فیصل آباد۔ کچھ یادیں

فیصل آباد۔ کچھ یادیں
فیصل آباد۔ کچھ یادیں

  

پچھلے دنوں ایکسپریس اخبار میں راؤ منظر حیات کے کالم میں افسر ساجد صاحب کا تفصیلی ذکر پڑھا تو ذہن کو مہمیز لگی۔ پھر زمان خان سے ٹیلی فون پر اس حوالے سے بات چیت ہوئی تو فیصل آباد سے متعلق یادوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ فیصل آباد 1982ء تک میرا آبائی ضلع تھا۔ میں نے گریجوایشن بھی گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے کی۔ میری شادی بھی یہیں ہوئی پھر تقریباً پانچ سال پی ٹی وی کے نیوز بیورو کی سربراہی بھی کی۔ اب یہ سارے رشتے وقت کے ساتھ دھندلا گئے ہیں۔ تاہم یادوں کو ذہن سے کھرچنا مشکل ہے۔

زمان خان کے ساتھ بات چیت میں بہت سے لوگوں کا ذکر آیا۔ افسر ساجد صاحب کے ذکر سے لامحالہ ذہن گورنمنٹ کالج کی طرف چلا گیا جہاں ہم نے اُن سے انگریزی پڑھی وہ بڑے نفیس آدمی تھے۔ انہوں نے سول سروس جائن کر لی اور ریٹائر ہو کر فیصل آباد میں مقیم ہیں اور علمی ادبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کالج سے نکلنے کے بعد کبھی اُن سے رابطہ نہ ہو سکا بلکہ اُن کے وزیرآباد کے ایڈریس کا پتہ بھی نہ چلا۔ بہت سوں کو خود ہمارا بھی پتہ نہ چلا کیونکہ ہم رزق کی تلاش میں ملک کے دوسرے کونے کی طرف نکل گئے تھے۔سنگر جواد احمد کے والد پروفیسر توقیر صاحب ہمیں پولیٹیکل سائنس پڑھاتے تھے وہ بڑے سمارٹ آدمی تھے زمانہ طالب علمی کی یاد سے وہ ٹھکانے بھی یاد آئے جہاں لذت کام و دہن کا اہتمام تھا۔ جھنگ بازار کے کیفے لطیف میں چائے کے مزے لیتے رہے وہاں فرمائشی گانے سننے کا اہتمام تھا۔ گھنٹہ گھر میں جھنگ بازار کے شروع میں پہلی منزل پر اِرم ہوٹل اور بعد میں چنیوٹ بازار کے شروع میں خیام ہوٹل اور کچہری بازار میں کاسموس ریسٹورنٹ میں بیٹھک رہی۔ دھوبی گھاٹ کے سامنے Rays ہوٹل بھی اچھی جگہ تھی۔ بھوانہ بازار میں ایک ایرانی ریسٹورنٹ اور بیکری بھی یاد ہے۔ یہیں پہلی دفعہ پیسٹری کی شکل دیکھی۔

گورنمنٹ کالج کے بعد پنجاب یونیورسٹی پہنچے وہاں سے نکلے تو پی ٹی وی جا پہنچے۔ پی ٹی وی میں اسلام آباد راولپنڈی،کراچی اور کوئٹہ کی خاک چھان کر ایک دفعہ پھر فیصل آباد آ پہنچے۔ اس دور میں اور لوگوں کے علاوہ صحافی برادری سے قریبی رابطہ رہا۔ ان دنوں وہاں صحافت کا بڑا چرچا تھا۔ سب سے زیادہ لوکل اخبار فیصل آباد سے ہی نکلتے تھے۔ اعجازحشمت، عبدالرشید غازی، پرویز پاشا، بشیر قریشی، (اے پی پی) عبدالوحید (ریڈیو) اور شمس السلام ناز اب اس دنیا میں نہیں رہے البتہ احمد کمال نظامی مقبول لودھی، سردار اختر اور شہباز چوہدری ابھی بھی قلم کی مزدوری کر رہے ہیں۔ فیصل آباد کا ذکر آتے ہی ہومیوپیتھک ڈاکٹر اشرف کا چہرہ آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے وہ پچھلے سال ساتھ چھوڑ گئے طویل تعلق کی بناء پر اُن کی یاد دیر تک آتی رہے گی۔

فیصل آباد بنیادی طور پر زرعی علاقہ تھا اس لئے زرعی تحقیق سے متعلق تین بڑے ادارے یہیں قائم ہوئے۔ 1906ء میں پنجاب ایگریکلچر کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ 1961ء میں اِسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ پنجاب ایگریکلچرل انسٹیٹیوٹ اور نیاب بھی زرعی شعبے میں بہت اہم ادارے تھے ان اداروں سے مسلسل رابطہ رہا اور کئی لوگوں سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر میاں ممتاز علی سے بڑے اچھے تعلقات رہے۔ پروفیسر ڈاکٹر آغا سجاد حیدر مرحوم اور ڈاکٹر ذاکر سے قریبی دوستی رہی۔آغاسجاد حیدر صاحب زرعی تحقیقاتی کونسل کے ممبر رہے اور ڈاکٹر ذاکر فیصل آباد ہی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہو گئے۔ نیاب کے سربراہ ڈاکٹر مجتبیٰ نقوی سے بھی اچھے مراسم تھے لیکن ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک سے دوستی ہوگئی جو اب بھی قائم ہے۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین رہے اور اب اپنے آبائی شہر لاہور میں ایف سی کالج سے وابستہ ہیں۔ جہاں ایک بلاک اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

فیصل آباد نسبتاً نیا شہر ہے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے ساندل بار میں چک نمبر 212 رب کے مقام پر 1896ء میں پنجاب کے گورنر سرلائل جیمز نے اس کی بنیاد رکھی۔اب یہ ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ شہر کا ڈیزائن کیپٹن فوفام نیگ نے چپس بورڈ یا گرڈ آئرن پیٹرن پر بنایا تھا۔ خیال ہے کہ اس میں برطانیہ کے جھنڈے یونین جیک کی جھلک ہے۔ درمیان میں گھنٹہ گھر ہے جس کی تعمیر 1903ء میں شروع ہوئی اور دو سال میں مکمل ہوئی۔ اس پر 40 ہزار روپے لاگت آئی۔ گھنٹہ گھر کی بلندی تقریباً 80 فٹ ہے اور اس پر وکٹورین طرز تعمیر کی چھاپ ہے۔ گھنٹہ گھر کے اِرد گرد آٹھ بازار ہیں۔ بازاروں کے اِردگرد سرکلر روڈ اور درمیان میں گول بازار ہیں۔ منٹگمری بازار، چنیوٹ بازار، بھوانہ بازار اور ریل بازار 40 فٹ چوڑے ہیں جبکہ کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار 60 فٹ چوڑے ہیں، پچھلے دنوں فیصل آباد جانے کا موقع ملا تو یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ کچہری بازار جو شہر میں سب سے خوبصورت بازار تھا اب وہ ویسا نہیں رہا۔ اس بازار میں کتابوں کی دکانیں تھیں۔

اخبارات کے دفاتر تھے۔ غریب اخبار کے سامنے فٹ پاتھ پر اخبارات کے ایڈیٹر چوہدری ریاست علی آزاد اور خلیق قریشی جیسے لوگ بیٹھے نظر آتے تھے۔ بازار کے درمیان میں کاسموس کے نام سے ایک جدید ریسٹورنٹ تھا، ایک بڑا اور جدید طرز کا جنرل سٹور تھا لیکن یہ سب قصہ ئ ماضی بن چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ موبائل فون کی مارکیٹ ہے۔ روایتی مرغ پلاؤ البتہ ابھی تک قائم ہے۔ کچہری سائیڈ پر بازار کے پیچھے ذیل گھر تھا جہاں چھوٹے شہروں اور دیہاتوں سے آنے والے زمیندار لوگ رہائش رکھتے تھے۔ میرے ایک بھائی اکثر یہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ مجھے بھی یہاں رہنے کا کئی دفعہ موقع ملا۔

فیصل آباد کی کہانی کئی لحاظ سے بڑی دلچسپ ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک زرعی علاقہ تھا اسی لئے یہاں تین زرعی تحقیقی کے ادارے قائم کئے گئے لیکن پھر یہ ہوا کہ فیصل آباد صنعتی شعبے میں اتنی ترقی کر گیا کہ اِسے پاکستان کا مانچسٹر کہا جانے لگا۔ انتظامی لحاظ سے فیصل آباد پہلے ضلع ملتان میں تھا پھر ضلع جھنگ میں آ گیا اور پھر ضلع بننے پر اِسے سرگودھا ڈویژن کا حصہ بنا دیا گیا۔ 1982ء میں اِسے ڈویژن کا سٹیٹس ملا۔ شہر کا نام اس کے بانی سرلائل جیمز کے نام پر لائلپور رکھا گیا لیکن بھر 18 ستمبر 1977ء میں اِس کا نام بدل کر سعودی عرب کے کنگ شاہ فیصل کے نام پر فیصل آباد رکھ دیا گیا۔

مزید :

رائے -کالم -