فتح مکہ

فتح مکہ

  

اسے غزوہ عام الفتح بھی کہا جاتا ہے۔ 6ہجری میں ہونے والے معاہدہ صلح حدیبیہ کو قریش اور اُن کے حلیف دو سال بھی نہ نبھا سکے۔واقعہ اس طرح ہے کہ اسلامی لشکر کی جنگ مُوتہ سے واپسی کے بعد 8ہجری جمادی الآخر،رجب اور شعبان کے مہینوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا قیا م مدینہ منورہ میں تھا۔معاہدہ صلح حدیبیہ کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ جو کوئی مسلمانوں کا حلیف بننا چاہے بن سکتا ہے اور جوکوئی قریش مکہ کا حلیف بننا چاہے بن سکتا ہے اور حلیف اس فریق کا حصّہ ہوگا، لہٰذا اگر کوئی قبیلہ کسی حملے یا زیادتی کا شکار ہوگا تو وہ جس کا حلیف ہے اُس پر حملہ تصور کیاجائے گا۔ قبیلہ بنو خزاعہ مسلمانوں کا حلیف تھا، جبکہ بنو بکر قریش کا حلیف تھا۔ بنو بکر نے بنو خزاعہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا، دونوں قبیلوں میں جنگ ہوئی تو قریش مکہ نے بنو بکر کی مدد کی اور بنوخزاعہ کو شکست دے کر مکہ میں ڈال دیا۔ مکہ پہنچ کر بنو خزاعہ کے لوگوں نے بُدیل بن ورقا خزاعی اور اپنے ایک آزاد کردہ غلام رافع کے گھروں میں پناہ لی اور عمروبن سالم خزاعی وہاں سے نکل کر مدینہ آئے اور بارگاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) میں عرض کیا کہ یقینا قریش نے آپ سے کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کی اور ہمیں رکوع و سجود کی حالت میں قتل کیا۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا تمہاری مدد کی گئی، آپ کے اس ارشاد کے بعد بادل کا ایک ٹکڑا دکھائی دیا آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا یہ بادل بنوکعب کی مدد کی بشارت سے دمک رہا ہے۔اسی اثناء میں قریش کو اپنی بد عہدی کا احساس ہوا تو انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو اپنا نمائندہ بناکر تجدید صلح کے لئے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے پاس روانہ کریں۔ادھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)نے صحابہ کرام کو بتایا کہ میں دیکھ رہاہوں کہ ابوسفیان تجدید عہد ااور مدت صلح بڑھانے کے لئے آرہا ہے۔

ابو سفیان مدینہ پہنچا اور اپنی صاحبزادی اُم المومنین حضرت اُم حبیبہ ؓ کے گھر گیا۔جب رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے بستر پر بیٹھنا چاہا تو انہوں نے بستر لپیٹ دیا اس پر ابوسفیان نے کہا بیٹی کیا تم نے اس بستر کو میرے لائق نہیں سمجھا انہوں نے کہا یہ اللہ کے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا بستر ہے اور آپ ناپاک مشرک آدمی ہیں۔ اس کے بعد ابو سفیان رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے پاس گیا آپ نے کوئی جوب نہیں دیا اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓ،حضرت عمرؓ،حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے پاس گیا، کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس کے بعد حضرت فاطمہؓ سے کہنے لگا: ”کیا آپ ایسا کرسکتی ہیں کہ اپنے بیٹے کو حکم دیں: کہ وہ لوگوں کے درمیان پناہ دینے کا اعلان کرکے ہمیشہ کے لئے عرب کا سردار بن جائے۔“حضرت فاطمہؓ نے جواب دیا: ”رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے ہوتے ہوئے کوئی پناہ نہیں دے سکتا“۔ ہر طرف سے ناکامی کے بعد حضرت علی ؓ سے کہنے لگا اے ابوالحسن ”مجھے کوئی راستہ بتائیے حضرت علیؓ نے فریایا میں تمہارے لئے کوئی کارآمد چیز نہیں جانتا البتہ تم تو بنو کنانہ کے سردارہولہٰذا تم لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر امان کا اعلان کرو اور واپس چلے جاؤ چنانچہ ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہو کر امان کا اعلان کیا کہ لوگو! میں لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کرتا ہوں اس کے بعد اپنے اونٹ پر سوار ہوکر مکہ چلاگیا۔

طبرانی کی روایت ہے کہ قریش کی عہد شکنی کی خبر آنے سے تین روز پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت عائشہؓ کو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا سازو سامان تیار کرنے کا حکم دے دیا تھا نیز یہ بھی حکم دے رکھا تھا کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے صحابہ کو مکّہ جانے کے لئے تیاری کا حکم دیا۔ادھر حاطب بن بلتعہ نے کسی کو بتائے بغیر قریش کو ایک خط لکھ کر اسلامی لشکر کی روانگی کی اطلاع دینے کے لئے ایک خط عمرو بن عبدالمطلب کی کنیز سارہ نامی عورت کو دے کر کہا کہ وہ جلد از جلد اسلامی لشکر سے آگے نکل کر قریش کو اطلاع پہنچا دے وہ عورت اس خط کو اپنے سر کی چوٹی میں چُھپا کر روانہ ہوئی لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کو بذریعہ وحی اس کی خبر دے دی گئی چنانچہ اُپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت علی ؓ،حضرت زُبیرؓ،حضرت مقدادؓ اور حضرت ابومُرشد غنویؓ کو بھیجا کہ جاؤ روضہ ءِ وادی حلیفہ خاخ پہنچو وہاں ایک ہودج نشین عورت(اونٹ کی کاٹھی، جس پر دو افراد آمنے سامنے بیٹھتے ہیں، میں بیٹھی ہوئی عورت)ملے گی جس کے پاس قریش کے نام کا وہُ خط ہوگا۔جب یہ حضرات وہاں پہنچے تو وہ عورت موجود تھی اور اونٹ پر سوار ہوکر بڑے اطمینان سے جارہی تھی اور جب اُس عورت کے قریب پہنچے تو اُس سے کہا اونٹ سے اُترآؤ اور جو خط تمہیں حاطب نے دیا ہے ہمیں دے دو۔اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں اس پر حضرت علی ؓ نے تلوار نکالی اور اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کا فرمایا ہوا غلط نہیں ہوسکتا، ہم خط لئے بغیر تمہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں، چنانچہ اس نے مجبور ہوکر اپنی چوٹی کے بالوں سے خط نکال کردے دیا۔رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حاطب کو بلاکر پوچھا کہ حاطب یہ کیا ہے۔حاطب نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)اس خط کے بھیجنے سے میرا مسلمانوں کے ساتھ غداری کا ارادہ نہیں تھا۔ میں نے تو اپنے اہل واعیال کی خاطر ایسا کیا تھا کیونکہ وہ وہیں رہتے ہیں اور قریش سے میری قرابت داری نہیں کہ وہ میرے بچوں کی حفاظت کریں۔اس پر حضرت عمرؓ نے اُٹھ کر عرض کیا یارسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مجھے اجازت ہوتو میں اس منافق کی گردن اُڑادوں لیکن رحمتہ اللعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا اے عمر کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بدری صحابہ کے بارے میں فرمایاہے کہ میں نے تمہیں بخش دیا۔یہ سُن کر حضرت عمرؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں، حاطب بن بلتعہ بدری صحابی تھے ان کے متعلق یہ آیات نازل ہوئی تھیں: ”اے ایمان والو اپنے اور اللہ کے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ……(الممتحنہ آیت2-1)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جاسوسوں کو پکڑلیا اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت ابورھم غفاری کو مدینہ میں اپنا قائم مقام مقرر فرمایا اور 10رمضان المبارک 8ہجری کو مکہ کی جانب روانہ ہوئے اور رات کے ابتدائی حصّے میں مرالظہران پہنچے۔ مرالظّہران میں وادی فاطمہ پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے نزول فرمایا وہاں آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے حکم سے لوگوں نے الگ الگ آگ جلائی،اس طرح دس ہزار چولہوں سے آگ جلائی گئی۔رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت عمرؓ بن خطاب کو پہرے دار مقرر فرمایا۔اسی دوران حضور پاک (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب حضور(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے خچر پر سوار ہوکر اس خیال سے باہر نکلے کہ اگر کوئی آدمی مل جائے تو اُس کے ذریعے قریش کو پیغام بھجوائیں کہ وہ رُسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر امان کی درخواست کریں اور اسلام قُبول کرکے اپنی جانوں کا تحفُظ کرلیں۔اسی اثناء میں ابوسفیان،حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا حالات معلوم کرنے کے لئے مکہ کے اطراف میں چکر لگارہے تھے۔ ان کی ملاقات حضرت عباسؓ سے ہوگئی تو ابوسفیان پوچھنے لگا یہ فوجیں کیسی ہیں؟حضرت عباسؓ نے فرمایا یہ عظیم فوج پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی ہے جو دس ہزار مسلح مسلمانوں کے ساتھ مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور صبح ہوتے ہی حملہ آور ہوں گے، جس کے نتیجے میں تم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔اس نے پوچھا اب ہمارے بچاؤ کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔

حضرت عباسؓ نے فرمایا تم میرے پیچھے سواری پر بیٹھ جاؤ اور چلو میں تمہیں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) سے کہہ کر امان دلوادوں گا۔جب حضرت عباسؓ ابوسفیان کولے کر لشکر اسلام کے درمیان سے گزرے توحضرت عمرؓ نے ابو سفیان کو دیکھ لیا اور بھاگتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے پاس پہنچے اور عرض کی اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کی گردن کاٹ دوں۔حضرت عباسؓ نے کہا اے حضرت عمرؓ اگر ابوسفیان تمہارے قبیلہ بنی عدی سے ہوتا تو تم کبھی ایسی بات نہ کہتے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت عباسؓ سے فرمایا آج کی رات تم اسے اپنے خیمے میں ٹھہراؤ کل صبح میرے پاس لے آنا۔چنانچہ دوسری صبح کو جب اُسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا: ”اے ابوسفیان تمہیں اب بھی معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔اُس نے کہا کہ اگر اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود ہوتا تو وُہ اس آڑے وقت میں میرے کام ضرور آتا“۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا:کیا تم نے ابھی تک نہیں پہچانا کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔اُس نے کہا اس بارے میں میرا ذہن صاف نہیں۔حضرت عباسؓ نے کہا اگر اپنی جان کی خیر چاہتے ہو تو اسلام قبول کر لو ورنہ کسی کے ہاتھ سے مارے جاؤ گے چنانچہ ابوسفیان نے کلمہ طیبہ پڑھ لیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

حضرت عباسؓ نے سفارش کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ابوسفیان مزاجاََ اعزازپسند ہے اِس لئے اسے کوئی امتیازی حیثیت دے کر اس کی دل جوئی کی جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے فرمایا جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے گا اس کے لئے امان ہے،جو مسجد حرام میں پناہ لے گا اس کے لئے امان ہے اور جواپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا اسے بھی امان ہے۔چنانچہ اسلام قبول کرنے کے بعد ابوسفیان تیزی سے مکہ پہنچا اور نہایت بلند آواز سے پُکارا: ”لوگو محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)“ ایک بہت بڑا لشکر جرارلے کر آرہے ہیں، تم لوگ مقابلہ نہیں کرسکتے لہٰذا جو ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے اسے امان ہے، یہ سُن کر اُس کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھی اور اس کی مونچھ پکڑ کر بولی مار ڈالو اس بوڑھے احمق کو۔ ابو سفیان نے کہا:۔یادرکھو اگر تم نے اسلا م قُبول کرنے میں ذرابھی دیر کی تو تمہاری گردن اُڑادی جائے گی اس صبح منگل 17رمضان المبارک 8ہجری رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) اور آپ کا لشکر مرالظہران سے مکہ روانہ ہوا۔ قریش ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کرنا چاہئے کہ چاروں طرف اسلام کے پرچم لہرانے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے مکہ کی فضا پر چھا گئے۔ حضرت علی ؓ ہاتھ میں پرچم لئے مکہ میں داخل ہوئے۔قریش مکہ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ مسلمانوں کے اس سیلاب کو روکتے لوگ دبک کربیٹھ گئے مگر حضرت خالد ؓبن ولید مکہ کے زیریں حصہ سے آگے بڑھتے وقت قبیلہ بنو بکر پر حملہ آور ہوگئے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے یہ دیکھا تو حکم فرمایا کہ اس کشت وخون کو فوراََ بند کیا جائے۔اس جھڑپ میں چوبیس یا بقول صاحب روضتہ الصفا ستر کفار مارے گئے۔الرحیق المختوم میں ہے کہ حضرت خالدؓ بن ولید کے ساتھیوں میں زین بن جابر فہری اور خنیس بن خالد بن ربیعہ شہید ہو گئے۔مشہور یہی ہے کہ تین مسلمان شہید ہوئے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)جب بالائی سے شہر مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ قصویٰ نامی اونٹنی پر سوار تھے۔اعزاز فتح پر فرط تواضع سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے اپنا سر مبارک جھکا رکھا تھا اور سورۃ فتح کی ابتدائی آیات تلاوت فرما رہے تھے اس کے بعد مسجد الحرام (خانہ کعبہ) کے اندر تشریف لائے حجر اسود کو چوما،بیت اللہ کا طواف کیا آپ حضرت علیؓ کو ہمراہ لے کر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے درودیوار پر بنی ہوئی فرشتوں اور نبیوں کی فرضی تصاویر کو مٹایا بیت اللہ کے گراور اس کی چھت پر360 بُت تھے آپ اپنی کمان سے ان بتوں کو ٹھوکر مارتے اور کہتے جاتے ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل مٹنے کے لئے ہی تھا۔(بنی اسرائیل آیت81)

”حق آگیا اور باطل نہ پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہے۔(السباء آیت49)“

اس کے بعد رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے قریش کے لوگوں سے فرمایا آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔اس کے بعد آپ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ حضرت علیؓ نے یابروایت دیگر حضرت عباسؓ نے عرض کیا حضور(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) حجاج کو پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ خانہ کعبہ کی کلید برداری کا اعزاز بھی عطا فرمادیجئے، مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) نے حضرت عثمانؓ بن طلحہ کو کنجی دیتے ہوئے فرمایا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لے لو اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے، لہٰذا اس بیت اللہ سے تمہیں جو کچھ ملے اسے معروف طریقے کے ساتھ کھانا۔پھر حضرت بلالؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)نے عام معافی کے اعلان کے باوجود سنگین جرائم کے مرتکب گیارہ مردوں اور چھ عورتوں کو قتل کرنے کاحکم دیا تھا ان کے نام یہ ہیں عکرمہ بن ابوجہل،صفوان بن اُمیہ، وحشی،عبداللہ بن ابی سرح،کعب بن زہیر، ہباربن اسود،عبداللہ بن زبعری،عبدالعزیٰ بن خطل،یقین بن خبابہ،حارث بن طلاطلہ،حویرث بن ثقیدیہ،ابتدائی سات اشخاص نے اسلام قبول کرلیا اور آخری چار قتل کردیئے گئے چھ عورتوں میں ہندزوجہ ابوسفیان،قرتنا،قریبہ، ارنب،سارہ اور اُم سعد تھیں۔ان میں آخری چار قتل کردی گئیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -