چھوٹے بچوں کو اس طرح کی مشین میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اصل وجہ جان کر آپ کو بھی ہنسی آجائے

چھوٹے بچوں کو اس طرح کی مشین میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اصل وجہ جان کر آپ کو بھی ...
چھوٹے بچوں کو اس طرح کی مشین میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اصل وجہ جان کر آپ کو بھی ہنسی آجائے

  



نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)پروفیسر فنسر نامی ایک صارف نے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر شکنجے میں جکڑے کچھ بچوں کی تصاویر پوسٹ کی ہیں، اور ان بچوں کی بے بسی پر کچھ بڑے کو ہنس رہے ہیں اور کچھ ان کی بیچارگی پر ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کر رہے ہیں۔ بچوں کو اس طرح شکنجے میں جکڑے جانے کی حقیقت یہ ہے کہ دراصل ان بچوں کا ایکسرے کیا جا رہا ہے اور چونکہ آپ جانتے ہیں کہ ایکسرے کے لیے مریض کا ایک جگہ ساکت رہنا بے حد ضروری ہوتا ہے اور بچوں کو ساکت رہنا ناممکن سے بھی پرے کی بات ہے، چنانچہ اس کے لیے دہائیوں قبل یہ شکنجہ نما مشین ایجاد کی گئی تھیں۔

1960ءمیں ایجاد کی گئی اس مشین کا نام ”پِگ او سٹیٹ‘ (Pigg O stat)ہے۔ اس میں بچے کو ڈال کر اس کے ہاتھ اوپر کی طرف کرکے اسے کَس دیا جاتا ہے اور وہ حرکت نہیں کر پاتا، چنانچہ ڈاکٹر سکون کے ساتھ اس کا ایکسرے کر لیتے ہیں۔ پروفیسر فنسر نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”مجھے آج پتا چلا کہ بچوں کا ایکسرے کیسے کرتے ہیں اور بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر میرے لیے ہنسی روکنا مشکل ہو رہا ہے۔“اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے وینی میس نامی ایک صارف نے لکھا کہ ”مجھے بچوں کو اس حالت میں دیکھ کر افسردگی ہو رہی ہے اور ہنسی بھی آ رہی ہے۔ “ہیکوشی نامی لڑکی نے لکھا کہ ”یہ تو خوفزدہ کر دینے والی صورتحال ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...