شبلی فراز کی پہلی انٹری

شبلی فراز کی پہلی انٹری
شبلی فراز کی پہلی انٹری

  

یوں لگتا ہے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز اِس موقع کے انتظار میں تھے کہ کب بلاول بھٹو زرداری پریس کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی تنقید کا ترکی بہ ترکی جواب دے سکیں۔انہوں نے اپنی پہلی دبنگ انٹری ڈال دی ہے اور بلاول بھٹو زرداری کو سخت لب و لہجے میں جواب دیا ہے۔ اس پر سندھ کے وزیر سعید غنی نے یہ دلچسپ تبصرہ کیا کہ وفاقی وزیر شبلی فراز ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی پیروی کرنے پر مجبور ہیں تاکہ ان کی کمی محسوس نہ ہونے دیں۔ ویسے تو بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر کئی دوسرے پی ٹی آئی رہنما بھی جواب دینے کے لئے میدان میں کود پڑے اور بلاول کی اہمیت بڑھا گئے،لیکن شبلی فراز کا کھل کر سیاسی طور پر سامنے آنا اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ بطور وفاقی وزیر اطلاعات ان کا مرکزی فوکس بھی بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف ہی رہیں گے،

خود انہوں نے صحافیوں سے ملاقات میں کہہ دیا ہے کہ وہ سیاسی معاملات پر حکومت کا نقطہ ئ نظر پیش کریں گے اور جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ میڈیا ماہر کے طور پر حالات پر نظر رکھیں گے۔ شبلی فراز کی پہلی انٹری سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ بھی اُسی ڈگر پر چلنا چاہتے ہیں، جس پر اکثر وفاقی وزراء اطلاعات چلتے رہے ہیں،انہیں بھی ہر وقت اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنی ہے اور کسی بھی حکومت مخالف بیان پر فوراً بیان یا ٹویٹ جاری کرنا ہے، کہنے کو عہدہ وزیر اطلاعات کا ہوتا ہے، مگر اطلاعات کم دی جاتی ہیں اور مخالفین کی تنقید کا جواب زیادہ پیش ِ نظر رہتا ہے۔ ایک بات جو تمام وزرائے اطلاعات بھول جاتے ہیں، اُس کا تعلق اسی نکتے سے ہے کہ جب کسی تنقیدی بیان کا جواب دیا جاتا ہے تو وہ زیادہ لوگوں تک پہنچتا ہے،اُسے نظر انداز کر دیا جائے تو شاید وہ زیادہ پذیرائی حاصل کر نہ کر سکے۔

احساس پروگرام کو اگر اتنا حساس بنا دیا گیا کہ بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے اُس کے خلاف جونہی کوئی بیان دیا نہ صرف وفاقی وزیر اطلاعات بلکہ دوسرے وزراء اور صوبائی وزراء اطلاعات بھی دفاع کے لئے میدان میں آ جائیں تو فائدہ حکومت کو کم اور اپوزیشن کو زیادہ ہو گا۔اب آصف علی زرداری تو میدان میں ہیں نہیں، بلاول بھٹو زرداری ہی پیپلزپارٹی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اُن کے پاس بھی کہنے کو کچھ اور نہیں سوائے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرنے کے، سندھ میں کرپشن کی لاکھ کہانیاں سامنے آئیں، بلاول بھٹو زرداری نے ایک لفظ نہیں کہنا، بلکہ حملہ مدافعت سے بہتر ہے کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے کوئی ایک پھلجھڑی چھوڑنی ہے، اس کے بعد حکومتی وزراء اس قدر سیخ پا ہو جاتے ہیں کہ تابڑ جوڑ حملوں کے سوا انہیں اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔بلاول بھٹو زرداری نے یوم مئی کی مناسبت سے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک کے کروڑوں مزدوروں کے لئے کچھ نہیں کیا، گویا انہوں نے دُکھتی رگ پر پاؤں رکھ دیا تھا، جس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اب مناسب تو یہی تھا کہ صرف شبلی فراز اعداد و شمار کے ساتھ بتاتے کہ اب تک مزدوروں کے لئے کیا کچھ کیا جا چکا ہے،اس کی بجائے وہ خود اور دوسرے وزراء بھی بلاول بھٹو زرداری پر چڑھ دوڑے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہا کہ وزیراعظم عمران خان صبح کے وقت کچھ اور رات کو کچھ اور کہتے ہیں۔ شبلی فراز نے بھی بلاول بھٹو زرداری کے لئے صبح و رات کا استعارہ استعمال کر کے حساب برابر کرنے کی کوشش کی۔اب یہ تو سب کو معلوم ہے کہ وفاقی حکومت کی سندھ حکومت کے ساتھ ٹھنی ہوئی ہے، آج سے نہیں، بلکہ جب سے یہ حکومتی سیٹ اَپ بنا ہے یہ مخاصمت چلی آ رہی ہے، تاہم کورونا کی وبا آئی ہے تو یہ اختلافات مزید بڑھ گئے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل، سندھ کی پی ٹی آئی، اُس وقت کی مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور دیگر وفاقی وزراء سندھ حکومت کو نااہل ثابت کرنے پر جُت گئے۔دوسری طرف سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے اپنی مرضی سے فیصلے کرتے رہے، پھر دونوں طرف سے گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری رہا، جو ہنوز جاری ہے۔اب اس تناظر میں بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہا ہے کہ وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں، مگر وہ صرف اسلام آباد کے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ سندھ کو انہوں نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے، مرکز کی طرف سے سندھ حکومت کو ایک دھیلے کی امداد نہیں ملی، جو سندھ کے ساتھ بدترین زیادتی ہے۔

وفاقی حکومت کے وزراء کا موقف ہے کہ سندھ حکومت کو کیش کی صورت میں امداد اِس لئے نہیں دی جا رہی کہ وہ خورد برد ہو جائے گی،اِس لئے احساس پروگرام کے تحت براہِ راست لوگوں کی امداد دی جا رہی ہے،جس کی پیپلزپارٹی کو بڑی تکلیف ہے۔اِس سے پہلے یہی وزراء سندھ حکومت پر یہ الزام بھی لگاتے رہے ہیں کہ اُس نے امداد کے نام پر آٹھ ارب روپے ہڑپ کر لئے ہیں، راشن کسی ایک گھر میں بھی نہیں پہنچا۔ وفاقی وزراء یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اپوزیشن کا کام تنقید کرنا الزامات لگانا ہوتا ہے۔ اگر حکومت اُن الزامات پر بہت شدید ردعمل ظاہر کرتی ہے تو اپوزیشن کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔اپوزیشن کی تنقید اور آواز کو جتنا زیادہ نظر انداز کیا جائے اتنا ہی بہتر ہوتا ہے، مگر یہاں تو سب اس تاک میں ہوتے ہیں کہ کب کوئی الزام لگے اور وہ ایک دو، تین، چار اطراف سے حملہ آور ہوں تاکہ اپنی وزارت کا حق ادا کر سکیں۔

شبلی فراز بھی اسی رو میں بہتے نظر آتے ہیں،حالانکہ اُس کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ دھیمے مزاج کے نرم خو انسان ہیں، جلد ہی کسی بات پر برانگیختہ نہیں ہوتے، لیکن لگتا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کے منصب پر بیٹھ کر وہ اپنی یہ خوبیاں برقرار نہیں رکھ سکیں گے، ابھی تو شہباز شریف نے میدان میں آنا ہے، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور مریم اورنگزیب نے بھی حسب ِ سابق حکومت کی طرف اپنی توپوں کا رُخ جاری رکھنا ہے، اگر شبلی فراز کو بھی دن میں چار مرتبہ چینلز پر لائیو پریس کانفرنسیں کرنی پڑگئیں تو صحافیوں کے وارے نیارے ہو جائیں گے،جو ہمیشہ جواب آں غزل کے متلاشی رہتے ہیں۔

وزارتِ اطلاعات اگر وزارتِ دفاع وزیراعظم کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا کہ وہ اپوزیشن کے الزامات کا جواب دے، حالانکہ اس وزارت کی اصل ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کو سامنے لائے۔اُس کی سوچ، سمت اور حکمت ِ عملی کی تشہیر کرے۔اپوزیشن کی یہ طے شدہ چال ہوتی ہے کہ حکومتی موقف کو صرف الزامات کی وضاحت تک محدود کر دیا جائے۔خود عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو یہی کچھ کرتے رہے، انہوں نے پیپلزپارٹی اور نواز شریف کی حکومتوں پر اتنے الزامات لگائے کہ اُس زمانے کے وزرائے اطلاعات صبح و شام عمران خان کے الزامات کا جواب دیتے ہی نظر آتے تھے،اس سے عمران خان کو بہت فائدہ وا اور وہ ایک قومی سطح کے لیڈر بن کر سامنے آئے۔اگر بلاول بھٹو زرداری کی ایک پریس کانفرنس اتنی ہلچل مچا سکتی ہے تو یہ سلسلہ اگر بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف نے تسلسل کے ساتھ جاری رکھا تب کیا ہو گا۔ شبلی فراز کو تو صبح و شام جواب دینے کے لئے سر جھکانے کی فرصت نہیں ملے گی۔اب انہیں بلاول بھٹو زرداری کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے یہ کہنے کی قطعی ضرورت نہیں تھی کہ چیئرمین پیپلزپارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اشرافیہ کے نمائندے ہیں یہ اشرافیہ کا لفظ تو پچھلے چند دِنوں سے کچھ اور ہی معانی اختیار کئے ہوئے تھے۔

جب سے وزیراعظم عمران خان نے یہ کہا ہے کہ اشرافیہ کو ملک میں لاک ڈاؤن کی جلدی تھی، اس نے بلا سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کرا دیا۔ ابھی تک عقل حیران ہے کہ وزیراعظم نے کس اشرافیہ کی بات کی ہے، جو وزیراعظم کو بھی خاطر میں نہیں لاتی۔اب شبلی فراز نے اسی اشرافیہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اُن کا مقصودِ نظر وہ عمومی اشرافیہ ہے،جو اس ملک میں ہمیشہ مسلط رہی ہے۔ شبلی فراز کو جلد ہی اندازہ ہو جائے گا کہ جس منصب پر وہ فائز ہوئے ہیں،وہاں سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہوتی ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اس بات کو بھول گئی تھیں،حتیٰ کہ انہوں نے آٹھ بچوں کی ایک ماں سے بھی بے ہودہ سوال پوچھ لیا تھا، کہا جا رہا ہے یہ سوال بھی اُن کے زوال کا باعث بنا۔

مزید :

رائے -کالم -