آئندہ بھی، گندم، آٹے کے بحران کا خدشہ؟

آئندہ بھی، گندم، آٹے کے بحران کا خدشہ؟

  

حکومت ِ پنجاب کے ترجمان فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت گندم کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے اور45 لاکھ ٹن کے ہدف کا 32 فیصد حصہ خریدا جا چکا ہے۔حکومت نے 158 ارب روپے مختص کئے ہیں اور ہدف پورا کیا جائے گا، صوبائی وزیر اطلاعات کے مطابق کسانوں سے 1400روپے فی من کے حساب سے خریداری جاری ہے۔ یہ بیان حوصلہ افزا تو ہے، تاہم اطلاعات کے مطابق خریداری بروقت شروع نہ ہوئی،اس سے نجی شعبہ نے فائدہ اٹھایا اور کسانوں سے نقد ادائیگی پر گندم خریدی اور اکثر بیوپاری1400روپے سے زیادہ پر بھی سودے کرتے رہے، جبکہ کسانوں کی یہ شکایت ہے کہ سرکاری مراکز تاخیر سے بنے اور چھوٹے کاشتکار بار دانہ سے بھی محروم رہے، جبکہ نجی شعبہ نے کھیتوں سے خریداری کی اور گندم اٹھائی۔ یوں حکومتی ہدف پورا نہ ہو سکے گا، اس کے علاوہ موسم نے بھی ”کرم“ کیا اور بے وقت بارشیں ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران بھی فیصل آباد ڈویژن سے لاہور اور ملتان تک بارش ہوئی، جبکہ اِسی سلسلے نے بلوچستان کے بعد خیبرپختونخوا اور پنجاب کا رُخ کیا،اِن بارشوں کی وجہ سے گندم کی فصل کو بھی نقصان پہنچا، خریداری میں تاخیر اور برسات کے باعث ہونے والے نقصان کی وجہ سے اچھی فصل سے بھی درست فائدہ نہ پہنچے گا، خریداری میں تاخیر کورونا ہی کی وجہ سے سہی۔ تاہم محکمہ خوراک و زراعت کے حکام اور حکومتوں کو اِس امر پر غور کرنا چاہئے تھا کہ گندم اور چینی کے گزشتہ بحران والی رپورٹ میں ایک وجہ تاخیر سے خریداری بھی تھی اور خصوصی طور پر سندھ حکومت پر الزام تھا، اس مرتبہ سندھ کی صورتِ حال کیا ہے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں، تاہم پنجاب حکومت کے ترجمان کے اپنے بیان کے مطابق ابھی تک45لاکھ ٹن کے ہدف کا صرف 32فیصد خریدا جا سکا ہے، جو بہرحال ناکافی ہے کہ نجی شعبہ سرگرم عمل ہے۔اِن حالات میں جن میں موسم کا اثر بھی شامل ہے۔ یہ خدشہ بے جا نہیں کہ مستقبل میں گندم اور آٹے کا بحران پیدا ہو گا اور آٹا مہنگا بھی ہو گا کہ نجی شعبہ نے سرکار کی مقرر کردہ قیمت خرید سے مہنگی گندم بھی خریدی اور بار برداری بھی خود برداشت کی، تو یقینا یہ کاروبار اور منافع ہی کے لئے ہے،اِس لئے بہتر عمل تو یہ ہے کہ خریداری بہت تیز کی جائے اور کسانوں کی شکایات دور کی جائیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -