میں درحقیقت کیا ہوا تھا ؟ اب وہ تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔

یہ واقعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلی گئی اس سیریز میں پیش آیا جس میں بھارتی انتہاءپسند تنظیم شیو سیناءنے نئی دہلی میں واقعہ فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم کی پچ ہی اکھاڑ دی تھی اور دھمکی دی تھی کہ وہ گراﺅنڈ میں سانپ چھوڑ دیں گے جس کے باعث بھارتی بورڈ کی انتظامیہ کو سپیروں کی خدمات بھی حاصل کرنا پڑی تھیں تاکہ ایسا کوئی واقعہ پیش آنے کی صورت میں سانپوں کو قابو کیا جا سکے۔

شاہد آفریدی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ”بدقسمتی سے اس ٹور میں دونوں ٹیموں کی بیٹنگ بہت خراب رہی اور بھارت کی طرف سے سداگوپن رامیش اور پاکستان کی طرف سے میں 200 سے زائد رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔ دہلی ٹیسٹ میچ چنائی منتقل کیا جا چکا تھا لیکن پھر ہم سب دہلی کی بدترین پچ پر واپس آ گئے اور انیل کمبلے کے نئے خطاب ’جمبو‘ کا موجب بنے جب انہوں نے 10 وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن کوئی بھی ٹیسٹ میچ پانچویں روز میں داخل نہیں ہو سکا تھا، کیونکہ دونوں ٹیموں میں اوسط درجے کے بلے باز کھیل رہے تھے۔

یہ سیریز مکمل طور پر سپنرز کی تھی۔ میں نے چنائی میں کھیلے گئے میچ میں سارو گنگولی کی وکٹ حاصل کی جنہوں نے بھارت کی پہلی اننگز میں سب سے زیادہ 54 رنز بنائے تھے۔ اور پھر ٹیل اینڈرز کا خاتمہ بھی کیا۔ ثقلین مشتاق اس وقت میرے بہترین دوستوں میں سے ایک تھے، انہوں نے سیریز کی ہر اننگز میں 20.15 کی اوسط سے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور مین آف دی سیریز قرارپائے۔

بھارت کی جانب سے انیل کمبلے سب سے کامیاب باﺅلر رہے جنہوں نے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرنے کیلئے غیر مستقل ہوم امپائرز اور اس پچ کا خوب فائدہ اٹھایا جسے شیو سینا نے خراب کر دیا تھا۔ کمبلے نے سیریز میں 14.85 کی اوسط سے 21 وکٹیں حاصل کیں۔ وہ کیا ہی بہترین شخص ہے! اگرچہ میں پاکستان کی طرف سے سیریز میں سب سے زیادہ سکور بنانے والا کھلاڑی تھا لیکن پھر بھی اس سیریز میں انیل کمبلے پر مکمل طور پر قابو نہیں پا سکا تھا۔

میرے لئے، اس دورے میں دیگر مسائل بھی تھے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستانی ڈریسنگ روم سے تھا۔ چنائی میں کھیلی گئی اننگز میں 6 گھنٹوں تک کریز پر رہا اور 191 گیندوں پر 141 رنز بنائے جس دوران 3 چھکے اور 21 چوکے بھی لگائے جہاں میں نے جواگل سری ناتھ اور دیگر باﺅلرز کیخلاف بہت اچھا کھیلا۔ لیکن میری ٹیم میں ہر کوئی جانتا تھا کہ کوچ جاوید میانداد مجھے ٹیم میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

یہ جھگڑا سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی چل پڑا تھا اور جاوید میانداد نے میرے خلاف بہت سخت موقف اپنا لیا تھا لیکن وسیم اکرم نے میرا ساتھ دیا اور واضح کر دیا کہ اگر شاہد آفریدی نہیں کھیلا تو میں بھی نہیں کھیلوں گا۔ یقینا، کپتان کو کامیابی ملی اور میں ٹیم میں شامل ہو گیا لیکن تناﺅ برقرار رہا اور جاوید میانداد کے روئیے میں نرمی نہیں آئی۔حتیٰ کہ میچ میں بیٹنگ سے ایک روز قبل میانداد نے مجھے نیٹ پریکٹس بھی نہیں کروائی۔ لہٰذا مجھے خراب گیند کیساتھ اپنے ساتھیوں سے دور اکیلے ہی پریکٹس کرنا پڑی،یہ کرب اور شرمندگی کا وہ بادل تھا جس کے سائے تلے میں پاکستان کے سب سے بڑے حریف کیخلاف اپنے کیرئیر کا پہلا میچ کھیلنے جا رہا تھا۔ اس سیریز میں جو کچھ حاصل کیا اس مدنظر رکھتے ہوئے ذرا اندازہ کریں کہ میں میانداد کی حمایت کیساتھ کیا کچھ کر سکتا تھا۔

میں نے جاوید میانداد کو اس ہیرو سے کہیں مختلف شخص پایا جس کیلئے 1980ءمیں خوش ہوتے ہوئے بڑے ہوئے۔ اس سے بھی بڑھ کر، ہم دونوں کے درمیان اختلاف ذاتی نوعیت کا تھا، سٹائل، طریقے اور تکنیک کے بارے میں تھا۔ وہ مجھے اپنی طرح کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے۔ انہیں میرا انداز، میری تکنیک یا اس میں کمی پسند نہیں تھی۔ لیکن میرے لئے، بیٹنگ کا مطلب ’پاور پلیز‘ تھا ، فیلڈرز سے خالی جگہوں پر شاٹس مارنا نہیں بلکہ ان میں گھس جانا۔ کیرئیر کے اس سٹیج پر میں جانتا تھا کہ میں تکنیکی طور پر اورتھوڈوکس نہیں ہوں، میرے پاس کچھ تھا اور ناصرف میدان میں بلکہ پوری ٹیم کے کام آ رہا تھا، لیکن جاوید بھائی کیلئے نہیں۔ وہ میرے کھیلنے کے طریقے کو ہضم نہیں کر پائے۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے خود کو اتنا سنجیدہ کیوں لے لیا۔

ہمارے اختلاف نے دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی کئی مشکلات پیدا کر دیں۔ ٹیم میں میری جگہ سے متعلق جاوید میانداد کے متضاد خیالات نے ٹیم میں سیاست اور تشویش پیدا کر دی تھی۔میری جگہ وہ آصف مجتبیٰ کو ٹیم میں دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ وسیم اکرم اور چیف سلیکٹر صلاح الدین ستی تھے، جن کی بدولت میں ٹیم میں جگہ بنا پایا تھا۔ تباہ کن نتائج کیلئے سٹیج تیار کیا جا چکا تھا، جاوید میانداد سنگدل تھے، اور اس لئے میں یہ انتہائی بداخلاقی سمجھتا ہوں کہ انہوں نے میچ سے ایک روز قبل مجھے نیٹ پریکٹس بھی نہیں کرنے دی، یہ یاد رکھیں کہ میں نے اوپننگ کرنا تھی۔

یقینا میں نے وہ میچ کھیلا، سنچری بنائی اور ہم وہ میچ 12 رنز سے جیت گئے لیکن اس کے بعد جاوید میانداد کا رویہ اور بھی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ میچ کے بعد تقریب تقسیم انعامات سے پہلے وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہا ’سنو، دوست،بہتر یہ ہے کہ تم پریزینٹیشن اور انٹرویو کے دوران میری تعریف کو یقینی بناﺅ، لوگوں کو بتاﺅ کہ میں نے تمہیں کیسے ایک بلے باز کے طور پر گروم کیا ہے اور ایک اچھا بلے باز بنایا ہے۔ سمجھ گئے؟‘

ہاں! انہوں نے حقیقت میں ایسا کہا۔ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا۔ یہ میرا دوسرا ٹیسٹ میچ تھا اور میں کرکٹ میں سیاست کی تلخ حقیقت پہلے ہی دیکھ چکا تھا۔ اس روز میرے دل سے جاوید میانداد کی عزت ختم ہو گئی،جنہیں ایک بڑا کرکٹر تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں وہ بہت چھوٹے انسان ہیں۔ میرے خیال سے میں ان کا مسئلہ بھی سمجھتا ہوں، انہوں نے بطور کرکٹر بہت زبردست کامیابیاں حاصل کیں اور یاد رکھیں کہ بھارت کیخلاف میرا جنون شارجہ میں جاوید میانداد کے چھکے سے ہی پیدا ہوا، جو ماڈرن کرکٹ کے چند شاندار لمحوں میں سے ایک تھا، لیکن اگرچہ وہ کرکٹ سے ریٹائر ہو چکے تھے، ان کی نمایاں ہونے کی خواہش نہیں گئی تھی، وہ کسی بھی قیمت پر ہر کسی سے عزت کروانا چاہتے تھے، حتیٰ کہ آج بھی یہی صورتحال ہے۔

جاوید میانداد کے بارے میں اتنا ہی کہوں گا۔ وہ ماضی میں رہتے ہیں اور ان کا سایہ ان سے کہیں بڑا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ ایک کمزور شخص کی خاصیت ہے۔ کرکٹ کے دنوں میں انہوں نے بہت عزت کمائی لیکن ریٹائرمنٹ ان کا بدترین چہرہ باہر لے آئی۔ حتیٰ کہ وہ پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل بھی رہے مگر کوئی نہیں جانتا کہ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے کیا کام کیا۔ میری رائے میں تو کوئی اصلاح ہوئی اور نہ ہی نئی پالیسیز کا اطلاق کیا گیا اور اپنے 6 سے 7 سالہ دور میں انہوں نے ماسوائے بھاری تنخواہ لینے کے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔“

مزید : کھیل


loading...