کورونا وائرس اور خواتین!

کورونا وائرس اور خواتین!
کورونا وائرس اور خواتین!

  

میں پچھلے دنوں نیٹ پر طائرانہ سی نظر ڈال رہا تھا کہ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گترس کا ایک مضمون (آپ اسے کالم بھی کہہ سکتے ہیں) نظر سے گزرا جس کا عنوان وہی تھا جو میں نے اپنے کالم کا عنوان بنایا ہے۔ یہ کالم مالے میل (Malay Mail) میں 30اپریل کو شائع ہوا تھا جسے ہمارے بعض روزناموں نے بھی لِفٹ کیا۔ چونکہ یہ خیالات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے قلم سے نکلے تھے، اس لئے فارن میڈیا نے بھی اس طرف توجہ دی۔ ہماری ابلاغی روایات کے علی الرغم مغربی پرنٹ میڈیا کسی اہم موضوع پر جب اہم شخصیات کے افکار کو کیری (Carry) کرتا ہے تو آخر میں لکھ دیتا ہے: ”اس آرٹیکل میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ مصنف کے اپنے ہیں اور اخبار کی پالیسی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ……“ ظاہر ہے اس کی اجازت کالم نگار نے دی ہوتی ہے۔ اس کا معاوضہ البتہ وہی اخبار ادا کرتا ہے جو پہلے روز اسے شائع کرتا ہے۔ اگلے روز عالمی میڈیا پر جب یہی کالم لفٹ کیا جاتا ہے تو اس میں کتربیونت بھی کر دی جاتی ہے جس کا حجم کچھ زیادہ نہیں ہوتا لیکن یہ ”کٹوتی یا ترمیم“ اس لئے کی جاتی ہے کہ جس ملک سے وہ اخبار شائع ہوتا ہے، وہاں کی ”پیمرا“ کی پالیسی کا اتباع ضروری ہوتا ہے۔

مجھے اس کالم کے عنوان سے ایک گونہ دلچسپی یہ بھی تھی کہ جنوبی ایشیا کے ہمارے خطے میں کورونا وبا کے سبب افرادِ خانہ کو گھر سے باہر نکلنے پر جو پابندی لگا دی گئی تھی اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جانے لگا تھا۔ ہماری پاکستانی خواتین کے مقابلے میں انڈیا کی خواتین کا واویلا خود انڈین میڈیا نے بڑے واشگاف انداز میں بیان کرنا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ٹھہرا اس لئے اس کے میڈیا میں بے حجابی اور جنسی موضوعات پر اس طرح کھل کر بات نہیں کی جاتی جس طرح بھارت میں کی جاتی ہے۔ بھارت میں ایک طویل عرصے سے خواتین کو ایسے لباسوں میں ملبوس دکھایا جا رہا ہے جو پاکستان میں Taboo ہے۔ (الحمدللہ)…… گزشتہ دو تین برسوں میں انڈیا میں جنسی عریانی اور بے راہروی کے ایسے شرمناک واقعات پیش آ چکے ہیں جن کی صدائے بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی تھی اور بعض پاکستانی لڑکیوں نے بھی ”میرا جسم میری مرضی“ کے ایسے ندامت آفریں مظاہرے کئے تھے جو ہمارے معاشرے کے عکاس نہیں تھے…… وہ تو اچھا ہوا، یہ شعلہ ء مستعجل تھوڑی دیر کے لئے بھڑکا اور پھر ٹھنڈا پڑ گیا…… لیکن انڈیا میں اب بھی یہ شعلہ سامانی جاری ہے۔ پچھلے دنوں ایک دوست کی طرف سے ایک بھارتی اخبار (درپن) کا تراشا واٹس آپ پر موصول ہوا جس میں اخبار کے خبر نگار نے کھل کر خواتین کے اس حالِ زار کا نقشہ کھینچا تھا جو بھارت میں مودی کے لاک ڈاؤن کا بالواسطہ نتیجہ تھا۔ خواتینِ خانہ نے کھل کر اپنے شوہروں کی دراز دستیوں کا کچھ ایسا نقشہ کھینچا تھا جو واقعی دو ماہ سے گھر کے اندر بند ہو جانے کی فضا میں ان کی بے جا ستم رسیدگی کا ڈھنڈورہ پیٹتا تھا!

میں نے سوچا دیکھتے ہیں یورپی خواتین پر بھی اس لاک ڈاؤن کا کچھ ویسا ہی اثر پڑا ہے جیسا بھارت میں پڑا (اور ایک حد تک شائدپاکستان میں بھی ایسا ہوا!)…… میں جوں جوں گترس کا کالم پڑھتا گیا، معلوم ہوتا گیا کہ اس سلسلے میں مغربی خواتین کا حالِ زبوں مشرقی خواتین سے بھی بڑھ کر قابلِ رحم ہے۔ ان کے کالم کے شروع کے یہ فقرات قابلِ غور ہیں ……: ”بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ کووِڈ۔19(کورونا وائرس) نے براہِ راست مردوں (Males) کو زیادہ متاثر کیا ہے اور بالخصوص بڑی عمر کے مردوں کو …… لیکن یہ وبا تو ہر قسم کی جنسی مساوات سے مبرا معلوم ہوتی ہے۔اس نے خواتین کی صحت، ان کے دوسرے نسوانی حقوق اور ان کی آزادیء مساوات پر زبردست حملہ کیا ہے…… خواتین نے پہلے ہی لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کے مہلک اثرات کے ہاتھوں بہت زک اٹھائی ہے۔ لاک ڈاؤن کی یہ پابندیاں اگرچہ لازمی قرار دی گئی ہیں لیکن ان بندشوں کے سبب گھر کی چار دیواری میں محبوس اور مقیّد خواتین نے اپنے مرد ساتھیوں کے ہاتھوں ”غلط استعمال“ ہونے کا اندوہناک تجربہ کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران مردوں نے ان خواتین کو بُری طرح تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور تشدد کی یہ لہر عالمگیر بن چکی ہے۔ برطانیہ میں تو ان خواتین نے اپنے ’غلط استعمال‘ ہونے کی جو شکایات حکام کو رپورٹ کی ہیں ان کا حجم معمول کی نسبت 700گنا زیادہ ہو چکا ہے۔ حقوقِ نسوانی کا تحفظ کرنے والی سروسز کی بندش کا خطرہ بڑھ چکا ہے“۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے درجِ بالا الفاظ میں مغرب کی خواتین کے ”غلط اور بے جا استعمال“ (Abusiveness) کا جو رونا رویا ہے اس کی وضاحت محتاجِ بیان نہیں۔ ہم یہاں مشرق میں حقوقِ نسواں کی منادی کرتے نہیں تھکتے اور ہماری بعض ماڈرن خواتین مغربی خواتین کی آزادیوں کی قصیدہ گو ہیں۔ لیکن گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ کے لاک ڈاؤن میں مغرب کی خواتین کی آزادیاں جس طرح پامال ہوئی ہیں ان کے مقابل ہم اپنی مشرقی خواتین کے حقوق کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام میں خواتین کو جو آزادیاں دی گئی ہیں وہ ازلی اور ابدی ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے پاکستانی معاشرے میں بعض اوقات حقوق نسواں کا وہ خیال نہیں رکھا جاتا جو خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد کی اسلامی خلافتوں اور بادشاہتوں میں رکھا جاتا تھا۔

آگے چل کر گترس اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ کورونا وائرس کے ہاتھوں نہ صرف یہ کہ خواتین پر جسمانی اور جنسی تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے بلکہ اس وبا نے خواتین کی سماجی اور معاشی آزادیوں کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے بعد انتوینوگترس نے اپنی ذاتی مثال دی ہے اور لکھا ہے: ”کام کرنے والی خواتین کے ساتھ یہی غیر مساویانہ اور ناروا سلوک تھا جس کی وجہ سے میں نے سیاست میں قدم رکھا۔ 1960ء کے عشرے کے اواخر میں، میں ایک طالب علم تھا (گترس کا سنِ پیدائش 1949ء ہے) اور لزبن میں سماجی بہبود کے کاموں میں رضاکارانہ حصہ لیا کرتا تھا(لزبن، پرتگال کا دارالحکومت ہے) ان ایام میں، میں نے دیکھا کہ ہماری خواتین ایک سخت مشکل صورتِ حال میں گرفتار ہیں، ان کو اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لئے جو محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے، وہ شرفِ انسانی سے کہیں فروتر ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس صورتِ حال کو تبدیل ہونا چاہیے اور اسی لئے میں نے پیشہ تدریس کو خیر باد کہہ کر سیاست کے کوچے میں قدم رکھا اور آج میں دیکھ رہا ہوں کہ میری زندگی ہی میں یہ خوشگوار تبدیلی آ چکی ہے“۔

قارئین کرام! آپ کو یاد ہو گا مسٹر گترس پچھلے دنوں چار روزہ دورے پر (16تا19فروری) پاکستان آئے تھے۔ یہ ان کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ ان چار دنوں میں سیکرٹری جنرل نے پورے پاکستان کی ”سیر“ کر لی تھی۔ وہ اساسی طور پر افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد کی 40ویں برسی کی تقریبات میں شرکت کرنے آئے تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے پاکستانی اور بھارتی ملٹری آبزروروں کے گروپ سے بھی ملاقات کی۔انہوں نے پاکستانی عوام و خواص کی بہت تعریف کی، شجر کاری مہم کو سراہا، کرتارپور راہداری کا دورہ کیا لاہور کے تاریخی مقامات دیکھے، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ پاکستان سے ملاقات کی اور اقوام متحدہ کی طرف سے بھیجے جانے والے پاکستانی فوجیوں کی خدمات کو سراہا۔

شائد ہم پاکستانیوں کو معلوم نہیں کہ انتونیوگترس سات برس تک (1995ء تا 2002ء) اپنے ملک پرتگال کے وزیراعظم رہے، ملک کی سوشلسٹ پارٹیوں کے بانیوں میں سے ہیں۔ دس برس تک اس پارٹی کے سیکرٹری جنرل رہے، تین سال تک (1992ء تا1995ء) اپنے ملک کے قائدِ حزبِ اختلاف رہے…… میں یہ تفصیل اس لئے آپ کی سامنے رکھ رہا ہوں کہ وہ کوئی معمولی انسان نہیں۔ خود ساختہ (Self made) شخصیت ہیں۔

یہاں پاکستان میں ہم نے ان کو جس روانی سے انگریزی بولتے سنا، اسی برجستگی سے وہ فرانسیسی اور اسپینی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں۔(پرتگالی اور اسپینی دونوں میں اگرچہ ذخیرۂ الفاظ کی لغت بہت حد تک یکساں ہے لیکن جس طرح ہم پاکستانی بھارت کی ہندی زبان کے کئی الفاظ و محاورات سے کم کم شناسا ہیں، اسی طرح گترس بھی اپنے ہمسائے (سپین) کی زبان سے کم آشنا ہونے کے باوصف فر فر بولنے پر قدرتِ نامہ رکھتے ہیں)

سیکرٹری جنرل نے اپنے مضمون میں مغربی خواتین کی ایک اور محرومی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ آنے والے تین مہینوں میں 20کروڑ خواتین اپنی نوکریوں سے سبکدوش کر دی جائیں گی۔ مغربی ممالک اگرچہ امیر ممالک میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی خواتین کو بے روزگاری الاؤنس بھی ضرور ملتا رہے گا لیکن یہ الاؤنس صرف انتہائی ضروری حاجات ہی کو پورا کر سکے گا جبکہ عصرِ حاضر کی خواتین نے اپنی آزادی کے زعم میں اپنے اخراجات کی Space بہت وسیع کر لی ہے۔ اس کورونا نے اچانک ان خواتین سے یہ تمام سہولیات چھین لی ہیں۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وبا کب ختم ہو گی۔ ایک بات جو سامنے نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح دفعتہً خواتین پر بُرا وقت آیا ہے، اسی طرح دفعتہً جائے گا نہیں۔ اگر جانے کی راستے پر گامزن ہو بھی گیا تو اس کی رفتار اپنے آنے کے مقابلے میں بہت کم اور سست ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -